CIF INTERNATIONAL ASSOCIATION

العقيدة الإسلامية الصحيحة

 

 

 

 

احساسِستانِ اسدؔ  

مجموع کلام
 
 
حصہ دوم  ۔  نعتِ نبی صلى الله عليه و آله وسلم 
 
 
تصنیف
میر اسد اللہ شاہ قادری  اسدؔ

 
 

 
عرضِ حال
 
 

 

بِسم الله الرحمنِ الرحيم  

 الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين

   

  احساسستانِ اسدؔ  کی جلد اول  ۱۹۹۹  میں شایع ہوئی تھی ۔ اسکے بعد   ۲۰۱۷ میں اسکی جلد دوم کی اشاعت ہوئی جسمیں وہ کلام بھی شامل ہوا جو ۱۹۹۹ کے بعد لکھا گیا تھا ۔  چونکہ یہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے  قارئین  اِسے آن لائن بھی  پڑھ سکتے ہیں۔

اشعار میں جو لطف ہوتا یے وہ  نثر اور منطِق میں کہاں؟  آپکے پیشِ نظر وہ اشعار ہیں جو اللہ  اُسکے رسولﷺ اور اُنکے چاہنے والوں کی مدّح میں لکھے گئے ہیں ۔

 

صوفیا اور اولیا اللہ کے کلام کو پڑھنے سے پہلے کچھ چیزوں کا جاننا ضروری ہوتا ہے ۔  ان چیزوں کو یہاں مُختصراً بیاں کیا گیا ہے ۔ 

     مُشاکلہ / تشبیحہ دنیا کی ہر زبان میں ہے ۔  کلام اللہ میں بھی ہے ۔  قران میں آیاتِ مُتشابہات ہیں جنکا مطلب سہی طریقے پر سمجھنا ضروری ہے ۔  مُشاکلہ  ہر شاعر کے کلام میں ہوتا ہے ۔  جیسے شاعر اپنے محبوب کو چاند سے تشبیح دیتا ہے ۔ صوفیا  کے کلام میں بھی اکثر الفاظ کے اعتباری معنی لئے جاتے ہیں ۔  جیسے ’لطف مئے‘ سے مُراد  ’سُرورِ جوشِ محبت‘ اور میخانہ سے مُراد  مُرشِد کی محفل اور ساقئی مئے خانہ  سے مُراد شیخِ کامل اور رِند سے مُراد  ’مُرید‘ ہوتے ہیں ۔ یہ اِس لئے کے شیخِ کامِل اپنی توجھ سے مُریدوں کے دلوں میں عشقِ مُحمدیﷺ کی شمع کو روشن کرتا ہے ۔

 تیری چال بڑی ہے مستانہ  آنکھوں سے شراب برستی ہے
ائے ساقئِ  میخانہ  تجھ سے مئے ناز کی موج نکلتی ہے

یہ بزمِ مئے عرفاں ہے جہاں کی رسائی بڑی ایک نعمت ہے
یہ شرابِ محبت ہے زاھد ، جس میں ہے عُلو ، نہ کہ پستی ہے

مَستوں کی یہ بستی کے صدقے ، خالدؒ تیری آنکھوں کے قرباں
تیری بحرِ معارف کی ساقی ، کوئی حد ہے نہ تہہ کبھی ملتی ہے

 

صوفیا / اولیا اللہ جب ’عبد‘ یا ’بندہ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو کہیں اسکے لفظی معنی ’بندہ خدا‘ کے لیتے ہیں تو کہیں اعتباری معنی ’غلام‘ کے لیتے ہیں ۔

احسان نبی ﷺ کا ہے اسدؔ بندہٴِ حضرت ﷺ
ہو چشمِ  عنایت  بنوں  دربانِ  محمد ﷺ

اسدؔ ہے بندہٴِ حضرت ﷺ دیوانہ آپکا شیدا
مقدر نے بنایا مجھکو پروانہ محمد ﷺ کا 
 

لفظ  ’سجدہ ‘  کے عام فہم  لفظی معنی ’سجدہ عبادت‘ لئے جاتے ہیں ۔ صوفیا کہیں اسکے لفظی معنی لیتے ہیں اور کہیں اعتباری معنی  ’فرطہ محبت میں قدم بوسی‘  پا بوسی  یا  انتہائی ادب و عاجزی میں سر جھکانے یا پیر چھونے کے لیتے ہیں۔  جیسا کہ احادیث میں آیا ہے کہ صحابہ‘  رسول اکرم صلى الله عليه و آله وسلم کی قدم بوسی کیا کرتے تھے ۔   اسیطرح سے الفاظ  ’سگ‘ اور ’کتا‘  ہیں ۔ صوفیا  اپنے کلام میں  اسکے اعتباری معنی ’وفادار اور خدمت گزار غلام‘  کے لیتے ہیں ۔

تمھارے ہی تصوّر میں درِ اقدس پہ سر رکھ کے
سگِ در آپکا دامن پسارا  یا رسول اللہ ﷺ

ذرّہٴِ نا چیز ہوں   پیوندِ  خاکِ آستاں
ہوں سگِ در آپکا  میری طرف بھی دیکھنا
 
ایک اور لفظ  ’مولی‘ ہے جسکے اعتباری معنی ’آقا‘ کے بھی ہیں ۔  بیسیوں الفاظ جو اشعار کے زینت میں اضافہ کرتے ہیں اُنکے معنوں کی ہمکو تاویل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔  اِن چیزوں کو سمجھکر پڑھنے سے اشعار کا لُطف دوبالہ ہوجاتا ہے اور نہ سمجھنے سے اعتراضات کا میدانِ گرم ہوجاتا ہے ۔

 

ایک اور مشئلہ توحید اور حقیقتِ محمدی ﷺ  ہے جسکو  مختصراً بیان کرنا ضروری ہے ۔ اِن مسائل کو   جاننے سے اولیا اور صوفیا کے کلام کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے ۔
 
 
توحید اور حقیقتِ محمدی ﷺ 
 
        اسلام میں نظریہ توحید بلکل واضح ہے ۔  شریعت بلکل صاف ہے ۔ اسمیں کوئی دو رائے نہیں ۔  سوال آدمی کی نظر کا  ہوتا ہے ۔ جسکی جیسی نظر اُسکا ویسا ہی فہم ہوتا ہے ۔  جولوگ اللہ سے غافل ہیں اُنکی نظر میں بندہ ایک حقیقی شئے ہے اور اللہ خیالی ۔ لیکن حق پرست عارفین جو بفضلِ الہی حقائق کو جانتے ہیں اُنکی نظر میں بندہ کی دو جہتیں ہیں ۔  ایک جہت الی الرب اور دوسری جہت الی الخلق ۔  عارف ،  بندہ کو بندہ ضرور جانتا ہے مگر اُسکی نظر وہاں ہوتی ہے جہاں سے وہ آیا ہے ۔  عارف کی نظر میں ہر شئے علمِ الہی سے آئی ہے ۔ اسکی نظریں  ذاتِ الہی  پرمرکوز ہیں ۔  اِسکے لئے  ما سوا حق سب کچھ نا قابلِ توجھ  ہے ‘ خیالی ہے ۔

                دنیا میں حق پرست عارف بہت ہی  کم ہوتے ہیں ۔  جسطرح سے ایک سائنسدان یا فلاسفر کی باتیں ایک عام  آدمی کی سمجھ کے باہر ہوتی ہیں اِسی طرح ایک حق پرست عارف کا کلام بھی فہمِ عامہ سے بالاتر ہوتا ہے ۔

