CIF INTERNATIONAL ASSOCIATION

العقيدة الإسلامية الصحيحة

 

 

 

 

احساسِستانِ اسدؔ  

مجموع کلام
 
 
حصہ اول  ۔  حمدِ باری تعالیٰ 
 
 
تصنیف
میر اسد اللہ شاہ قادری  اسدؔ

 
 

 
عرضِ حال
 
 

 

بِسم الله الرحمنِ الرحيم  

 الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين

 

  احساسستانِ اسدؔ  کی جلد اول  ۱۹۹۹  میں شایع ہوئی تھی ۔ اسکے بعد   ۲۰۱۷ میں اسکی جلد دوم کی اشاعت ہوئی جسمیں وہ کلام بھی شامل ہوا جو ۱۹۹۹ کے بعد لکھا گیا تھا ۔  چونکہ یہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے  قارئین  اِسے آن لائن بھی  پڑھ سکتے ہیں۔

اشعار میں جو لطف ہوتا یے وہ  نثر اور منطِق میں کہاں؟  آپکے پیشِ نظر وہ اشعار ہیں جو اللہ  اُسکے رسولﷺ اور اُنکے چاہنے والوں کی مدّح میں لکھے گئے ہیں ۔

صوفیا اور اولیا اللہ کے کلام کو پڑھنے سے پہلے کچھ چیزوں کا جاننا ضروری ہوتا ہے ۔  ان چیزوں کو یہاں مُختصراً بیاں کیا گیا ہے ۔ 

     مُشاکلہ / تشبیحہ دنیا کی ہر زبان میں ہے ۔  کلام اللہ میں بھی ہے ۔  قران میں آیاتِ مُتشابہات ہیں جنکا مطلب سہی طریقے پر سمجھنا ضروری ہے ۔  مُشاکلہ  ہر شاعر کے کلام میں ہوتا ہے ۔  جیسے شاعر اپنے محبوب کو چاند سے تشبیح دیتا ہے ۔ صوفیا  کے کلام میں بھی اکثر الفاظ کے اعتباری معنی لئے جاتے ہیں ۔  جیسے ’لطف مئے‘ سے مُراد  ’سُرورِ جوشِ محبت‘ اور میخانہ سے مُراد  مُرشِد کی محفل اور ساقئی مئے خانہ  سے مُراد شیخِ کامل اور رِند سے مُراد  ’مُرید‘ ہوتے ہیں ۔ یہ اِس لئے کے شیخِ کامِل اپنی توجھ سے مُریدوں کے دلوں میں عشقِ مُحمدیﷺ کی شمع کو روشن کرتا ہے ۔

 تیری چال بڑی ہے مستانہ  آنکھوں سے شراب برستی ہے
ائے ساقئِ  میخانہ  تجھ سے مئے ناز کی موج نکلتی ہے

یہ بزمِ مئے عرفاں ہے جہاں کی رسائی بڑی ایک نعمت ہے
یہ شرابِ محبت ہے زاھد ، جس میں ہے عُلو ، نہ کہ پستی ہے

مَستوں کی یہ بستی کے صدقے ، خالدؒ تیری آنکھوں کے قرباں
تیری بحرِ معارف کی ساقی ، کوئی حد ہے نہ تہہ کبھی ملتی ہے

 

صوفیا / اولیا اللہ جب ’عبد‘ یا ’بندہ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو کہیں اسکے لفظی معنی ’بندہ خدا‘ کے لیتے ہیں تو کہیں اعتباری معنی ’غلام‘ کے لیتے ہیں ۔

احسان نبی ﷺ کا ہے اسدؔ بندہٴِ حضرت ﷺ
ہو چشمِ  عنایت  بنوں  دربانِ  محمد ﷺ

اسدؔ ہے بندہٴِ حضرت ﷺ دیوانہ آپکا شیدا
مقدر نے بنایا مجھکو پروانہ محمد ﷺ کا 
 

لفظ  ’سجدہ ‘  کے عام فہم  لفظی معنی ’سجدہ عبادت‘ لئے جاتے ہیں ۔ صوفیا کہیں اسکے لفظی معنی لیتے ہیں اور کہیں اعتباری معنی  ’فرطہ محبت میں قدم بوسی‘  پا بوسی  یا  انتہائی ادب و عاجزی میں سر جھکانے یا پیر چھونے کے لیتے ہیں۔  جیسا کہ احادیث میں آیا ہے کہ صحابہ‘  رسول اکرم صلى الله عليه و آله وسلم کی قدم بوسی کیا کرتے تھے ۔   اسیطرح سے الفاظ  ’سگ‘ اور ’کتا‘  ہیں ۔ صوفیا  اپنے کلام میں  اسکے اعتباری معنی ’وفادار اور خدمت گزار غلام‘  کے لیتے ہیں ۔

تمھارے ہی تصوّر میں درِ اقدس پہ سر رکھ کے
سگِ در آپکا دامن پسارا  یا رسول اللہ ﷺ

ذرّہٴِ نا چیز ہوں   پیوندِ  خاکِ آستاں
ہوں سگِ در آپکا  میری طرف بھی دیکھنا
 
ایک اور لفظ  ’مولی‘ ہے جسکے اعتباری معنی ’آقا‘ کے بھی ہیں ۔  بیسیوں الفاظ جو اشعار کے زینت میں اضافہ کرتے ہیں اُنکے معنوں کی ہمکو تاویل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔  اِن چیزوں کو سمجھکر پڑھنے سے اشعار کا لُطف دوبالہ ہوجاتا ہے اور نہ سمجھنے سے اعتراضات کا میدانِ گرم ہوجاتا ہے ۔

 

ایک اور مشئلہ توحید اور حقیقتِ محمدی ﷺ  ہے جسکو  مختصراً بیان کرنا ضروری ہے ۔ اِن مسائل کو   جاننے سے اولیا اور صوفیا کے کلام کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے ۔
 
 
توحید اور حقیقتِ محمدی ﷺ 
 
        اسلام میں نظریہ توحید بلکل واضح ہے ۔  شریعت بلکل صاف ہے ۔ اسمیں کوئی دو رائے نہیں ۔  سوال آدمی کی نظر کا  ہوتا ہے ٴ جسکی جیسی نظر اُسکا ویسا ہی فہم ہوتا ہے ۔  جولوگ اللہ سے غافل ہیں اُنکی نظر میں بندہ ایک حقیقی شئے ہے اور اللہ خیالی ۔ لیکن حق پرست عارفین جو بفضلِ الہی حقائق کو جانتے ہیں اُنکی نظر میں بندہ کی دو جہتیں ہیں ۔  ایک جہت الی الرب اور دوسری جہت الی الخلق ۔  عارف ،  بندہ کو بندہ ضرور جانتا ہے مگر اُسکی نظر وہاں ہوتی ہے جہاں سے وہ آیا ہے ۔  عارف کی نظر میں ہر شئے علمِ الہی سے آئی ہے ۔ اسکی نظریں  ذاتِ الہی  پرمرکوز ہیں ۔  اِسکے لئے  ما سوا حق سب کچھ نا قابلِ توجھ  ہے ‘ خیالی ہے ۔

                دنیا میں حق پرست عارف بہت ہی  کم ہوتے ہیں ۔  جسطرح سے ایک سائنسدان یا فلاسفر کی باتیں ایک عام  آدمی کی سمجھ کے باہر ہوتی ہیں اِسی طرح ایک حق پرست عارف کا کلام بھی فہمِ عامہ سے بالاتر ہوتا ہے ۔

                وجود با الذات حق تعالیٰ ہے ۔  ما سوا اللہ کے وجود کے سب کچھ انتزاعی ہے ، خیالی ہے ، نا قابلِ توجھ ہے ، عدم ہے ۔  وجودِ مُطلق  اللہ  میں منحصر ہے جو خیرِمحض ہے ۔   وجودِ اضافی یا وجودِ انتزاعی  کے ساتھ عدمِ اضافی لگا ہوا ہے ۔  لہٰذہ بندوں سے کچھ خیر اور کچھ شر ظاہر ہوتا ہے ۔

                  اللہ تعالیٰ کے دو اعتباری تعینات ہیں ۔  ایک تعینِ ذاتی جس میں مخلوقات کو دخل نہیں ۔  دوسرا تعیّن با اعتبارِ اسماء و صفات ہے ۔  اس تعین  کے مظہر علمِ الٰہی میں اعیانِ ثابتہ ہیں ۔  اور اعیانِ ثابتہ کے مظہر خارج  میں آپ اور ہم ہیں ۔

            اعیانِ ثابتہ  کیا ہیں ؟  بندوں کی جو حقیقت علمِ الہی میں اللہ کو معلوم ہے اُنکو اعیانِ ثابتہ کہتے ہیں ۔  ہر بندے کی یا ہر شئے کی ایک حقیقت ہے جِسکا علم اللہ کو ہے ۔  اِس حقیقت کو عینِ ثابتہ کہتے ہیں ۔ عین ثابتہ کی جمع  اعیانِ ثابتہ ہے ۔ یعنی کاینات کی تمام  اشیاء کے جملہ حقائق کو اعیانِ ثابتہ کہتے ہیں ۔  اِن تمام اعیانِ ثابتہ کی جو کُلّی شکل ہے یا جو انکا  مبدہ  ہے  اُ سکو عینُ الاعیان کہتے ہیں ۔ عینُ الاعیان کا دوسرا نام  حقیقتِ محمدی ﷺ ہے ۔