                وجود با الذات حق تعالیٰ ہے ۔  ما سوا اللہ کے وجود کے سب کچھ انتزاعی ہے ، خیالی ہے ، نا قابلِ توجھ ہے ، عدم ہے ۔  وجودِ مُطلق  اللہ  میں منحصر ہے جو خیرِمحض ہے ۔   وجودِ اضافی یا وجودِ انتزاعی  کے ساتھ عدمِ اضافی لگا ہوا ہے ۔  لہٰذہ بندوں سے کچھ خیر اور کچھ شر ظاہر ہوتا ہے ۔

                  اللہ تعالیٰ کے دو اعتباری تعینات ہیں ۔  ایک تعینِ ذاتی جس میں مخلوقات کو دخل نہیں ۔  دوسرا تعیّن با اعتبارِ اسماء و صفات ہے ۔  اس تعین  کے مظہر علمِ الٰہی میں اعیانِ ثابتہ ہیں ۔  اور اعیانِ ثابتہ کے مظہر خارج  میں آپ اور ہم ہیں ۔

            اعیانِ ثابتہ  کیا ہیں ؟  بندوں کی جو حقیقت علمِ الہی میں اللہ کو معلوم ہے اُنکو اعیانِ ثابتہ کہتے ہیں ۔  ہر بندے کی یا ہر شئے کی ایک حقیقت ہے جِسکا علم اللہ کو ہے ۔  اِس حقیقت کو عینِ ثابتہ کہتے ہیں ۔ عین ثابتہ کی جمع  اعیانِ ثابتہ ہے ۔ یعنی کاینات کی تمام  اشیاء کے جملہ حقائق کو اعیانِ ثابتہ کہتے ہیں ۔  اِن تمام اعیانِ ثابتہ کی جو کُلّی شکل ہے یا جو انکا  مبدہ  ہے  اُ سکو عینُ الاعیان کہتے ہیں ۔ عینُ الاعیان کا دوسرا نام  حقیقتِ محمدی ﷺ ہے ۔

        کیا آپ نے کبھی غور کیا یہ کائنات ظہور میں کیسے آئی ؟  جب اللہ کسی شئے کی حقیقت پر اپنے اسماء و صفات کی تجلی فرماتا ہے تو وہ شئے پیدا ہوجاتی ہے ۔ اسکو اللہ  نے قرآن میں کُنْ فیکن فرمایا ۔   اللہ کی تجلیات ، حقائق اشیاء کے مطابق ہوتی ہیں ۔  عینُ الاعیان  یا حقیقتِ محمدی ﷺ   پر اللہ کی جو  تجلی جلوہ فرما ہے اُسکو تجلّی اعظم  کہتے ہیں ۔ تجلیِ اعظم  اور حقیقتِ محمدی ﷺ   کے مجموع سے جو چیز وجود میں آئی اِسکو کائنات کہتے ہیں ۔  کائنات کو اِنسانِ کُلی بھی کہا جاتا ہے ۔

        اِن حقائق کو سمجھنا اور محسوس کرنا  آسان نہیں ۔  اسکے لئے ایک  شیخ کامل کی صحبت ، اُسکی توجھ  اور  نگرانی میں ایک طویل مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تب جاکر یہ حقائق آہستہ آہستہ کُھلتے ہیں ۔  ۔

        حقیقتِ محمدیﷺ وہ اعتبارِ وحدت یا نفسِ واحدہ ہے جس سے تمام کائنات کا وجود عمل میں آیا ۔  رسولِ کریم ﷺ کو جب بھی خیرُالبشر یا انسان کہا جاتا ہے تو اُس سے مُراد انسانِ کُلّی یا انسانِ کامل بِا الذات یا تجلّی اعظم  ہے جسکے مظاہر انسانِ جزّی یعنی آپ اور ہم ہیں ۔  رسولِ اکرم ﷺ اِس نوعِ انسانی کے کامل ترین فرد ہیں ۔  لہٰذہ حقیقتاً نبوّت آپ سے شروع ہوئی اور آپ پر ختم ہوئی ۔  آپ اُسوقت بھی نبی تھے جب آدم علیہ السلام آب و گُل میں تھے ۔  پھر اپنی خلقتِ عُنصری کے لحاظ سے آپ خاتم النبیّن ہیں ۔  یہی وجھ ہے کے رسول اللہ ﷺ اپنے رب پر پہلی دلیل ہیں ۔  رسول اللہ ﷺ کے علاوہ جتنے بھی افراد ہیں وہ سب آپ سے صادر ہیں ۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے  الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ۔ سورة النساء ۔ ۱

        انسانِ جزّی میں بھی بعض مظاہر ناقص ہوتے ہیں تو بعض خاص ۔  ہر زمانے میں ایک مظہرِ تام ہوتا ہے جسکو غوث ، قطب الاقطاب یا مرکزِ تجلی کہتے ہیں ۔  یہ رسول اللہ ﷺ کا پَرتَو با اعتبارِ کُلِّیت ہوتا ہے اور اسکو انسانِ کامل  بِاالعرض کہتے ہین ۔  رسول اللہ ﷺ کے صدقے میں یہ مرکزِ نظرِ الٰہی ہوتا ہے ۔

        راز کی بات یہ ہے کہ سوائے انسان کے کسی پر فنائیت نہیں آتی اور جب تک فنائیت نہیں آتی ان باتوں کو سمجھنا اور محسوس کرنا خارج از امکان ہے ۔  فنا کیا ہے ؟   بندے پر فضلِ الٰہی سے ایک ایسا وقت آتا ہے جب اللہ کا وجود اسکے اپنے وجود پر غالب آجاتا ہے ۔  اس حالت کو فنا کہتے ہیں ۔  فنا کے وقت جہتِ عبد  مُضمحل و نابود ہوجایی ہے ۔
         
         یہ اُنکا کرم ہے انکی عطا ، ہر شئے میں انہیں جو پا تے ہیں
        احساس یہ انکا بڑھ بڑھ کر ، ہم خود ھی کہیں کھو جاتے ہیں

        پھر  اُنکی  انا  قائم  جو  ہماری  ہستی  پر   ہوجاتی  ہے
        معلوم نہیں ، نہیں ہم کو پتہ ، ہم کیا سے کیا ہوجاتے ہیں

        بنا انکا  سراپا  حال  میرا ،  بنا  ایک  تماشہ  میں  انکا
        مجھکو وہ مٹاکے ہستی سے ، باقی خود ہی رہجاتے ہیں
        
        جب کیفیتِ فنا ہٹتی ہے تو اسکو بقا کہتے ہیں ۔  بقا وہ حالت ہے جسمیں بندہ ،  اللہ کے سوا نہ کسی کا فعل دیکھتا ہے اور نہ صفت ۔ اس کیفیت کو مُشاہدا  یا استحضارِحق بھی کہتے ہیں ۔
 
         کسی کی رُونمائی کا  اُٹھا  پردہ  ذرا  دیکھو
        جہاں کے ذرّہ ذرّہ میں وہ ہے جلوہ نُما دیکھو

        نئی ایک شان ہے اُسکی ، نئی ایک آن ہے اُسکی
        ہر ایک پل اور ہر لمحہ ہے اُس سے سامنا  دیکھو

        اثر اُنکی معیّت کا ہوا ہے کس قدر ہم پر
        بھری محفل میں بھی سب سے  پرے رہنا  ذرا  دیکھو
        
        حالتِ بقا میں بندے کو عبدِ کامل کہتے ہیں ۔ جب بندہ عبدِ کامل ہے تو وہ تجلی گاہِ حق ہوگا ۔ یہی وجھ  ہے کہ صوفیا  اپنے شیوخ کو تجلّی گاہِ حق دیکھتے ہیں ۔

        ائے شہہ عزت پیاؒ  تیری بڑی سرکار ہے
        مظہرِ  خیرُالوریٰ  تُو  سیدِ   ابرار  ہے

        جلوہِٴ رحماں فرش پر تیری صورت سے عیاں
        صورتِ جاناں سے تاباں بس وہی دلدار ہے
        
        اللہ کا مشاہدا بہ اعتبارِ اسماء و صفات ہی ممکن ہے ۔  ذاتِ حق کا مشاہدا مادّہ میں اور اشکال و امثال میں ہوسکتا ہے۔  ان سے ہٹ کر نہیں ہوسکتا ۔  اسکی وجھ یہ ہے کے ذاتِ الٰہی کا جو اعتبارِ ذاتی ہے وہ   لَا تُدرِکُہُ الاَبصَار  ہے ۔ یعنی کوئی آنکھ ذاتِ الٰہی کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔  اللہ کے اسماء و صفات کے مظاہرِ داخلی  اعیانِ ثابتہ ہین جنکے مظاہر عالمِ شہادت میں آپ اور ہم ہیں ۔

        یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ ہم آپ اور دنیا ہر شئے جلوہ گاہِ  رُبوبیت  ہے ۔  ربّ اسمِ الہی ہے جو اللہ کی قوت عطا کو ظاہر کرتا ہے ۔ اِس کائنات کی ہر چیز  پر شانِ رُبوبیت  کی تجلّی ہے جواُسکو اُسکی حقیقت کے لحاظ سے جُدا جدا ظاہر کرتی ہے ۔  رب ایک ہی ہے مگرہر شئے کی نسبت  اُس سے جدا ہے ۔   اللہ جو اِن تمام عالَموں کا رب ہے جو اِن تمام اشیاء کا مبدہ ہے اُسکے لئے معبودیت ہے ۔  وہی  حقیقی الہ یے ۔
        
        سمجھ کا پھیر ہے اُنکی جو ہر شئے کو خدا سمجھے
        وہی انسان کامل ہے خدا کو جو خدا سمجھے

        خدا بندہ نہیں ہوتا ، نہ ہے بندہ خدا ہرگز
        جو تم اب بھی نہ سمجھو تو تمھارے کو خدا سمجھے

        خالدؒ

        ذاتِ حق کے مرتبہ وحدت کو حقیقتِ محمدیﷺ کہتے ہیں ۔  حقیقتِ محمدیﷺ وہ مرکب ہے جو تجلی اعظم حق اور عین الاعیان کے ملنے سے بنا ۔ تجلی اعظم حق کو نُورِ محمدی ﷺ  اور عین الاعیان کو حقیقتِ محمدی ﷺ  کہتے ہیں ۔  تمام کائنات کی اشیاء ، جن میں بنی نوع اِنسانی بھی شامل ہے، اِسی مرکب کی تفصیل یا اِسی کُلّیت کی جُزّیات ہیں ۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ موجود خارج اعظم یا  یہ کائنات  رسول ﷺ کے لبادے میں ملبوس ہے ۔  کاینات کی ہر شئے پر تجلّی الہی اُسکی حقیقت کے حساب سے  جلوہ فِگن  ہوتی ہے ۔  اِس لحاظ سے حقیقتِ رسولﷺ ،  اللہ اور اسکے بندوں کے بیچ بہت بڑے آئینہ کا کام کرتی ہے ۔  اور یہی وہ آئینہ ہے جسمیں ذاتِ حق کا کامل دیدار ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے کہتے ہین کہ  جس نے رسول ﷺ کو دیکھا اُس نے یقیناً خدا کو دیکھا ۔
        
        ہے حسنِ ازل تاباں جلوے میں محمد ﷺ کے
        ظاہر ہے مُحب خود ہی محبوب کی صورت ہے

        مخفی تھا ہوا وہ عیاں تیری ذاتِ مقدس سے
        اُس گنجِ خِفیٰ کے تُو بس ایک شہادت ہے
        
        جس کسی نے ذاتِ حق کو تمام شہودات کا مرجع جانا ۔ یعنی اصل و حقیقت کو ذات سمجھا اور اسطرح معرفت حاصل کی کے خود کو بھی تجلّی گاہِ حق سمجھا اور معلومِ الٰہی پر، پَرتَوِ وجودِ مُطلق دیکھا تو بے شک اُس نے رب کو پہچانا ۔  اـسکو معرفتِ حق نصیب ہوئی اور مَنْ عَرَفَ نَفْسهُ فَقَد عَرَفَہ رَبّهُ  کو پایا ۔

         تُو ہے معبودِ حقیقی تُو اِلٰہ ہے سب کا
        ہر تعین کی نفی ہی میں ہے رستہ تیرا

        شانِ تنزیہ تیری اور ہے تشبیھ  تیری
        غیبِ مُطلق میں تُو  اِمکان ہے جلسہ تیرا

        نِت نئے رنگ میں ہر پل ہے نئی شان میں تُو
        تُجھ کو پہچانتا ہے خوب شناسہ تیرا

        حق پرست عارف کی چشمِ باطن (دلکی آنکھ) روشن اور چشمِ ظاہر (جسم کی آنکھ) معطّل ہوجاتی ہے ۔  اسی لئے  دنیا میں رہتے ہوئے بھی  اُسکو سوائے حق کے کچھ بھی نظرنہیں آتا ۔  برخلاف اسکے چشمِ ظاہر، ظاہر کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھ سکتی ۔  یہی وجھ ہے کہ علمائے ظاہر، متکلّمین ، اِسلامک اسکالرس میں کسی نے بھی حقیقتِ نفس کو نہ پہچانا ۔  اسیطرح  اربابِ نظر اور اربابِ فکر ان میں سے کسی نے بھی  معرفتِ نفس کو نہ پایا ۔ وہ مجبور ہیں ۔ نظرِفکری اُن پر بہت بڑا حجاب بن گئی ہے ۔  برعکس اِسکے علمائے الٰہین پیغمبروں نے ، حق پرست عارفوں نے ، اکابر اولیا اور صحیح العقیدہ  صوفیا نے حقیقتِ نفس کو دریافت کرلیا اور اپنے رب کو پہچان لیا ۔
 
        کون و امکاں میں نہیں کوئی بھی انجانہ تیرا
        رنگ لایا ہے میرے دل میں سما جانا تیرا

        ہر تعین سے نمایاں ، ہر تقید سے عیاں
        حیرت افزا ہے میرے یوں سامنے آنا تیرا

        ذرّہ ذرّہ سے تیری خوشبو مہکتی ہے یہاں
        دنگ کرتا ہے ہر ایک شئے سے اُبھر آنا تیرا
    
        اس موضوع کی تفصیلات کو اگر آپ انگریزی میں سمجھنا چاہیں تو  یہاں کلک کریں ۔

 