        کیا آپ نے کبھی غور کیا یہ کائنات ظہور میں کیسے آئی ؟  جب اللہ کسی شئے کی حقیقت پر اپنے اسماء و صفات کی تجلی فرماتا ہے تو وہ شئے پیدا ہوجاتی ہے ۔ اسکو اللہ  نے قرآن میں کُنْ فیکن فرمایا ۔   اللہ کی تجلیات ، حقائق اشیاء کے مطابق ہوتی ہیں ۔  عینُ الاعیان  یا حقیقتِ محمدی ﷺ   پر اللہ کی جو  تجلی جلوہ فرما ہے اُسکو تجلّی اعظم  کہتے ہیں ۔ تجلیِ اعظم  اور حقیقتِ محمدی ﷺ   کے مجموع سے جو چیز وجود میں آئی اِسکو کائنات کہتے ہیں ۔  کائنات کو اِنسانِ کُلی بھی کہا جاتا ہے ۔

        اِن حقائق کو سمجھنا اور محسوس کرنا  آسان نہیں ۔  اسکے لئے ایک  شیخ کامل کی صحبت ، اُسکی توجھ  اور  نگرانی میں ایک طویل مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تب جاکر یہ حقائق آہستہ آہستہ کُھلتے ہیں ۔  ۔

        حقیقتِ محمدیﷺ وہ اعتبارِ وحدت یا نفسِ واحدہ ہے جس سے تمام کائنات کا وجود عمل میں آیا ۔  رسولِ کریم ﷺ کو جب بھی خیرُالبشر یا انسان کہا جاتا ہے تو اُس سے مُراد انسانِ کُلّی یا انسانِ کامل بِا الذات یا تجلّی اعظم  ہے جسکے مظاہر انسانِ جزّی یعنی آپ اور ہم ہیں ۔  رسولِ اکرم ﷺ اِس نوعِ انسانی کے کامل ترین فرد ہیں ۔  لہٰذہ حقیقتاً نبوّت آپ سے شروع ہوئی اور آپ پر ختم ہوئی ۔  آپ اُسوقت بھی نبی تھے جب آدم علیہ السلام آب و گُل میں تھے ۔  پھر اپنی خلقتِ عُنصری کے لحاظ سے آپ خاتم النبیّن ہیں ۔  یہی وجھ ہے کے رسول اللہ ﷺ اپنے رب پر پہلی دلیل ہیں ۔  رسول اللہ ﷺ کے علاوہ جتنے بھی افراد ہیں وہ سب آپ سے صادر ہیں ۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے  الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ۔ سورة النساء ۔ ۱

        انسانِ جزّی میں بھی بعض مظاہر ناقص ہوتے ہیں تو بعض خاص ۔  ہر زمانے میں ایک مظہرِ تام ہوتا ہے جسکو غوث ، قطب الاقطاب یا مرکزِ تجلی کہتے ہیں ۔  یہ رسول اللہ ﷺ کا پَرتَو با اعتبارِ کُلِّیت ہوتا ہے اور اسکو انسانِ کامل  بِاالعرض کہتے ہین ۔  رسول اللہ ﷺ کے صدقے میں یہ مرکزِ نظرِ الٰہی ہوتا ہے ۔

        راز کی بات یہ ہے کہ سوائے انسان کے کسی پر فنائیت نہیں آتی اور جب تک فنائیت نہیں آتی ان باتوں کو سمجھنا اور محسوس کرنا خارج از امکان ہے ۔  فنا کیا ہے ؟   بندے پر فضلِ الٰہی سے ایک ایسا وقت آتا ہے جب اللہ کا وجود اسکے اپنے وجود پر غالب آجاتا ہے ۔  اس حالت کو فنا کہتے ہیں ۔  فنا کے وقت جہتِ عبد  مُضمحل و نابود ہوجایی ہے ۔
         
         یہ اُنکا کرم ہے انکی عطا ، ہر شئے میں انہیں جو پا تے ہیں
        احساس یہ انکا بڑھ بڑھ کر ، ہم خود ھی کہیں کھو جاتے ہیں

        پھر  اُنکی  انا  قائم  جو  ہماری  ہستی  پر   ہوجاتی  ہے
        معلوم نہیں ، نہیں ہم کو پتہ ، ہم کیا سے کیا ہوجاتے ہیں

        بنا انکا  سراپا  حال  میرا ،  بنا  ایک  تماشہ  میں  انکا
        مجھکو وہ مٹاکے ہستی سے ، باقی خود ہی رہجاتے ہیں
        
        جب کیفیتِ فنا ہٹتی ہے تو اسکو بقا کہتے ہیں ۔  بقا وہ حالت ہے جسمیں بندہ ،  اللہ کے سوا نہ کسی کا فعل دیکھتا ہے اور نہ صفت ۔ اس کیفیت کو مُشاہدا  یا استحضارِحق بھی کہتے ہیں ۔
 
         کسی کی رُونمائی کا  اُٹھا  پردہ  ذرا  دیکھو
        جہاں کے ذرّہ ذرّہ میں وہ ہے جلوہ نُما دیکھو

        نئی ایک شان ہے اُسکی ، نئی ایک آن ہے اُسکی
        ہر ایک پل اور ہر لمحہ ہے اُس سے سامنا  دیکھو

        اثر اُنکی معیّت کا ہوا ہے کس قدر ہم پر
        بھری محفل میں بھی سب سے  پرے رہنا  ذرا  دیکھو
        
        حالتِ بقا میں بندے کو عبدِ کامل کہتے ہیں ۔ جب بندہ عبدِ کامل ہے تو وہ تجلی گاہِ حق ہوگا ۔ یہی وجھ  ہے کہ صوفیا  اپنے شیوخ کو تجلّی گاہِ حق دیکھتے ہیں ۔

        ائے شہہ عزت پیاؒ  تیری بڑی سرکار ہے
        مظہرِ  خیرُالوریٰ  تُو  سیدِ   ابرار  ہے

        جلوہِٴ رحماں فرش پر تیری صورت سے عیاں
        صورتِ جاناں سے تاباں بس وہی دلدار ہے
        
        اللہ کا مشاہدا بہ اعتبارِ اسماء و صفات ہی ممکن ہے ۔  ذاتِ حق کا مشاہدا مادّہ میں اور اشکال و امثال میں ہوسکتا ہے۔  ان سے ہٹ کر نہیں ہوسکتا ۔  اسکی وجھ یہ ہے کے ذاتِ الٰہی کا جو اعتبارِ ذاتی ہے وہ   لَا تُدرِکُہُ الاَبصَار  ہے ۔ یعنی کوئی آنکھ ذاتِ الٰہی کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔  اللہ کے اسماء و صفات کے مظاہرِ داخلی  اعیانِ ثابتہ ہین جنکے مظاہر عالمِ شہادت میں آپ اور ہم ہیں ۔

        یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ ہم آپ اور دنیا ہر شئے جلوہ گاہِ  رُبوبیت  ہے ۔  ربّ اسمِ الہی ہے جو اللہ کی قوت عطا کو ظاہر کرتا ہے ۔ اِس کائنات کی ہر چیز  پر شانِ رُبوبیت  کی تجلّی ہے جواُسکو اُسکی حقیقت کے لحاظ سے جُدا جدا ظاہر کرتی ہے ۔  رب ایک ہی ہے مگرہر شئے کی نسبت  اُس سے جدا ہے ۔   اللہ جو اِن تمام عالَموں کا رب ہے جو اِن تمام اشیاء کا مبدہ ہے اُسکے لئے معبودیت ہے ۔  وہی  حقیقی الہ یے ۔
        
        سمجھ کا پھیر ہے اُنکی جو ہر شئے کو خدا سمجھے
        وہی انسان کامل ہے خدا کو جو خدا سمجھے

        خدا بندہ نہیں ہوتا ، نہ ہے بندہ خدا ہرگز
        جو تم اب بھی نہ سمجھو تو تمھارے کو خدا سمجھے

        خالدؒ

        ذاتِ حق کے مرتبہ وحدت کو حقیقتِ محمدیﷺ کہتے ہیں ۔  حقیقتِ محمدیﷺ وہ مرکب ہے جو تجلی اعظم حق اور عین الاعیان کے ملنے سے بنا ۔ تجلی اعظم حق کو نُورِ محمدی ﷺ  اور عین الاعیان کو حقیقتِ محمدی ﷺ  کہتے ہیں ۔  تمام کائنات کی اشیاء ، جن میں بنی نوع اِنسانی بھی شامل ہے، اِسی مرکب کی تفصیل یا اِسی کُلّیت کی جُزّیات ہیں ۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ موجود خارج اعظم یا  یہ کائنات  رسول ﷺ کے لبادے میں ملبوس ہے ۔  کاینات کی ہر شئے پر تجلّی الہی اُسکی حقیقت کے حساب سے  جلوہ فِگن  ہوتی ہے ۔  اِس لحاظ سے حقیقتِ رسولﷺ ،  اللہ اور اسکے بندوں کے بیچ بہت بڑے آئینہ کا کام کرتی ہے ۔  اور یہی وہ آئینہ ہے جسمیں ذاتِ حق کا کامل دیدار ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے کہتے ہین کہ  جس نے رسول ﷺ کو دیکھا اُس نے یقیناً خدا کو دیکھا ۔
        
        ہے حسنِ ازل تاباں جلوے میں محمدﷺ کے
        ظاہر ہے مُحب خود ہی محبوب کی صورت ہے

        مخفی تھا ہوا وہ عیاں تیری ذاتِ مقدس سے
        اُس گنجِ خِفیٰ کے تُو بس ایک شہادت ہے
        