 
احساسستانِ اسدؔ کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔  حصہ اول حمدِ باری تعالٰی ،  حصہ دوم  نعتِ نبی ﷺ ، حصہ سوم  مُناقب اولیا اللہ اور حصہ چہارم  غزلیات اور متفرق کلام پر مُشتمل ہے ۔  کلام میں آپکو بے باکی اور بندش میں انفرادیت ملیگی ۔  ایسا لگیگا کہ دلکی آواز کو من و عن قلمبند کیا گیا ہے ۔  اشعار میں مئے محبت کے میخواروں کو بیش بہا دریائے اُنس ملیں گے ۔ سادگی ڈھونڈنے والوں کو سادگی ملیگی ۔ اگرآپ سخن شناس ہیں اورآپ کو کلام میں خوبیاں نظرآئیں تو محظوظ ہوں اور دعائے خیر کریں ۔

  

میر اسد اللہ قادری

 

 
 
 
 
حصہ دوم

نعتِ نبی صلى الله عليه و آله وسلم

 

 (1)


یا محمدﷺ ہوں میں اب سخت پریشاں مددے
بہرِ حسنینؓ  و علیؓ   فاطمہؓ  ذیشاں  مددے

کب تلک میں رہوں ظُلمت میں بَلاؤں میں گِھرا
کبھی تھمتا ہی نہیں ایسا ہے طوفاں مددے

آپکی یاد میں روتا ہوں میں ایک مدت سے
بڑھتا ہی جاتا ہے میرا غمِ ہجراں مددے

میں بھٹکتا رہوں کب تک یوں اندھیروں میں بھلا
ایک نظر مجھ پہ بھی ہو شافعِ عصیاں مددے

کوئی مُونِس نہیں  ہمدم نہیں لا چار ہوں میں
میرے آقا ہو میرے آپ نگہباں مددے

طُول پکڑا ہے جدائی کا زمانہ کتنا
سوجھتا کچھ نہیں مجھکو میں ہوں حیراں مددے

ڈوبا جاتا ہے میرا دل یا رسول عربی ﷺ
چشمِ رحمت ہے میرے درد کا درماں مددے

آپکے قدموں میں سر ہو یہ حسرت ہے میری
میرے آقا ہو میرے حال پہ احساں مددے

میں بھی ہوجاؤنگا اچھوں سے بھی اچھا مولٰی
ایک نظر ہو جو ادھر سوئے غریباں مددے


آپ سب کچھ ہیں اسدؔ کے ہو ذرا اِس پہ کرم
نقشِ نالین کے قربان میری جاں مددے

 

 

 (2)

 

تمھارا ہی ہے مجھکو اک سہارا یا رسول اللہ ﷺ
سنبھالو دونوں عالم میں خدارا یا رسول اللہ ﷺ

تمھیں دیکھے ہوئے مدت ہوئی ہے سخت حیراں ہوں
دیکھا دیجئے رُخِ زیبا  خدارا  یا رسول اللہ ﷺ

بلاؤں پر بلائیں ہیں پڑی ہیں آفتیں سر پر
پریشاں ہے بہت ہی ایک بے چارہ یا رسول اللہ ﷺ

ہوں مُضطر سخت مشکل میں تھپیڑوں میں پھنسا ہوں میں
طلا طم میں گِھرا  ہوں بے سہارا یا رسول اللہ ﷺ

ہوں بے شک عاصئی و مجرم  یقیناً بد سے بدتر ہوں
مگر ہوں نام لیوا میں تمھارا یا رسول اللہ ﷺ

ہُوا دشمن زمانہ اور ڈراتا ہے فلک مجھکو
چھپالو مجھکو دامن میں خدارا یا رسول اللہ ﷺ

نہیں ہے تاب مجھ میں سہہ سکوں جو آزمائش کو
ہو مجھ پر چشمِ رحمت کا اشارا  یا رسول اللہ ﷺ

ہے خستہ حال میرا  اب بہت ہی تھک گیا ہوں میں
تھکا ہارا ہے یہ چاہت کا مارا  یا رسول اللہ ﷺ

تمھارے ہی تصوّر میں درِ اقدس پہ سر رکھ کے
سگِ در آپکا دامن پسارا  یا رسول اللہ ﷺ

کسی طرح منالو ربّ اکرم کو میرے مولٰی
کرم ہو میرے حق میں آشکارا یا رسول اللہ ﷺ

میرے دلمیں ہیں چھالے داغِ اُلفت کے ذرا دیکھو
لگالو مجھکو سینے سے خدارا  یا رسول اللہ ﷺ

نہیں کوئی بھی خواہش ، بس اسدؔ کی آرزو یہ ہے
بنوں نقشِ کفِ پا میں تمھارا یا رسول اللہ ﷺ

 

 

 (3)

 

یا محمد ﷺ اب خدارا اِسطرف بھی دیکھنا
تم ہی ہو میرا سہارا  اِسطرف بھی دیکھنا

ایک مدت سے پکارے جارہا ہوٓں یا نبی ﷺ
ہوں کھڑا دامن پسارا  اِسطرف بھی دیکھنا

دامنِ صبر و تحمل چُھوٹ نہ جائے کہیں
ہوں میں تنہا  بے سہارا  اِسطرف بھی دیکھنا

ہیں بلاؤں کی گھٹائیں  آفتوں کی بجلیاں
ظلمتوں کا ہے اِجارہ  اِسطرف بھی دیکھنا

لڑکھڑاتا ہوں میں مولٰی وادئیِ پُرخوار میں
ہوں تھکا ہمت کا ہارا  اِسطرف بھی دیکھنا

اِس مریضِ عشق پر لطف و کرم کی ہو نطر
ہو عطا صدقہ تمھارا   اِسطرف بھی دیکھنا

آپ ہی سب کچھ ہو میرے  آپ ہی کا ہے سدا
دل پہ میرے سب اِجارہ  اِسطرف بھی دیکھنا

سر میں ہے سودا تمھارا  یاد ہے دل میں مُدام
میں تو ہوں بندہ  تمھارا  اِسطرف بھی دیکھنا

جان نکلے گی میری تمکو سرہانے دیکھ کر
ہوں بڑا شیدا تمھارا  اِسطرف بھی دیکھنا

بے کلی دن میں ہے تو شب کو ہیں آنسو ، اسطرح
ہوتا ہے میرا گزارا   اِسطرف بھی دیکھنا

جلوہ  فرمائی سے کچھ  دل کو سکوں مل جائے گا
دیکھ لوں چہرا تمھارا   اِسطرف بھی دیکھنا

ہوں بُرا  سب سے بُرا  پر قادری ہوں سیّدی
لاج رکھ لو اب خدارا  اِسطرف بھی دیکھنا

چاہتا تمکو بہت ہے یہ سگِ در آپکا
ہے اسدؔ چاہت کا مارا   اِسطرف بھی دیکھنا 

 

 

 (4)

 

نام  لیوا  آپکا  ائے سیدِ ابرار ﷺ   ہوں
یا محمد مصطفیٰ ﷺ میں طالبِ دیدار ہوں

یاد کرتا ہوں تمھیں آٹھوں پہر یا سیدی
دیکھ جاؤ مجھکو آقا میں بہت بیمار ہوں

آپ ہی کا ہے تصوّر میری آنکھوں میں مُدام
مِثلِ پروانہ میں مشغولِ طوافِ یار ہوں

آپ ہی کا ذکر ہے اور آپ ہی کا ہے خیال
جان و دل سے میں تمھارے حاضرِ دربار ہوں

آپ کا ادنیٰ گدا ہوں گو مقیمِ ہند ہوں
دور اُفتادہ ہوں ادنٰی اُمتی سرکار ہوں

ہوں میں ذرّہ آپکا ہی ائے شہہ کون و مکاں
اپنی غفلت سے میں خود ہی خاطرِ آزار ہوں

اب نقابِ رُخ اُلٹ دیجئے خدا کے واسطے
میں ازل ہی سے دیوانہ آپکا سرکار ہوں

ہو عطا مجھکو مئے وحدت فنا فی اللہ کا
جامِ کوثر پی کے آقا میں بھی تو سرشار ہوں

مستقر ہوں ہند میں یا ہوں مدینے میں اسدؔ
حکم کا بندہ ہوں میں تحتِ رضائے یار ہوں

 

 

 (5)

 

قاسمِ ارض و سماء میری طرف بھی دیکھنا
یا محمد مُصطفیٰ ﷺ  میری طرف بھی دیکھنا

رحمتُ للعالمیں ہو  شافعِ کُل عاصیاں
جلوہٴِ ربُّ العلیٰ  میری طرف بھی دیکھنا

ہوں غلامِ آلِ اطہر سیدِ کون و مکاں
رحمتِ ہر دوسَرا  میری طرف بھی دیکھنا

ذرّہٴِ نا چیز ہوں   پیوندِ  خاکِ آستاں
ہوں سگِ در آپکا  میری طرف بھی دیکھنا

ہر کوئی پاتا ہے در سے آپکے یا سیّدی
منبعِ جود و سخا  میری طرف بھی دیکھنا

سب مُرادیں پارہے ہیں  ہر سوالی شاد ہے
میں بھی ہوں کب سے کھڑا  میری طرف بھی دیکھنا

آئی ہے یہ زندگی میں سخت مشکل کی گھڑی
ائے میرے مُشکل کُشا  میری طرف بھی دیکھنا

دامنِ رحمت میں لے لو یا شفیعُ المذ نبیں
کشمکش میں ہوں پھنسا میری طرف بھی دیکھنا

کوئی میرا یار ہے نہ مُونِس و غمخوار ہے
ائے حبیبِ کِبریا  میری طرف بھی دیکھنا

سب خطاؤں کو اسدؔ کی معاف کردیجئے حضور
میں یقیناً  ہوں  بُرا  میری طرف بھی  دیکھنا

 

 

 (6)

 

ائے شہہ دنیا و دیں میری مدد فرمائے
باغِ وحدت کے مکیں میری مدد فرمائے

بے قراری بڑھگئی ہے انتظاری تابہ کئے
رحمتُ لِلعالمیں میری مدد فرمائے

آفتوں نے اور بلاؤں نے جکڑ رکھا ہے یوں
تنگ یے مجھ پر زمیں میری مدد فرمائے

منبعِ جود و عطا اور قاسمِ کون و مکاں
تُم سوا کوئی نہیں  میری مدد فرمائے

چشمِ باطن ہو عطا اب چشمِ ظاہر کے عِوض
نورِ ربُّ العالمیں میری مدد فرمائے

سونچتا ہوں روز و شب آؤگے لیجانے مجھے
رکھ لو قدموں میں وہیں  میری مدد فرمائے

گِرد گُنبد کے میں لوٹوں  خاکِ طیبہ میں مِلوں
میرا مدفن ہو وہیں  میری مدد فرمائے

مر بھی جاؤں تو نہیں پروا ہے تمکو چھوڑکر
 میں نہ جاونگا کہیں  میری مدد فرمائے

چاہتا تمکو اسدؔ ہے اُسکے تم ہو دلنشیں
ائے میرے دل کے مکیں  میری مدد فرمائے

 

 

 (7)

 

دلمیں آنکھوں میں سمائی پیاری صورت آپکی
بَس گئی دل میں میرے آقا محبت آپکی

میں ہوں بیمارِ محبت مجھ پہ ہو فضل و کرم
جان لیوا ہے میرے آقا یہ فُرقت آپکی

عشق نے مجھکو جلا کر راکھ سا ہے کردیا
کرتی ہے اسکو معطر مہکِ اُلفت آپکی

روح نکلے گی دمِ آخر تمھیں کو دیکھ کر
ساتھ ہی جائے گی تاکہ پائے قربت آپکی

میں ہی کیا کونین ہے نعلینِ اقدس کے نثار
فرش تا عرشِ بریں پر ہے حکومت آپکی

لاج رکھ لیجے اسدؔ کی ائے شہہ ارض و سماء
یا محمد ﷺ مجھ پہ ہو نظرِ عنایت آپکی

 

 

 (8)

 

 ھائے میں تڑپوں تم بن ساجن ، ملکر کیوں چُھپ جائے
چُپ سادھے کیوں دور ہو ہم سے بھول ہوئی کب ھائے

نینن برسے ، جیارا ترسے ، طیبہ کے مہا راجہ آجا
موہنی صورت  دیکھن کو  جِیا  ساجن  اب  للچائے

سُکھ جیون تھا تُمرے آنگن ، دن تھے کیا اُجیارے پیارے
اک اک پل اب یُگ بیتے ہے ، پھر وہ دن کب ائے

واری جاؤں تمکو مناؤں ، تم ہی کہو کیسے جی پاؤں
تڑپت ہے دن رین ابھاگن ، کیسے سُکھ  اب  پائے

روپ دھرا ہے تم نے کسکا ، موہ لیا من میرا
نیہا لگایا ، چین گنوایا ، بِرہا اب کھا جائے

بُھولی جگ کو ، بُھولی خود کو ، مجھکو دُھن ہے تیری
پِریت کی اگنی میں داسی جل جل کر اب مِٹ جائے

ھے پَرَبُھو کوئی راہ دیکھا ، اب پیا میرا مجھکو لوٹا
جو کچھ بھی کھویا ہے اسدؔ نے اُسکو سب ملجائے

 

 

(9)

 

آپکے قد موں کو مدّت سے ہوں میں لِپٹا ہوا
یا محمد ﷺ میرا دل ہے آپ پر صدقہ ہُوا

میری آنکھوں میں سمائے میرے دل میں بَس گئے
والا و شیدا تمھارا میں ہوں دیوانہ ہُوا

آپ کا ہے نام لب پر  آپ کا ہی ہے خیال
آپکی دُھن میں ہوں اپنے آپ کو بُھولا ہُوا

ہوں بظاہر ہند میں پر ہے مدینے میں قیام
سامنے روضے کے مولٰی ہوں کھڑا روتا ہُوا

ہو توجُّھ مجھ پہ بھی ائے شافعِ کُل عاصیاں
بے سروساماں  اسدؔ ہے آپ پر صدقہ ہُوا

 

 

(10)

 

 یا محمد ﷺ ہو عنایت طالبِ دیدار پر
میرے آقا اب کرم ہوجائے حالِ زار پر

دلکی حسرت ہے کہ لوٹوں نقشِ پائے ناز پر
سر کو رکھدوں میں قُدومِ احمدِ مُختارﷺ  پر

تم کو دیکھوں تم کو چاہوں تم کو پاؤں ہر گھڑی
صدقہ میری جان بھی ہو روئے پُر انوار پر

آپکے اطراف ہوں چکر طوافِ عشق کے
یا خدا مجھکو بٹھادے آستانِ یار پر

شافعِ محشر اسدؔ کو بھی چُھڑالینا وہاں
عاصیوں کو ہے بھروسہ آپکی سرکار پر

 

 

(11)

 