        جس کسی نے ذاتِ حق کو تمام شہودات کا مرجع جانا ۔ یعنی اصل و حقیقت کو ذات سمجھا اور اسطرح معرفت حاصل کی کے خود کو بھی تجلّی گاہِ حق سمجھا اور معلومِ الٰہی پر، پَرتَوِ وجودِ مُطلق دیکھا تو بے شک اُس نے رب کو پہچانا ۔  اـسکو معرفتِ حق نصیب ہوئی اور مَنْ عَرَفَ نَفْسهُ فَقَد عَرَفَہ رَبّهُ  کو پایا ۔

         تُو ہے معبودِ حقیقی تُو اِلٰہ ہے سب کا
        ہر تعین کی نفی ہی میں ہے رستہ تیرا

        شانِ تنزیہ تیری اور ہے تشبیھ  تیری
        غیبِ مُطلق میں تُو  اِمکان ہے جلسہ تیرا

        نِت نئے رنگ میں ہر پل ہے نئی شان میں تُو
        تُجھ کو پہچانتا ہے خوب شناسہ تیرا

        حق پرست عارف کی چشمِ باطن (دلکی آنکھ) روشن اور چشمِ ظاہر (جسم کی آنکھ) معطّل ہوجاتی ہے ۔  اسی لئے  دنیا میں رہتے ہوئے بھی  اُسکو سوائے حق کے کچھ بھی نظرنہیں آتا ۔  برخلاف اسکے چشمِ ظاہر، ظاہر کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھ سکتی ۔  یہی وجھ ہے کہ علمائے ظاہر، متکلّمین ، اِسلامک اسکالرس میں کسی نے بھی حقیقتِ نفس کو نہ پہچانا ۔  اسیطرح  اربابِ نظر اور اربابِ فکر ان میں سے کسی نے بھی  معرفتِ نفس کو نہ پایا ۔ وہ مجبور ہیں ۔ نظرِفکری اُن پر بہت بڑا حجاب بن گئی ہے ۔  برعکس اِسکے علمائے الٰہین پیغمبروں نے ، حق پرست عارفوں نے ، اکابر اولیا اور صحیح العقیدہ  صوفیا نے حقیقتِ نفس کو دریافت کرلیا اور اپنے رب کو پہچان لیا ۔
 
        کون و امکاں میں نہیں کوئی بھی انجانہ تیرا
        رنگ لایا ہے میرے دل میں سما جانا تیرا

        ہر تعین سے نمایاں ، ہر تقید سے عیاں
        حیرت افزا ہے میرے یوں سامنے آنا تیرا

        ذرّہ ذرّہ سے تیری خوشبو مہکتی ہے یہاں
        دنگ کرتا ہے ہر ایک شئے سے اُبھر آنا تیرا
    
        اس موضوع کی تفصیلات کو اگر آپ انگریزی میں سمجھنا چاہیں تو  یہاں کلک کریں ۔

 

 
احساسستانِ اسدؔ کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔  حصہ اول حمدِ باری تعالٰی ،  حصہ دوم  نعتِ نبی ﷺ ، حصہ سوم  مُناقب اولیا اللہ اور حصہ چہارم  غزلیات اور متفرق کلام پر مُشتمل ہے ۔
  کلام میں آپکو بے باکی اور بندش میں انفرادیت ملیگی ۔  ایسا لگیگا کہ دلکی آواز کو من و عن قلمبند کیا گیا ہے ۔  اشعار میں مئے محبت کے میخواروں کو بیش بہا دریائے اُنس ملیں گے ۔ سادگی ڈھونڈنے والوں کو سادگی ملیگی ۔ اگرآپ سخن شناس ہیں اورآپ کو کلام میں خوبیاں نظرآئیں تو محظوظ ہوں اور دعائے خیر کریں ۔

  

میر اسد اللہ قادری                                                   

 

 
 
 
حصہ اول

حمدِ باری تعالیٰ

 

 (1)

 

 ائے حُسنِ آفرینِ مَن تُو میری جان میں بھی آ
بیتاب ہے دلِ حزیں تُو اس مکان میں بھی آ

اپنوں سے دور کب تلک آجا خدارا اِسطرف
ائے شانِ ذاتِ سرمدی اب تُو زمان میں بھی آ

کیوں ہے چھپا ہوا میرے تُو پردہِؑ خیال میں
وہم و گمان سے نکل نام و نشان میں بھی آ

مدت سے ہوں میں بے قرار ہر پل ہے تیرا انتظار
آجا سکونِ دل میں آ   راحتِ جان میں بھی آ

تیرے لئے ہے دل میرا  تیرا یہ گھر ہے برملا
کیوں دور اپنے گھر سے ہے  اپنے مکان میں بھی آ

دل کو میرے دے وہ وسعت  تجھکو بھی جو سما سکے
اِس عرش پر بِراجمان  اِس آسمان میں بھی آ

آنکھوں میں تُو سما میرے  دل میں بس ایک تُو بسے
بنکے اسدؔ کی زندگی  اِس جسم و جاں میں بھی آ

 

 

 (2)

 

دل میں اُسکو بساؤری  پیا ہے پیارا ، اللہ ہے پیارا
اُس میں گُم ہوجاؤری   پیا ہے پیارا ، اللہ ہے پیارا

نین مِلاکے اُس پریتم سے
سُدھ بُدھ اپنی گنؤاری  پیا ہے پیارا ، اللہ ہے پیارا

بِن مانگے سب تمکو ملیگا
اُسکے تم ہوجاؤری  پیا ہے پیارا ، اللہ ہے پیارا

غیرِ خدا کو دل سے بُھلاکے
خود میں اُسکا پاؤ ری   پیا ہے پیارا ، اللہ ہے پیارا

کب تک دوری اُس ساجن سے
دوڑ لِپٹ تم جاؤری  پیا ہے پیارا ، اللہ ہے پیارا

چھوکے چرن اُس من موہن کے
جیسے بھی ہو تم مناؤری  پیا ہے پیارا ، اللہ ہے پیارا

کب تک اسدؔ تم شرماؤگے
اُسکے گلے لگ جاؤری  پیا ہے پیارا ، اللہ ہے پیارا

 

 

  (3)

 

تمھاری شانِ رحمت کو یہاں بے انتہا  دیکھا
جہاں کے ذرّے ذرّے کو میں رحمت میں چُھپا دیکھا

عجب شانِ عنایت ہے  عجب شانِ کریمی ہے
ہمیشہ اپنے دامن میں طلب سے بھی سِوا دیکھا 

ملے دونوں جہاں مجھکو تمھاری نظرِ رحمت سے
میرے دستِ طلب میں آپکا دستِ عطا دیکھا

احد و عادل و قھّار و قدوس و صمد بھی ہیں
مگر میں آپکی حِکمت میں رحمت کاملا دیکھا

طبیعت لاؤبالی ہے ، عطا ہے عادتِ عالی
تمھیں ائے خیرِمطلق میں محبت سے بھرا دیکھا

محمد مصطفیٰﷺ ہیں کون میں پہچان اللہ کی
جو دہکھا مصطفیٰﷺ کو اُس نے حق کو برملا دیکھا

طفیلِ حضرتِ خالدؒ  محمدﷺ مِل گئے مجھکو
اسدؔ جیسے دیوانے پر بڑا فضلِ خدا دیکھا

 

 

 

(4)

 

 جب ہُوا  احساس مجھکو وہ  ہُویدا  ہوگیا
بندہ  قیدِ  بندگی میں اُسکا  جلوہ  ہو گیا

ہر تقیُّد میں بسا  وہ  ہر تعین سے عیاں
ذرّہ  ذرّہ  سے نمایاں  وہ  مُنزّہ  ہوگیا

غیر کوئی بھی نہیں تیرا تو پھر تیرے سوا
کون ہے ظاہر یہاں اور کون  اِخفا  ہوگیا

باعثِ تخلیقِ کُل بس اک نمائش ہے تیری
آئینہ خانے میں تُو محوِ  تماشہ  ہوگیا 

غیریت ممکن نہیں یہ بزمِ عینِ ذات ہے
ہر تعین کے انا سے تمکو دھوکا ہوگیا

خوہشیں اپنی مٹیں ناکامیوں کا غم نہیں
ہے خوشی مجھکو تیرا منشا تو پورا ہوگیا

پیر کے صدقے اسدؔ یہ خود فراموشی ہوئی
تمکو  وہ  اپنا  بناکے  وہ  تمھارا  ہوگیا

 

 

 (5)

 

وہم و گماں سے دور ہے فہمِ  بشر سے دور
رہتا ہے لامکاں میں وہ  قیدِ  نظر سے دور

محوِ خیالِ  یار نے  یوں مست  کرد یا
ہوں ہر مکاں سے دور  ہر اک رہگزر سے دور

جِن و مَلک سے دور ہُوا ہر بشر سے دور
رنج و خوشی سے دور ہُوا  ہر اثر سے دور

ڈھونڈا  کیا میں خود کو تیری کائنات میں
لگتا  ہے  کھوگیا  کہیں  حدِّ  نظر  سے دور

تھا  ڈھونڈتا  پھرتا  میں  اُسے  آسمان  میں
رہتا نہیں ہے وہ میرے قلب و جگر سے دور

نکلا  وہ  با وفا  تھا   چُھپا  مجھ  ہی  میں کہیں
میں بے وفا تھا سمجھا جو اُسکو بصر سے دور