میرے دلکی ہے بس یہ حسرت محمد ﷺ
ہو دائم تمھاری ہی قربت محمد ﷺ

اُتارو مجھے اپنے صدقے میں آقا
ہے مجھکو تمھیں سے محبت محمد ﷺ

مجھے اپنے دامن کا دیدو سہارا
مِلے مجھکو دامانِ رحمت محمد ﷺ

گِھرا ہوں گناہوں کی ظلمت میں ایسا
پشیماں ہوں اور ہے ندامت محمد ﷺ

گنہگار ہوں پر ہوں بندہ تمھارا
بچالو نہ ہو میری ذلّت محمد ﷺ

ہوں بے کس یتیم و یسیرِ زمانہ
ذرا  دیکھ  لو میری حالت محمد ﷺ

میں سائل ہوں آقا  شہہ دوسَرا تم
مِٹادو مٹادو یہ کُلفت محمد ﷺ

نہ خالی گیا کوئی در سے تمھارے
عرض کرتے گذری ہے مدت محمد ﷺ

بہت تھک گیا ہوں میں آنسو بہاتے
ہوئی ہے میری پست ہمت محمد ﷺ

تمھارے سِوا اب میں کس کو پُکاروں
بنادو میری بگڑی قسمت محمد ﷺ

ہو باطن اسدؔ کا تمھاری ہی صورت
ہو مجھ پر تمھاری عنایت محمد ﷺ

 

 

(12)

 

پُھونکے  طوفاں بھی میرا نشیمن
میں نہ چھوڑوں محمد ﷺ کا دامن

یا خدا میٹ دے میری ہستی
میں ہی خود ہوں بڑا میرا دشمن

یہ دوئی ہے محبت کو مانع
عشق احمد ﷺ جلا میرا تن من

اب ہٹادو حجاباتِ کثرت
ہو ہمیشہ تمھارا درشن

تمکو دیکھوں میں سب کو دِکھاؤں
بن کے آقا تمھارا درپن

میں ہوں خاکِ کفِ پائے حضرت ﷺ
اُنکے نالین ہوں میرا مسکن

پاس اپنے بُلالو اسدؔ کو
ہے ازل کا ہمارا بندھن

 

 

(13)

 

آس کے ماروں کی اُمیدِ جہاں تم ہی تو ہو
بے سہاروں کے محمد ﷺ پاسباں  تم ہی تو ہو

کَس مَپُرسی میں رہیں بندے خدارا کب تلک
حق کے آگے ہم غریبوں کی زباں  تم ہی تو ہو

آپکے ہیں زیرِ فرماں یہ زمین و آسماں
مُفلِس و لاچار پر گوہر فشاں  تم ہی تو ہو

ایک مدت سے خِزاں نے گھیر رکھا ہے ہمیں
گُلشنِ اسلام کے ایک پاسباں  تم ہی تو ہو

سَر بسجدہ ہم رہے توبہ میں گزری صبح و شام
واقفِ  دردِ نہاں   آہ و فُغاں   تم ہی تو ہو

دُشمنانِ دین نے  کُہرام  برپا  کر دیا
ناتوانوں کی سِپر  تیرو کماں  تم ہی تو ہو

ہیں بلاؤں کے طَلاطُم  روک لو بہرِ حسینؓ
کشتئ مسلم کے بس اک  پاسباں   تم ہی تو ہو

دامنِ رحمت میں لے لو ہم کو اب یا سیّدی
دوجہاں کے شافعِ کُل عاصیاں  تم ہی تو ہو

ہے اسدؔ  بندہ  تمھارا  تم  سِوا  جائے  کہاں
تم ہو اُسکے دل نشیں  اُسکا جہاں  تم ہی تو ہو
 

 

 

(14)

 

 آؤ نبی جی مہاراج ﷺ ہم پر دیا کرو
چہرہ  دیکھاؤ   آج   ہم پر دیا کرو

برہا کی اَگنی من کو جلائے
میگھوا برسو آج  ہم پر دیا کرو

نینوں کے تارے   جگ اُجیارے
سن لو عَرج تم آج ہم پر دیا کرو

بھیس بدل کر آئے ہو جگ میں
ہم جانت ہیں راز ہم پر دیا کرو

تم  چاہو  تو سب کچھ  ہو وے
رکھ لو ہمری لاج ہم پر دیا کرو

آؤگے  تم  تو  لُونگی  بَلیّاں
پیا ملن ہو آج ہم پر دیا کرو

پریت  کا  مالا   جنم  کا  بندھن
ڈالو گلے میں آج  ہم پر دیا کرو

مُورکھ  بن  کر  دیکھوں  تم  کو
گلے لگا لو سرتاج  ہم پر دیا کرو

ساجن تِہارے پھیرے پھروں میں
آقا  نہ  جاؤ  آج   ہم پر دیا کرو

سُوجت نا ہی کچھ بھی اسدؔ کو
پیّاں پڑوں مہاراج  ہم پر دیا کرو

 

  

(15)

 

 کرم کی ایک نظر مجھ پر خدارا یا رسول اللہ ﷺ
میرے آقا میں ہوں بندہ  تمھارا  یا رسول اللہ ﷺ

تمھارا  قُرب ہی مقصد ہے میری زندگانی کا
عطا ہو گوشئہ دامن تمھارا  یا رسول اللہ ﷺ

مجھے قدموں ہی میں رکھ لو نظر کے سامنے اپنے
ازل سے ہوں میں وابستہ تمھارا  یا رسول اللہ ﷺ

ہے حسرت سامنے روضے کے لوٹوں دیکھتے تم ہوں
میں دیوانہ ہوں دیوانہ تمھارا  یا رسول اللہ ﷺ

تمھارے جلوہٴِ اقدس کے میں ہوتا رہوں صدقے
بنادو مجھکو پروانہ تمھارا  یا رسول اللہ ﷺ

تمھارے در کی ایک ادنٰی گدائی ہو عطا مجھکو
تصدق میں بنوں درباں تمھارا  یا رسول اللہ ﷺ

اسدؔ کو ساتھ ہی لیجائے دنیائے فانی سے
ہو میرے ہاتھ میں دامن تمھارا  یا رسول اللہ ﷺ

 

  

(16)

 

 ہم ہیں داسی تِہارے بَلِہاری تورے جاؤن نبی جی ﷺ
بَیّاں پکڑلے ہمارے بَلِہاری تورے جاؤن نبی جی ﷺ

تیرے چَرن ما لاج ہماری  ،  تیری  لگن وا  ہمکا  گھیری
آؤ  کملیا  والے  بَلِہاری  تورے  جاؤن  نبی  جی ﷺ

تڑپت ہوں دن رین بَلموا  ،  سن لو ہماری ایک عَرج وا
آوے تو پھر نا جارے  بَلِہاری تورے جاؤن نبی جی ﷺ

تم ہو جگت کے پالن ہارے ، بِبتا ہمری دوار تِہارے
انجان ہو نہ پِیارے  بَلِہاری تورے جاؤن نبی جی ﷺ

آن پڑی منجھدار میں نیّا ، گھور سَمودر آؤ کھیویّا
ہمکا پار لگادے  بَلِہاری تورے جاؤن نبی جی ﷺ

دل میں بسے ہو آنکھ سے اوجھل ، بِرہا میں برسے نین سے بادل
ہم ہیں بہت دُکھیارے بَلِہاری تورے جاؤن نبی جی ﷺ