رنگ روپ دیا پیر نے سانچے میں ڈھال کے
ہونے  دیا  اسدؔ  کو  نہ  اپنی  نظر  سے  دور

 

 

 (6)

 

تائید ہو تیری تو میں فصلِ بہار ہوں
تُو پشت پر نہیں تو حَجر ہوں میں خار ہوں

پابندیٴِ بقا ہے یہاں پر فنا کے ساتھ
عجز و نیازِ وصل میں تجھ  پر نثار ہوں

میرے خیال پر تیرا منشا مُحیط  ہے
اِس اختیار میں بھی میں بے اختیار ہوں

معقول میں ہوں اصل تُو محسوس ہے یہاں
اِس اعتبار میں بھی میں بے اعتبار ہوں

مستِ جنوں ہوں ہوش و خِرد سے بعید ہوں
اہلِ  نظر  کے سامنے میں  ہوشیار  ہوں

دشتِ جنوں کی چھوڑ دے  پیمائشِ  زُھد
ذاھد تُو جانتا ہے کے میں بادہ خوار ہوں

ہے  بندہٴِ  عاجز اسدؔ  پروانہٴِ  رسول ﷺ
اُن پر فدا سدا سے میں پروانہ وار ہوں

 

 

 (7)

 

سبق توحید کا ہے میں نہیں ہوں
وہ خود حمدِ سَرا ہے میں نہیں ہوں

مُقیمِ لا مکاں  ہر اک مکاں میں
وہی جلوہ نُما ہے میں نہیں ہوں

ہیں عِلمِ حق کے یہ اطوار سارے
وہی ہر ایک جا ہے میں نہیں ہوں

صِفات اُسکے بنے آئینہ خانہ
وہ خود کو دیکھتا ہے میں نہیں ہوں

دوئی کیسے یہ بزمِ عینِ حق ہے
وہی ظاہر ہوا ہے میں نہیں ہوں

نہیں ہے غیرِحق کوئی بھی صورت
شہود اُس ذات کا ہے میں نہیں ہوں

اسدؔ  ہے  منشاء  ذاتِ  اِلٰہی
وہی مجھ میں بسا ہے میں نہیں ہوں
 

 

 

 (8)

 

ایک بار یارکوئی آیا  تیری گلی میں
اپنا پتہ نہیں پھر پایا  تیری گلی میں

آساں نہیں ہے ملنا رستہ تیری گلی کا
چاہا جسے تُو اُسکو پایا  تیری گلی میں

رو روکے مِنّتیں میں کرتا ریا ہوں کب سے
نالہ میرا تھا  پہلے  پہنچا  تیری گلی میں

چپکے سے مجھکو اپنے ائے جاں گلے لگا لے
اُلفت کا اپنی ہو نہ  چرچا  تیری گلی میں

بحرِ حزیں کا طوفاں تھمتا نہیں ہے دلمیں
آنسو بہے نہ بنکے دریا تیری گلی میں

تیرے لئے بنا ہوں اِتنا خیال تو ہے
بھولا ہوں گرچہ خود کا نقشہ تیری گلی میں

ہم تم جو مل گئے اب ہرگز نہ دور ہونگے
آؤ کریں یہ مِل کر وعدہ  تیری گلی میں

محفوظ مجھکو کرلے دنیا کی رنجشوں سے
تیرے لئے ہو جینا  مرنا تیری گلی میں

خشیہ سے دل اسدؔ کا ہے پاش پاش یا رب
در پر تیرے کھڑا ہے بندہ تیری گلی میں

 

 

 (9)

 

کون و مکاں میں یار کا جلوہ میرے آگے
وہ حسنِ ازل ہے  وہی  پیارا میرے آگے

تُو لاکھ بدل روپ گرا سینکڑوں پردے
پر روپ ہے تیرا ہی سراپا میرے آگے

پر ایک تعین میں جُدا  شان ہے تیری
ہر رنگ میں ہے تیرا تماشہ میرے آگے

دونوں جہاں میں تجھ سے جُدا  کون ہے بھلا
ہر شئے میں ہے تیرا ہی ہو نقشہ میرے آگے

جیتا ہوں میں مرتا ہوں تیری چشمِ کرم سے
ہر حال میں ہے یار کا منشا میرے آگے

نورِ محمدیﷺ  ہی  اصل  کائنات  ہے
نورِ نبیﷺ کا ہے وہ اُجالا میرے آگے

چشمِ کرم  نے تیری  یگانہ  کیا  مجھے
قرباں تیرے اسدؔ  تُو ہے پیارا میرے آگے

 

 

  (10)

 

راز ذاتِ  وحدت کا ہم  پہ  آشکارا  ہے
پھیر لی نظر خود سے حق کا ہی نظارہ ہے

لامکاں مُقام اُسکا دور ہر تعین سے
بحرِ شانِ وحدت کی حد ہے نہ کِنارا ہے

ڈھونڈنا بہت مشکل اُسکر آسمانوں میں
شکلِ پیر میں زاھد وہ فقط ہمارا ہے

عجزِ بندگی لازم شیوہٴِ  فقیری ہے
اعترافِ لغزش نے فُقر کو نکھارا ہے

روئے حق نُمایاں ہے مظہرِ اتم لیکر
شکلِ مصطفیٰﷺ میں وہ کون کا سہارا ہے

چھوڑ کر جہاں میں نبیﷺ آیا تیرے قدموں میں
تُو قبول فرمالے مجھکو تُو پیارا ہے

ہے اسدؔ بہت کمتر ادنیٰ اُمتی تیرا
ساری زندگی میں نے تجھکو ہی پکارا ہے

 

 

(11)

 

 نُمایاں  ذرّہ  ذرّہ  سے منزّہ  ذاتِ  والا  ہے
یہ  قیدِ  بندگی میرا حقیقت  ہی  کا نقشہ ہے

شُہود و غیبِ مطلق میں تیری ذاتِ گِرامی ہے
نُمودِ  بندگی  میرا  يقينًا   تیرا منشا  ہے

فنا سے تُو  ہُوا ثابت ،  بقا تجھکو ہی ثابت ہے
تیری اِس راہ  میں بندہ  يقينًا  ایک  معمّہ  ہے

نہیں ہوں میں ، نہ ہے کچھ بھی ، یہ سب آثار تیرے ہیں
ہر اک وابستہ ہے تجھ سے ، تُو ہر شئے سے مُبرّہ ہے

محمد مصطفیٰﷺ ہے نام اُس موجودِ اعظم کا
کسی کا وہ سراپا ہے، کوئی اُسکا سراپا ہے

طفیلِ پیرِ لاثانی ، تصدق میں محمدﷺ کے
حِجابِ ما و مَن سے ماورا بندہ تمھارا ہے

 

 

(12)
 

 دونوں عالم کی ہر ایک شئے میں ہے جلوہ تیرا
خود ہی کھوجائے یہاں ڈھونڈ نے والا تیرا

لامکاں ہی نہیں ہے کون بھی تجھ سے قائم
خارج امکان سے ہے مرتبہ اعلیٰ تیرا

تیری تقدیم میں کوئی نہیں شامل تیرا
بزمِ حادث ہے مگر خوب تماشہ تیرا

تُو ہے معبودِ حقیقی تُو الہٰ ہے سب کا
ہر تعین کی نفی ہی میں ہے رستہ تیرا

شانِ تنزیہ تیری اور ہے تشبیھ  تیری
غیبِ مُطلق میں تُو  اِمکان ہے جلسہ تیرا

نِت نئے رنگ میں ہر پل ہے نئی شان میں تُو
تجھکو پہچانتا ہے خوب شناسہ تیرا

ہر تقیّد سے وہ اطلاق کو پالیتا ہے
چشمِ بینا پہ بہت صاف ہے جلوہ تیرا

میں ہوں یہ بھی ہے سہی ، میں نہیں یہ بھی ہے سہی
میرے پردے میں یہ ایک راز ہے اِخفا تیرا

دل تیرا  جان تیری  میرا ہے سب کچھ  تیرا
جسکو کہتے ہیں اسدؔ  وہ ہے سراپا  تیرا

 

 

 

(13)

 

آگ اُلفت کی میرے دلمیں لگاتے کیوں ہو
دور ہی دور سے یوں آنکھ  لڑاتے کیوں ہو

چاہنے والے پہ اتنا بھی ستم ٹھیک نہیں
پاس اپنے کےبھلا تم نہیں آتے کیوں ہو

میرے جینے کا فقط ایک سہارا تم ہو
اپنے دیوانے سے تم دور ہی جاتے کیوں ہو

دل کے منڈپ ہے سجی آؤ بِراجو اِسمیں
عرش پر اپنا  تنہا  وقت  بتاتے کیوں ہو

آؤ آنکھوں میں سماؤ میرے دلمیں آؤ
آ بھی جاؤ یوں محبت میں رُلاتے کیوں ہو

مول لیں ساری بلائیں تیری اُلفت کے لئے
بے نیازی کے سدا تیر چلاتے کیوں ہو

دل لیا ، جان بھی لو ، میرا سبھی کچھ لے لو
اپنے پہلو سے مگر مجھکو اُٹھاتے کیوں ہو

میری ہر سونچ پہ ، حرکت پہ پکڑلیتے ہو
مجھکو تلوار کے سائے میں چلاتے کیوں ہو

دردِ اُلفت کو میرے دلمیں بڑھانے والے
ھائے تم اپنے اسدؔ کو یوں دُکھاتے کیوں ہو

  