رات کی نندیا ، دن کا چینا ، من جیون سب لیگیو سجنا
ہمکا پاس بُلالے بَلِہاری تورے جاؤن نبی جی ﷺ

بیری کٹھن ہے پریت ڈگریا ، ہمری اُور ہو تمری نجریا
جیا مورا  گھبراوے  بَلِہاری تورے جاؤن نبی جی ﷺ

ٹھانی اسدؔ نے پیا ملن ہو ، داسی کرلو بیراگن کو
مَیں کو میری مٹادے  بَلِہاری تورے جاؤن نبی جی ﷺ
 

 

  

(17)

 

تُو قرب نبی ﷺ کا مجھے پروردگار دے
دینا ہی ہو مجھے تو دلِ جانثار دے

گُھل گُھل کے جئے جاؤں میں کب تک میرے مولٰی
طیبہ کے شبستاں کی وہ لَیل و نہار دے

بن بن کے میرے کام بگڑجاتے ہیں اکثر
صدقے میں محمد ﷺ کے تُو مجھکو سنوار دے

ہوں قادری مجھکو ہے درِ غوثؓ سے نسبت
اُنکے طفیل میری یہ کُلفت اُتار دے

شمسیؒ و وجودیؒ  ،  ہوں غلامِ شہہ خالدؒ
اُنکے لئے توُ میرے چمن میں بہار دے

خواجہ میاںؒ  و حسرتؒ  و عزتؒ کا واسطہ
غم ہوچکے بہت ہیں سُکون و قرار دے

مومن پیاؒ  کے ہاتھ اُٹھے ہیں میرے مولٰی
رکھ لاج ائے وہّاب مجھے بے شمار دے

تیری عطا کو کُن ہی کی بس دیر ہے مولٰی
کر رحم اسدؔ پر میری بِگڑی سنوار دے

 

  

(18)

 

 نبی جی ﷺ تُو مجھکو مدینہ بُلا لے
مدینہ بُلا کے اپنا روضہ دیکھا  دے

تُو دربارِ اقدس میں مجھے یاد کرکے
ائے مسند نشیں اپنا جلوہ دیکھا دے

بنوں تیرا درباں یہ دلکا ہے ارماں
میں اد نا  ہوں اد نا  کو اعلٰی بنا دے

میں بندہ ہوں تیرا   تُو ہے میرا مولٰی
میں قطرہ ہوں  قطرے کو دریا بنا دے

بنوں حق نِگر قلبِ روشن عطا کر
میری چشمِ باطن کو نورِ ضیا دے

میں ہوں ایک عاصی تُو شافعِ محشر
نبی ﷺ اپنی کملی میں مجھکو چُھپا لے

اسدؔ  پر دمِ  نزع  اتنا  کرم  ہو
میرے سر کو قدموں میں اپنے جگہ دے

 

  

(19)

 

من جیون لیگیو نبی جی ﷺ موہے مُکھڑا دیکھا ئی کے
دل ہاری ،  بلہاری  رے  توسے نینا  لڑائی  کے

چھیل چھبیلے ، نین رسیلے ، سائیں چُھپے ہیں روپ میں تیرے
کا سے کہوں جی پِیا  میں توہے سند یسا بجھائی کے

یُگ بیتے ہے رین نہ بیتے ، دیکھن کو تورے انکھیا ں ترسے
بِرہا میں دن تڑپا ئے جی مورے من کو جلائی کے

تن من جیون سب کچھ لے لیو ، آؤ نبی جی ﷺ ہمکا لے لیو
مانگ  بھرو  لیجاؤجی  موہے  گُھنگٹا  اُڑائی  کے

تُم چاہو تو سب کچھ  ہووے ،  میں چاہوں کچھ  بھی نہ ہووے
کردو  ایک  اُپکار ہمکو  چَرن ما  بِٹھائی کے

بھول گئی سب تم بِن سیّاں ، آن پکڑلو ہمری بیّاں
میں تم میں کھو جاؤں رے توسے جیارا لگائی کے

جگ دیکھت ہے ہمکا ساری ، بانوری ہوگئ  داسی  تِہاری
پھرے ہے بزارِ بزار اسدؔ  تو ہے من ما چھپائی کے
 

 

  

(20)

 

جام اُلفت کا پلا دیجئے طیبہ والے ﷺ
اپنا  دیوانہ  بنا  لیجئے  طیبہ والے ﷺ

حَجرِ بے فیض ہوں سرکار کرم فرما کر
سنگِ در اپنا بنا لیجئے طیبہ والے ﷺ

چشمِ وحدت سے مجھے آپ یگانہ کر کے
غیریت دل سے بُھلا دیجئے طیبہ والے ﷺ

ہوں گنہگار میں ظُلمت نے مجھے گھیرا ہے
نورِ احمد  کی  ضیا  دیجئے  طیبہ  والے ﷺ

حیثیت کیا ہے میری اور کیا عِصیاں میرے
اپنی رحمت میں جگہ دیجئے طیبہ والے ﷺ

ایک یہی در ہے جہاں پر میری سُنوائی ہے
لِللّٰه اب مجھکو بچا لیجئے  طیبہ والے ﷺ

یا محمد ﷺ ہے اسدؔ آپکے خالدؒ کا غلام
روئے انور کو دیکھا دیجئے طیبہ والے ﷺ

 

  

(21)

 

 تم شہہ خیرالورای ہو یا محمد مُصطفیٰ ﷺ
تم شفیعِ دوسَرا ہو یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

صاحبِ لوح و قلم ہو قاسمِ ارض و سما
دو جہاں کے پیشوا ہو یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

ہوں میں محتاجِ کرم لِلله مدد فرمائیے
تم میرے مُشکل کُشا ہو یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

ہوں شِکستہ حال میں حالِ زُبوں ہے لا کلام
حامئی غربت ذدہ ہو یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

ظُلمتوں میں گِھرگیا ہوں راستہ دکھلائیے
تم ضیائے کِبریا ہو یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

ڈوب نا جائے کہیں کشتی میری منجدھار میں
تم ہی میرے نا خدا ہو یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

ایک مُدت ہوگئی ہے عرضِ مقصد کو میرے
تم حقیقت آشنا ہو یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

جاہلِ مطلق ہوں میں سمجھا نہ منشا آپکا
دردِ دلکی تم دوا ہو  یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

میں گدا ہوں آپکا در پر ہی رکھ لیجئے مجھے
تم ہی میرا آسرا ہو  یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

حاظرِ دربار ہوں لبیک یا صلّ علیٰ
تم سراپا کبریا ہو  یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

ہے اسدؔ حیراں تمھاری چشمِ رحمت دیکھ کر
جان و دل تم پر فدا ہو  یا محمد مُصطفیٰ ﷺ

 

  

(22)

 

 آسِ دل غمگُسار تم سے ہے
میرے دل کو قرار تم سے ہے

تم سِوا کس سے حالِ زار کہوں
ذکرِ  احوالِ  زار  تم سے ہے

ڈوب جائے نہ میری ناؤ کہیں
میری بس جیت ہار تم سے ہے

ہوں نمک خوار لاج رکھ  لیجئے
بندہٴِ   خاکسار  تم سے ہے

جُز تمھارے نہیں کوئی میرا
عرض زارو قطار تم سے ہے

ایک نظر مجھ پہ ائے شہہ بطحہ ﷺ
رحمِ پروردگار تم سے ہے

اب چھپالو اسدؔ کو دامن میں
التجا اشکبار تم سے ہے

 