 

(14)


یوں ہی بڑھتا گیا ہے زندگی کا کارواں اپنا
وہ لیتے ہیں ھمیشہ ہر قدم پر امتحاں اپنا

خلوصِ دل کو ایماں کو پرکھتے ہیں پر اک لمحہ
کُھلا ہے اُن پہ روشن ہے یہ حالِ بے زباں اپنا

وہ دل کو توڑتے ہیں، جوڑتے ہیں سَو دفع دن میں
مِٹاتے ہیں صفِ ہستی سے وہ احساسِ جاں اپنا

مزے کی بات ہے ہر امتحاں میں فیل ہوتا ہوں
میری کوشش سے کوئی کام ہوتا ہے کہاں اپنا

وہ رحمت سے کریمی سے وہاں بھی پاس کرتے ہیں
جہاں پر پاس ہونے کا نہ تھا وہم و گماں اپنا

ڈھکیلا جاتا ہے مجھکو نشاناتِ رعایت سے
خدا کے پاس کا ہے میتظم خالد میاں اپنا

مجھے فضلِ خدا سے مل گیا صدقہ محمدﷺ کا
بنا ہے حاکمِ اعلیٰ سخئ انس و جاں اپنا

کوئی کھٹکا نہں باقی نہ دنیا کا نہ عقبیٰ کا
مکینِ لا مکاں خود ہی بنا ہے پاسباں اپنا

سوائے اک دلِ عاجز اسدؔ  کچھ  بھی نہیں میرا

اُسے بھی لے لیا وہ خوبرو جانِ جہاں اپنا

 

 

(15)

 

 سمجھ میں آنہیں سکتا کہ وہ رازِ نِہاں ہوں میں
کہ قیدِ بندگی میں بھی بڑی اک داستاں ہوں میں

ہوں ظاہر اِسطرح  کہ خود  ہی  پردہ  بن  گیا  اپنا
ذرا تم غور سے دیکھو تو پھر حالِ زباں ہوں میں

معمّہ    بن   گیا   میں   آپ    اپنا   اس   تعین   میں
حدوثِ عارضی میں تو بس اک وہم و گماں ہوں میں

مجھے پہچان لو میں کون ہوں ،  جانو  حقیقت کو
سراپا ہوں میں آپ اپنا ، خود ہی جلوا  کُناں  ہوں میں

یہ  جسمِ  عارضی  میرا  ہے   یہ  صورت  بھی  میری  ہے
چھپا ہوں اِس میں میں خود ھی ، خود ھی اِس سے عیاں ہوں میں

نہ کچھ تھا تو بھی میں ہی تھا ، سبھی کچھ ہے وہ میں ہی ہوں
ہر  اک   شئے  سے نمایاں  ہوکے   پھر  سرِّ  نہاں  ہوں  میں

کہیں ہوں جزبۂ الفت  ،  کہیں عاشق  بنا  ہوں  میں
کہیں معشوق کی صورت کا اظہار و بیاں ہوں میں

میری ہستی کچھ ایسی ہے  ،  نہیں  کوئی  دوئی ممکن
منزّہ ہوں میں ہستی سے ، مشبہّ سب میں ھاں ہوں میں

جو پہچانوگے تم مجھکو ،  نہیں  باقی  رہوگے  خود
اسدؔ کا ہے گماں تمکو، میں مطلق بے گماں ہوں میں

 

 

(16)

 

 یہ اُنکا کرم ہے انکی عطا ، ہر شئے میں انہیں جو پا تے ہیں
احساس یہ انکا بڑھ بڑھ کر ، ہم خود ھی کہیں کھو جاتے ہیں

بے پردہ انہیں خود میں پاکر، حیرت جو ہماری بڑھتی ہے
پھر محوِ  نظارہ  ہوکر ہم  ،  بے ہوش کبھی  ہو جاتے  ہیں

پھر  اُنکی  انا  قائم  جو  ہماری  ہستی  پر   ہوجاتی  ہے
معلوم نہیں ، نہیں ہم کو پتہ ، ہم کیا سے کیا ہوجاتے ہیں

وہ رازِ ازل اب راز کہاں ، وہ جانِ جہاں ہے مجھ میں عیاں
ہر لمحہ ہر لحظہ مجھ  میں ،  وہ جلوہ  گری  فرماتے ہیں

بنا انکا  سراپا  حال  میرا ،  بنا  ایک  تماشہ  میں  انکا
مجھکو وہ مٹاکے ہستی سے ، باقی خود ہی رہجاتے ہیں

بنے ہم جو  قلندر  اور آزاد  ،  خالدؔ  کا  کرم  ہے ، انکی عطا
ہم ان پہ فدا کچھ ایسے ہوئے ، اب خود میں انہیں کو پا تے ہیں

کوئی جان سکیگا ہمیں کیسے ،  جب کچھ بھی نہیں اپنا ہم میں
انھیں دیکھ کے فاعل اپنے میں ، ہم خود بھی کبھی گھبراتے ہیں

میری ہستی جب انکی امانت ہے ، پھر وہمِ دوئی تو خیانت ہے
یہ  زیست  ہماری  انکی  بقا ، ہم   ہوکے  فنا  پا جا تے  ہیں

الفت کا  اسدؔ  انداز انکا ،  ہے سب سے نرالا سب سے نیا
وہ عرشِ بریں کو  چھوڑ کے میرے دلمیں مکیں ہوجاتے ہیں

 

 

 (17)

 

سمجھ میں آنہیں سکتا یہ حالِ بے زباں اپنا
عجب انداز سے چلتا ہے دل کا کارواں اپنا

نہیں قابو میں میرے دل ، سنے نہ ایک بھی میری
میرے سینے میں رہتا ہے ، مگر ہے وہ کہاں اپنا

لُبھا کر میرے دل کو اپنا گرویدا بنا ڈالا
وہ اُسکی جاں بنے ہیں جو کبھی تھا جانِ جاں اپنا

اُٹھا ہے ، یا پڑا پردہ میرے آنکھوں پہ اُلفت کا
دیکھائی دے ہر اک شئے میں وہی جانِ جہاں اپنا

ہیں یکتا اس لئے طرزِ محبت بھی نرالا ہے
پسند ہے واہ  واہ  اُنکو ، ملانا ھاں میں ھاں اپنا

کبھی انجان بنتے ہیں تو محشر ہم پہ ڈھاتے ہیں
نہں کرتا اثر پھر نالہ و آہ  و فغاں اپنا

ہیں جتنے وہ بڑے ، دل بھی ہے اتنا ہی بڑا پایا
جو دینے پر وہ آئیں ، بخش دیں کہکشاں اپنا

تیرے محبوب کا بندہ ہوں میں ادنا سگِ در ہوں
سِوا اُنکے نہیں کوئی جہاں میں پاسباں اپنا

ہوں دیوانہ تیرا رنگِ پریدہ ہے تیرے آگے
اسدؔ کوبخش دے یوں ہی ، نہ لے تو امتحاں اپنا

 

 

(18)

 

مانا کے دوجہان میں مجھ سے بُرا کوئی نہیں
تیری نوازشوں کو بھی قیدِ حُدود ہی نہیں

سر چشمہؑ کمال ہوں اپنے عیوب میں مگر
بخشش میں دوجہان میں تیری مثال بھی نہیں

عجزوقصور مجھ میں ہے بندہ ہوں خاکسار ہوں
لازم کیا میری ذات کو  سرافگند گی  نہیں

مجھ میں سکت نہں تیرے ، کوئی بھی امتحان کی
دعویٰ کروں جو میں کوئی ، جُرّات کبھی ہوئی نہں

تُجھ پہ کُھلا ہے حال سب ، گو میرے لب خموش ہیں
کیا میرے حالِ زار کی ،  تجھکو خبر ملی نہیں

تجھ سے ہی آس ہے میری ، تجھ سے امید ہے میری
تیرے سوا مجھے کوئی ، آتا نظر کوئی نہیں

حالِ تباہ پر ذرا لطف و کرم ہو یا نبی ﷺ
دونوں جہاں میں تم سوا کوئی نہیں  کوئی نہیں
 

اپنا دلِ حزیں اسدؔ اُنکی قیام گاہ ہے
اُنکے اس آئینے میں اب اُنکے سوا کوئی نہیں

 

 

(19)

 

میری ہستی جہاں میں جب تمھاری ہی امانت ہے
خیالِ غیر بے شک  اس  امانت  میں  خیانت  ہے

تمھیں ہر شئے میں پانا  چشمِ  حق  بیں  کی  لطافت ہے
تمھیں خود میں بھی پانے اور کھوجانے میں راحت ہے

مٹانا مجھکو ہر لمحہ انائے مطلقہ سے پھر
خود ہی جلوہ نما ہونا تمھاری یہ محبت ہے

محبت کے لئے عرشِ بریں سے تاکنا مجھکو
میرے دلمیں پھر آجانا تمھاری خوب چاہت ہے


خود ہی میں پاکے بے پردہ تمھیں حیرت زدہ ہیں ہم
پتہ  ملتا   نہیں   اپنا  عجب  اپنی   یہ   حالت   ہے

ہوئے ہم یوں فدا تم پر تمھیں پاتے ہیں اب خود میں  
ہیں  محوِ  دید  اسدؔ   ہر  دم   یہی  اپنی  عبادت  ہے
    

 

 

(20)

 

 کسی سے ہے محبت اور کسی کا میں دیوانہ ہوں
زمانے میں جدا سب سے ، سبھی سے میں بیگانہ ہوں

بڑے ہیں اور بھی دنیا میں بے حد چاہنے والے
مگر لگتا ہے مجھکو میں ہی بس انکا نشانہ ہوں

مجھے چُن کر پکڑتے ہو میں جتنا بھاگنا چاہوں
او سرشارِ محبت میں تمھارا  اک کھلونا ہوں

تمھاری شان مستغنی، غنی الاغنیا تم ہو
سخاوت کو عطا کو میں تمھاری اک بہانہ ہوں

مٹی جب غیریت دل سے، ہوئے وابستہ ہم تم سے
اُٹھا پردہ تو دیکھا میں تمھارا ہی قرینہ ہوں

ہزاروں اور لاکھوں میں اسدؔ کو یی چنا تم نے
تھا ناقص میں ، بنا اب تو محبت کا خزینہ ہوں

 

 

  (21)

 

 ساکنِ کون و لا مکاں ہوں میں
خالقِ عرض و آسماں ہوں میں

لا حدا ہوں ، میں لا تعین ہوں
ذاتِ بے مثل و بے نشاں  ہوں میں

پاک اسماء ہیں اور صفات میرے
ہوں میں لاریب ، بے گماں  ہوں میں

خلق ہے علم پر میرا پَرتَو
ذرہ ذرہ سے خود عیاں  ہوں میں

ذات ہے میری سب سے مستغنی
سب عوالم کی روح و جاں  ہوں میں

ہر تعین ہے جلوہ گاہ میرا
اُس سے ظاہر ہوں اُس میں ھاں  ہوں میں

ہوں مقدس و برتر و اعلیٰ
ربِ ارباب و ایں و آں ہوں میں

میں ہی عالِم ہوں ، میں ہی ہوں معلوم
ذاتِ احمد ﷺ سے خود عیاں ہوں میں

نفسِ واحد ہیں وہ عوالِم کے
شکلِ احمد ﷺ میں ضوفشاں ہوں میں

مظہرِ کُل ہیں وہ  مظاہر کے
روحِ اعظم ہیں اُنکی جاں ہوں میں

ہے اسدؔ مصطفیٰ ﷺ کا پروانہ
اُسکا عالَم میں نگہباں ہوں میں

 

 

(22)

 

اِلٰہی یہ بلائے عارضی اب سر سے ٹل جائے
مقدر میں میرے حصّے کا پیچ و خم بھی کُھل جائے

فنائے ذات سے بے شک نوازا ہے مجھے تُونے
بنا وہ خاک نعلینِ محمد ﷺ جس پہ چل جائے

نہ خواہش ہو کوئی نہ ہی ، کوئی میری تمنّا ہو
میرے مولٰی میرے دل سے خیالِ غیر دُھل جائے

تُو ہے محسوس اور مشہود لیکن پھر بھی تشنہ ہوں
اِلٰہی اب سبھی پردوں سے تُو باہر نکل جائے

رسائی ہو مجھے حاصل زمین و عرش پر تیری
یمارے ہیچ کی ہر شئے تیری اُلفت میں گُھل جائے

بنادے جملہ اسماء وصفاتِ حق کا مظہر اب
ہو غرقِ ذاتِ احمد ﷺ ، میری ہستی اُن میں گُم جائے

مُنوّر کر بصیرت کو ضیائے نورِ احمد ﷺ سے
نبی ﷺ کے بحرِ عرفاں سے مجھے اک قطرہ مل جائے

محی الدیںؓ ، معین الدیںؓ ، کےصدقے میں قُرباں ہوں
پئے مولٰی علیؓ میری سبھی آفت کُچل جائے

ہیں میری پُشت پر حسرتؒ پِیا ، عزتؒ پِیا ہر دم
طُفیلِ پیر خالدؒ اب میری حالت سنبھل جائے

نہ لایق ہے نوازش کے اسدؔ ، نہ سرفرازی کے
تیرے فضل و کرم کی بھیک اِس عاصی کو مِل جائے
 

 

 

(23)
 

سامنے وہ ہیں برامد ، اُنکی میں محفل میں ہوں
مجھکو ہے لازم خموشی ، میں اِسی منزل میں ہوں

ایک عجب عالم ہے میرا ، حالِ دل کیسے کہوں
کیا بتاؤں میں زباں سے ، میں بڑی مشکل میں ہوں

میرے ہر پل کی خبر ہے ، اُنکو سب کچھ ہے پتہ
کون جانے کیا ہوں ، کیسا میں اب اُنکے دلمیں ہوں

کشتئ اُمید میری ہے کنارے پر مگر
خوف طوفاں کا ہے بے حد ، ایسے میں ساحل میں ہوں

سر بہ سجدہ اُنکے آگے  بندہؑ  ناچیز  ہوں
ہم نشینِ خاک ہوں ، ذرہ ہوں ، گو بادل میں ہوں

مجھکو ہے اُمید ان سے ، مجھکو ہے ان سے ہی کام
سر نِگوں میرا ہے ، انکی مجلسِ فاضل میں ہوں

اُنکی شانِ بے نیازی کے نثار ہم  ہو چکے
کروٹیں دیتے ہیں مجھکو ، میں یدِ فاعل میں ہوں

اُنکو پایا خود میں جب حق الیقین حاصل ہوا
چشمِ حق بیں نے دکھایا ، میں تو ہر محمِل میں ہوں

بے بسی اپنی اسدؔ ہے سرفرازی کی وجھہ
گو ہون ادنیٰ میں مگر ، اُس پہلوئے کامل میں ہوں
  

 

 

(24)

 

اُنکو ہے منظور رہنا بس دلِ رنجور میں
اس لئے قلبِ حزیں میرا ہے تاباں نور میں

ذاتِ اکبر لامکاں گو وہم سے بھی دور ہے
ہے مگر تاباں دلِ عاجز غموں سے چور میں

اُنکی آمد سے ہمارا قلب روشن ہوگیا
ورنہ تھا ظلمت کدہ ، مُردہ ، شبِ دیجور میں

عجز آیا ، خاکساری ، بند گی بھی آگئی
ہمکو کیا کچھ ملگیا  اُنکی نگاہِ طور میں

کیف و مستئی محبت ، اور حیائے وصل بھی
خوشبوئے جاناں کو پاتا ہوں دلِ معمور میں

اُنکے دیوانے کو اب فرصت کہاں ، وہ شب و روز
محوِ دیدِ یار ہے ، گُم ہے رُخِ پُرنور میں

ایک عاصی پر اسدؔ   کیا کیا عنایت ہوگئی
پردہ اب باقی نہیں ہے ناظر و منظور میں

 

 

(25)

 

الٰہی کم سے کم ہو میرے نالوں میں اثر اِتنا
ہر آنسو بنکے دریائے کرم نکلے اُدھر اُتنا

ہوں بے شک مضطرب مجھکو چھپالے اپنی رحمت میں
اُڑادے دامنِ رحمت تو مجھ پر آن کر اپنا

خودارا ایک محبت کی نظر ہوجائےبسمل پر
دوامی دردِ دل ہے  لادوا   اب  بام  پر اپنا

مجھے اس جذ بہِؑ عشق و محبت نے مٹایا ہے
تو ہوجا بس میرا ، اِسکا ملے مجھکو ثمر اِتنا

زمانے کے حسینوں میں حسینہِؑ جہاں بنکر
ہنوں چاہت کا مرکز ہو تیرے پہلو میں سر اپنا

رسول اللہ ﷺ کے صدقے ہوئی یہ سرفرازی ہے  
بنایا خاک کے ذرہ کو وہ ہے سنگِ در اپنا

میرے پردے میں اب جلوۃ نما وہ ہیں بذاتِ خود
میری اُن سے محبت کا ہے قصہ مختصر اِتنا

بنا دلبر ، لیا دل کو ، میری ہر سانس بھی لے لی
بتاوں کیا اسدؔ   وہ ہے حسیں  اور خوب رُو کِتنا

 

 

 (26)

 

 جہاں کے ذرے  ذرے سے نمایاں ہو گیا ہوں میں
ہر اک سے ہوکے ظاہر، پھر بظاہر چھپ گیا ہوں میں

ہوں میں ہی کارفرما کون و امکاں کی ہر اک شئے میں
جُدا لگتا ہوں ہر شئے میں ، بنا بندہ نما ہوں میں

نہیں ہے دوسرا کوئی سِوا میرے یہی حق ہے
خلائق ہیں میرا پَرتَو ، حقیقت میں خدا ہوں میں

نہیں ہے جسم و صورت اور نہ ہے جسم و نشاں میرا
مقدس ذات ہے میری ، گُماں سے بھی ورا ہوں میں

میں ہی حاضر ہوں ناظر ہوں ، میں ہی گویا ہوں شُنوا ہوں
میں ہوں روحِ رواں سب کی ، سبھی کا مدّعا ہوں میں

خلائق ہیں وہیں ظاہر ، جہاں پر تھے کبھی مخفی
جہاں ہے علم میرا ، اِسکی ذاتِ کِبریا ہوں میں

نظامِ دوجہانی در حقیقت میری حکمت ہے
خلائق کی طبیعت کا حکیمِ پُرشِفا ہوں میں

ہر اک شئے کی طبیعت فی الحقیقت میرا منشا ہے
نُفوسِ انس و جاں میں اور مَلک میں بھی چھپا ہوں میں

کرشمہ ہے یہ اسماء وصفاتِ ذات کا میری
مُشبّہ ہوں ، ہر اک شئے کا ظُہورِ پُرضیا ہوں میں

رہیگی ذات مخفی دیکھنا ممکن نہیں مجھکو
مگر ھاں شکلِ احمد ﷺ میں سدا جلوہ نُما ہوں میں

ظہورِ مصطفیٰ ﷺ کونین میں پہچان ہے میری
اسدؔ کی شکل میں احمد ﷺ پہ قرباں ہوگیا ہوں میں 

 

 

(27)

 

 ایک مدت سے ہوں حیران خبر لے میری
ہے فقط تُو ہی تو رحمان خبر لے میری

تیرا   وارفتہ  ہے بے تاب ادھر دیکھ ذرا
ہو نہ تُو اسطرح انجان خبر لے میری

ہے کھلا تجھ پہ میرا حال کہوں کیا تجھ سے
ہے تُو ہی درد کا درمان خبر لے میری

میں عنایت کا سزاوار نہیں ہوں پھر بھی
پر بڑا تُو ہے مھربان خبر لے میری

وجھ کوئی ہو، نہیں تیرے کرم سے بڑھکر
ہو کرم کا تیرے فیضان خبر لے میری

تیری رحمت تو جہانوں کو سِمٹ لیتی ہے
مجھ پہ بھی ہو تیرا  احسان خبر لے میری

پاس آنے دے مجھے ، روک ھٹالے سارے
کھول دے راہ میری جان خبر لے میری

ساتھ رکھ اپنے پیاروں کے نہ کر دور مجھے
تجھ پہ قربان میری جان خبر لے میری

سُنتا ہوں یہ کہ اسدؔ سے ہے محبت تجھکو
تیرے صدقے تیرے قربان خبر لے میری

 

 

(28)

 

نہ پُوچھو بندگی میں اور کیا  کچھ  اُن سے پاتا ہوں
میں اُن میں جذب ہوکر پھر اُنھیں خود میں میں  پاتا ہوں

تمھاری شانِ رحمانی عجب جاری و ساری ہے
بناتے ہو مجھے تم ہر گھڑی میں مٹتا جاتا ہوں

اثر انداز ہو تم ہی میری ہستی پہ ہراک لمحہ
تمھارے لمس کی مستی میں تم میں کھوتا جاتا ہوں

کچھ ایسی پیاری ہستی ہے کہ خود کو روکنا مشکل
ادب پیشِ نظر ہے خود کو میں ساکت جو پاتا ہوں

پتہ چلتا نہیں اب تو کہ وہ ہیں یا کہ میں ہی ہوں
خودی کی قید سے جب خود کو میں آزاد پاتا ہوں

میں قرباں شانِ رحمانی ، رحیمی اور کریمی کے
وہ ہیں ایسے اسدؔ جن پر میں اپنی جاں لُٹاتا ہوں

 

 

(29)

 

 لب پہ تیرا ہی نام ہے پیارے
مجھکو تجھ سے ہی کام ہے پیارے

درد اپنا ہے بام پر پیارے
اب یہ قصہ تمام ہے پیارے

تھک چُکے دنیا کے بکھیڑوں سے
اب تو سبکو سلام ہے پیارے

چھوڑا تسبیح کو اور گنتی کو
ذکر تیرا دوام ہے پیارے

آئیگا غیر اسمیں اب کیونکر
دل میں تیرا قیام ہے پیارے

مجھ میں ظاپر ہے تُو ہی سرتاپہ
مجھ میں تُو ہی تمام ہے پیارے

تُو ہی بینا ہے تُو ہی شُنوا ہے
تُو ہی تو ہم کلام ہے پیارے

ہر تعین ہے جلوہ  گاہ  تیری
تیرا جلوہ تو عام ہے پیارے

چشمِ حق بیں تو دیکھتی ہے تجھے
اُس پہ تیرا  انعام ہے پیارے

پوں گنہگار معاف فرمادے
یہ دعا صبح شام ہے پیارے

تیرے محبوب کا ہے سگ یہ اسدؔ
اُنکا ہی یہ غلام ہے پیارے

 

 

(30)

 

 ازل ہی سے شُہود و غیب کی ایک داستاں ہیں ہم
مُقیمِ لامکاں ہوکر ، مکینِ ہر مکاں ہیں ہم

ہمیں کیسے سمائیگا بھلا کوئی تعین بھی
مبرّہ ہوکے ہر ایک سے ، ہر ایک شئے سے عیاں ہیں ہم

ہمیں پائیگا وہ  ،  جو خود ہی باقی نہ رہیگا تب
نفئیِ ہر تقیّد ہی میں تو جلوہ کناں ہیں ہم

ہم ہی ہیں غیبِ مطلق ، اور خارج میں ہم ہی ہم ہیں
ہُوئے ہیں رُونما ایسے کے پھر یھی بے نِشاں ہیں ہم

تمھیں اس جسمِ ناسوتی پہ دھوکا غیرکا نہ ہو
ذرا تو غور سے دیکھو کہ اک رازِ نہاں ہیں ہم

ہمیں جو دیکھنا ہو تو ہماری آنکھ سے دیکھو
حقیقت آشنا ہیں اُسکا اِظہار و بیاں ہیں ہم

بنے معقول ہیں ، ہم وہ نہیں جو ہیں نظر آتے
ہر اک سے ہوکے ظاہر پھر بھی مطلق بے گماں ہیں ہم

اُٹھا کر دیکھ لو پردے نظر سے تم اسدؔ اپنے
خلائق ہیں ذہن میں پر تمھارے دل میں ھاں ہیں ہم

 

 

(31)

 

ہے بڑی بے چین حا لت ، بے قراری کیا کروں
کُھل گیا جو رازِ دل تو عشق کو رُسوا کروں

ٹوٹے چاہے کچھ  بھی ایک تیرے بھروسے کے سوا
سب سے بے پروا تجھ ہی سے آس میں رکھا کروں

حالتِ مُضطر ہے ،  مجھکو خوف ہے بس اسقدر
بے خیالی میں کہیں نہ  کام  نازیبا  کروں

ہے ضرورت مجھکو تیری چشم رحمت کی بہت
اضطرابی  بڑھ  گئی  ہے تو ہی  بتلا  کیا کروں

رکھ مجھے ثابت قدم چاہے جو کوئی حال ہو
بندگی میں سر کو چوکھٹ پر تیری رکھا کروں

تم پہ روشن ہے جو مدت سے ہمارا حا ل ہے
بے کلی میں دن کٹے تو رات کو رویا کروں

لاحدا تیرے خزانوں سے عطا ہو اسقدر
ہوکے میں سیراب اوروں کو بھی تو بانٹا کروں

جان و دل کومیں نے رکھا ہے تمھارے ہی لئے
تم ادھر آؤ تو انکو تم پہ میں صدقہ کروں

عاجزی اور بندگی کی خاکساری میں اسدؔ
اُن پہ میں قربان ہوکر اُنکو میں اپنا کروں

 


(32)

 

ہوں بڑا شیدا دیوانہ صاحبِ خانہ تیرا
جان و دل کرنے کو آیا ہوں میں نزرانہ تیرا

بھیج دے میرے لئے بس ایک جامِ بے خودی
ساقئیِ دونوں جہاں میں بھی ہوں رندانہ تیرا

اب نکل آجا سبھی پردوں ائے حسنِ ازل
میٹ دیگا مجھکو میرے رو برو آنا تیرا

اک سوا تیرے نہیں کچھ  بھی مجھے اب چاہیے
کارگر ہوگا نہ میرے دلکو سمجھانا تیرا

ہوں بہت مجبور اپنے دل کے ہاتھوں کیا کہوں
اک جھلک مجھکو دیکھا دے ہوں میں پروانہ تیرا

مجھکو دنیا اور نہ عقبیٰ  اور نہ خود سے ہے کام
ہے بیگانہ  دوجہاں  سے دیکھ  مستانہ  تیرا

کھوچکا سب کچھ  اسدؔ  ہے خود  کو بھی بھولا  ہوا
ہاتھ  پھیلائے  کھڑا  ہے  دیکھ   دیوانہ  تیرا

 

 

(33)

 

سیج سجی ہے دل میں ہمارے کوئی آنے والا ہے
چھوڑ کے عرش کو وہ میرے دل ہی میں رہنے والا ہے

جو کچھ بیتی ہجر میں اُنکے رو رو کے میں سناؤنگی
آنسو کا دریا شانے پر اُنکے بہنے والا ہے

نظر نہ لاگے اُنکو کسی کی دلمیں اُنکو چھپاؤنگی
میری سکھیوں کی نظروں سے بھی وہ چھپنے والا ہے

اُنکے چرنوں میں بیتے گا اپنے جیون کا ہر پل
برہا کا غم دل سے اپنے دیکھو جانے والا ہے

وہ راجہ میرا ، میں رانی اُسکی اب کہلاونگی
دیکھو نبی ﷺ کے صدقے میں کیا سے کیا ہونے والا ہے

میں ہوں نبی ﷺ کی ایک بھکارن جاگی اب قسمت میری
صاحبِ قدرت بے بس کے دامن کو بھرنے والا ہے

گونجتی ہے شہنائی اسدؔ اور پھول بچھے ہیں راہوں میں
تمکو مبارک ہو وہ تمکو اپنا بنانے والا ہے

 

 

(34)

 

 بُھلا کر خود کو میں جلوہ خدا کا دیکھ لیتا ہوں
میں اپنے آپ میں اُنکا سراپا دیکھ لیتا ہوں

مجھے مانع نہیں کوئی تعین بزمِ امکاں میں
ہر اک شئے سے نمایاں اُنکا نقشہ دیکھ لیتا ہوں

نہیں ممکن میں دیکھوں غیر کو چشمِ بصیرت سے
قُیوداتِ جیاں کو پارہ پارہ دیکھ لیتا ہوں

خیال غیر آئے دلمیں کیسےجب  مکیں وہ ہیں
میں اُنکے فضل سے اُنکو ہراک جا دیکھ لیتا ہوں

مجھے نہ قید کر پائے یہ اسم و جسمِ ناسوتی
میں جلوت میں بھی خلوت کا تماشہ دیکھ لیتا ہوں

پِلایا جامِ وحدت مجھکو خالد پیرؒ نے ایسا
اسدؔ اب چشمِ حق بیں سے میں کیا کیا دیکھ لیتا ہوں

 

 

(35)

 

 کسی کی رونمائی کا  اُٹھا  پردہ  ذرا  دیکھو
جہاں کے ذرّہ ذرّہ میں وہ ہے جلوہ نُما دیکھو

منزّہ شان ہے اُسکی مبرّہ رہکے ہر ایک سے
جُلو خانے میں جَلوت کے وہ ہے بندہ  نُما دیکھو

نئی ایک شان ہے اُسکی ، نئی ایک آن ہے اُسکی
ہر ایک پل اور ہر لمحہ ہے اُس سے سامنا  دیکھو

اثر اُنکی معیّت کا ہوا ہے کس قدر ہم پر
بھری محفل میں بھی سب سے  پرے رہنا  ذرا  دیکھو

مِٹایا غیریت دل سے ، سمجھ کے پھیر سے روکا
ہمارا  ہر گھڑی  اُن پر سدا  ہونا  فدا  دیکھو

غمِ عصیاں کے پردوں سے ، بچے دنیاں کی رنجش سے
ہوئے ہیں رحمتِ عالم سے ہم بھی  آشنا  دیکھو

محبت اُسکی بڑھ  بڑھ  کر یہ کیسا رنگ لائی ہے
اسدؔ کے روئیں  روئیں  میں وہی تو ہے بسا  دیکھو

 

 

(36)

 

 عبدِ محض کا عبد ہوں اہلِ جہاں سے کیا غرض
بزمِ عیاں سے کام کیا  نام و نشاں  سے کیا غرض

میری نظر ہے حق پرست ، دیکھوں تمھیں ہی ہر طرف
رازِ نہاں کو پالیا ، کون و مکاں  سے کیا غرض

مسرور و مست و شاد ہوں وحدت کا راز جان کر
آہ و فُغاں سے کام کیا ، وہم و گُماں  سے کیا غرض

جسکی مجھے تلاش تھی شہہ رگ سے ہو قریب تھا
بندہ ہی حق نما رہا اُسکو مکاں  سے کیا غرض

ذاتِ خدا فنا میری  ذاتِ نبی ﷺ بقا میری
اِس جسم و جاں سے کام کیا عمرِ رواں سے کیا غرض

کہتے ہو تم جسے اسدؔ  اک منشاء خدا ہے وہ
ذاتِ قدیم کو بھلا نام و نشاں  سے کیا غرض

 

 

(37)

 

 کون و امکاں میں نہیں کوئی بھی انجانہ تیرا
رنگ لایا ہے میرے دل میں سما جانا تیرا

ہر تعین سے نمایاں ، ہر تقید سے عیاں
حیرت افزا ہے میرے یوں سامنے آنا تیرا

خِیر کرتا ہے میری تظروں کو  ائے  حسنِ ازل
غیریت کی دُھند سے یوں صاف  ہوجانا  تیرا

ذرّہ ذرّہ سے تیری خوشبو مہکتی ہے یہاں
دنگ کرتا ہے ہر ایک شئے سے اُبھر آنا تیرا

اور کو دیکھوں سِوا تیرے یہ اب ممکن نہیں
دیدنی ہے عشق میں یوں میرا ہوجانا تیرا

سامنا آٹھوں پہر ہے ، تجھ ہی سے بس کام ہے
مست کرتا ہے میری ہستی پہ چھا جانا تیرا

دل کی بستی شاد ہے ، تجھ سے ہی یہ آباد ہے
تجھ سے قائم ہے  اسدؔ ، شیدا یہ دیوانہ تیرا

 

 

(38)


 دیدنی ہے میرے آگے یوں چلے آنا تیرا
چشمِ ظاہر پر بھی یوں کُھل کے نظر آنا تیرا


مست ہوں میں شاد ہوں خود سے بھی اب آزاد ہوں
روح فرسا ہے نظر میں یوں سما جانا  تیرا


حسرتیں بھی مٹ گئیں ، وہم و گماں بھی مِٹ گیا
کیا عجب  انداز ہے  ائے روئے جانانہ  تیرا

ہم تکلُم ہے ، میرے آٹھوں پہر اب ساتھ  ہے
پُر اثر ہے کتنا  پیارا  مجھکو سمجھانا تیرا

سارے عالم میں چُنا مجھکو محبت کے لئے
کِتنا بھایا ہے مجھے محبوب ہو جانا تیرا

کیسی ہوتی ہے محبت تُجھ  ہی سے سیکھے کوئی
کتنا  پیارا  پُر کشش   ہے  میرا  ہوجانا   تیرا

میٹ کر مجھکو اسدؔ خود ہوگئے ظاہر یہاں
حیرت افزا ہے میری ہستی پہ چھا جانا تیرا

 

 

(39)

 

 قالِبِ   مُضطر  میں   یہ   کیسا  تغیُّر  ہوگیا
بندۂِ     ادنیٰ   سراپا    روئے  انور    ہوگیا

شوقِ چشمِ دیدنی جب حد سے آگے بڑھگیا
بندہ   قیدِ   بندگی   میں   اُنکا   مظہر ہوگیا

اُنکو دیکھوں ، اُنکو چاہوں ، اُنکو پاؤں ہر جگہ
جلوۂِ  جاناں  ہر  اک  شئے  سے  منوّر  ہوگیا

کونسی بستی ہے یہ اور کونسی ہے یہ جگہ
ہر   مُقیّد  ،  ہر  تعیُّن    انکا    پیکر   ہوگیا

اُن سے ہی ہے واسطہ اور اُنکا ہی لب پر کلام
میرے   پردے  میں  سراپا   وہ  سُخنور  ہوگیا

خاک کا پُتلا  بُوئے عصیاں سے میں مقھُور تھا
اُنکی قُربت  ،  اُنکی  خوشبو  سے مُعطّر ہوگیا

سامنا آٹھوں پہر،  ہاتھوں میں اُنکا ہاتھ  ہے
غیریت   کیسی  اسدؔ  وہ  میرا   دِلبر  ہوگیا

 

 

(40)

پردے  اُٹھادئے  ہیں سبھی  شوق نظر سے
اوجھل کبھی ہوتے نہیں وہ میری نظر سے

آنکھوں میں سمائے   وہ میرے دل میں مکیں ہیں
جاتے نہیں وہ چھوڑ کے مجھکو میرے گھر سے

دِکھلاتے ہیں ہر روز وہ   قدرت کے کرشمے
دنیاں کو چلاتے ہیں ابھی وہ میرے گھر سے

رہتے تھے کبھی جلوہ نُما  عرشِ بریں  پر
رہنے کو میرے پاس چلے آئے اُدھر سے

فرشِ زمیں کو  کَون  میں  اعجاز ہے بخشا
رحمت برس رہی ہے جہانوں میں اِدھر سے

جب اُنکا  ہُوا ساتھ  تو میں نے بھی یہ جانا
ہونے  دیا  نہ  دور  کبھی   نورِ نظر  سے

صدقہ   ہے   محمدﷺ   کا   اسدؔ   جُود  و سخا   ہے
جو کچھ بھی مِلا ہے ‘  وہ مِلا ہے ہے اِسی در سے

 

 

(41)

 

ہم  اُنکو ،  وہ  ہمیں  اپنا گئے ہیں
کہاں پر تھے کہاں  ہم  آگئے ہیں

جہاں وہ ہیں   وہیں مجھکو  رکھیگے
مجھے  یہ  بات  وہ  جَتلا  گئے  ہیں

مجھے رکھتے ہیں  اب  وہ ساتھ  ہر دم
مجھے  اپنے  جہاں  دِکھلا  گئے  ہیں

سرِ  محشر  بھی  اُنکا  ساتھ   ہوگا
ازل  کا  ساتھ   وہ سمجھا  گئے ہیں

نظر ہٹتی نہیں ایک  دوسرے  سے
اُنھیں ہم  ،  وہ ہمیں   یوں  بھا  گئے ہیں

نہ چُھوٹے گا  ہمارا  ساتھ   ہر گز
جہانوں کو  وہ   یہ  بتلا  گئے ہیں

اسؔد  دِکھتا  نہیں کچھ  بھی جہاں میں
میری نظروں  پہ  وہ   یوں  چھا گئے ہیں

 

 

حصہ دوم  ۔  نعتِ نبی صلى الله عليه و آله وسلم

حصہ سوم  ۔  مناقبِ اولیا اللہ

حصہ چہارم  ۔  غزلیات

 

 

السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

Translate Website

Recent Videos

5372 views - 0 comments
11491 views - 5 comments
7452 views - 2 comments
7323 views - 0 comments