  

(23)

 

زندگی یادِ محمد ﷺ میں بسر ہو تی ہے
بیکلی دن میں تو نالوں میں سحر ہوتی ہے

ہے تصور میں تخیل میں وہ روئے انور
محوِِ حضرت ﷺ ہی میری ذوقِ نظر ہوتی ہے

بسا اوقات ہر ایک شئے میں اُنھیں پاتا ہوں
پھر مجھے اُنکے سِوا کچھ  نہ خبر ہوتی ہے

ہوں گنہگار مگر ہوں تو میں اُنکا بندہ
اُنکی رحمت ہی پہ بس میرں نظر ہوتی ہے

میری ہر حال میں امداد وہی کرتے ہیں
مجھ پہ لگتا ہے سدا اُنکی نظر ہوتی ہے

سامنے آیئں تو صدقے میں اُتر جاؤں میں
اِس تصور میں اسدؔ عمر بسر ہوتی ہے

 

  

(24)

 

محوِ حیرت ہوں میں خود میں حُسنِ یکتا دیکھ کر
میں ہی کیا دونوں جہاں میں اُنکا  جلوہ  دیکھ کر

خِیرگئیِ دیدہٴِ حق بیں میری مت پوچھئے
نورِ احمد ﷺ کو ہر ایک شئے سے جَھلکتا دیکھ کر

تھا گماں مجھکو کہ میں موہوم سا معقول ہوں
ہوں میں حیراں اُنکو اِس پردے میں چُھپتا دیکھ کر

یا محمد ﷺ آپکی چشمِ کرم کا ہے اثر
جھومتا ہوں آپکا خود میں سراپا دیکھ کر

یا رسول اللہ ﷺ اُٹھادو سب حجاباتِ دوئی
سجدہ ہو بس آپکا نقشِ کفِ پا دیکھ کر

مجھکو سمجھادو سبھی اسرار یا سِرّ ھُدا
دین و دنیا میں چلوں منشا تمھارا دیکھ کر

روزِ محشر کِھل اُٹھے گا جیسے ہے عیدِ نجات
تاجِ  رحمت  قاسِمِ  خُلدِ  بَریں  کا  دیکھ کر

لوگ ہونگے شَشدر و حیران ،  اُمت کو وہاں
قاضئی محشر کو خود ہی بخشواتا دیکھ کر

وقتِ آخر مجھکو اپنے ساتھ ہی لیجائے
روح نکلے گی اسدؔ کی روئے زیبا دیکھ کر

 

  

(25)

 

آجا  نبی ﷺ مدینے کی مکیں ترا رُتبہ ہے کِتنا بڑا
تیری محبت  ہوئی دل نشیں ترا رُتبہ ہے کِتنا بڑا

تُو ذرّے زدّے میں ہوکے نُمایاں حق کا بنا آئینہ
روضہ تیرا وہ یے عرشِ بریں ترا رُتبہ ہے کِتنا بڑا

محبوبِ حق تجھ پہ قدرت فدا ہے خدائی ثنا خواں تیری
تصویرِ حق وہی نقش و نگیں ترا رُتبہ ہے کِتنا بڑا

سایہ نہیں  تیرا  ثانی نہیں  کوئی تجھ سا ہوا نہ کبھی
نورِ مجسم تُو ہی حق مُبیں ترا رُتبہ ہے کِتنا بڑا

ختمِ نُبوت   تُو ختمِ رسالت  و شمسِ ھدایت بھی تُو
ایوانِ  وحدت کے مسند نشین ترا رُتبہ ہے کِتنا بڑا

کون و مکاں تیرے زیرِ قدم  ہے خدائی بھی تجھ پر ختم
ذاتِ نبی ﷺ  رحمتِ  عا لمیں  ترا  رُتبہ  ہے  کِتنا  بڑا

چشمِ حقیقت سے دیکھو ذرا نہیں کوئی بھی اُن سے جُدا
نورِ محمد ﷺ  جہاں  آفریں  ترا  رُتبہ  ہے  کِتنا  بڑا

او کملی والے اسدؔ ہے پریشاں اُس پر ہو نظرِ کرم
دل میں تڑپ سجدے میں جبیں ترا رُتبہ ہے کِتنا بڑا 

 

 

(26) 

 

 مجھے اب حبیبِ خدا  مل گیا ہے
میرے دل کو حق کا پتہ مل گیا ہے

نہیں خوفِ دنیا نہ ہے خوفِ عقبا
مجھے شافعِ دوسَرا مل گیا ہے

میں خوش ہوں مجھے اب تو دونوں جہاں میں
نبی ﷺ کا مجھے آسرا مل گیا ہے

تخیل  تصور میں رہتے تھے ہر دم
شُہود اُنکا اب جا بجا مل گیا ہے

میں صدقے میں اُتروں ہر ایک پل نبی ﷺ کے
کیا اچھا مجھے مشغلا مل گیا ہے

سُکوں دل کو حاصل ہے آنکھوں کو ٹھنڈ ک
مجھے اب تو روئے خدا مل گیا ہے

خوشی سے زمیں پر نہیں ہیں قدم اب
مجھے دوجہاں کا خدا مل گیا ہے

جبینِ نیاز اب نہ چھوڑیگی ہرگز
نبی ﷺ کا اُسے نقشِ پا مل گیا ہے

اسدؔ بن گیا خاک پائے محمد ﷺ
اُسے زندگی کا صِلہ مل گیا ہے

 

 

(27) 

 

تعین ہو نہیں سکتا کبھی نورِ مُجرد کا
یہی وہ رازِ وحدت ہے نہ تھا سایہ محمد ﷺ کا

وہ ذاتِ غیبِ مطلق کی جو صورت علمِ حق میں تھی
وہ اعتبار وحدت میں بنا نقشہ محمد ﷺ کا

یہ وہ ہے جو مکیں تھا گنجِ خَلوت میں سدا اپنی
جمالِ ذات جلوت میں بنا جلوہ محمد ﷺ کا

ہوا اظہار حق کا صورتِ خیرُالبشر لیکر
جمالِ مُصطفیٰ ﷺ در اصل ہے وہ  نور سرمد کا

ذرا تم چشمِ حق بیں سے حقائق کو تو پہچا نو
اُٹھے گا بیچ سے پردہ احد کے میمِ احمد ﷺ کا

خدا خود کو بھی گر دیکھے تو دیکھے صورتِ حضرت ﷺ
خدا  کا  با الیقیں  دیدار  ہے  دیدار  احمد ﷺ  کا

ہوئی تخلیق آدم کی حبیبِ حق کی صورت پر
رِسالت جس پہ نازاں ہے وہ رُتبہ ہے محمد ﷺ کا

گواہی دینگے جِبریلِ امیںؓ گر ہوسکے پوچھو
فرشتہ فی الحقیقت میں ہے بندہ ذاتِ احمد ﷺ کا

خدا  اُسکی خدائی ہے ثناخواں شاہِ بطحہ کی
تعالی اللہ کیا رُتبہ ہے رتبہ شانِ احمد ﷺ کا

رسول اللہ ﷺ پر قربان ہوکر پا لیا میں نے
میرے جینے کا مقصد جو تھا اُن سے عشقِ بے حد کا

اسدؔ ہے بندہٴِ حضرت ﷺ دیوانہ آپکا شیدا
مقدر نے بنایا مجھکو پروانہ محمد ﷺ کا 

 

 

(28) 

 

مظہرِ حق ہیں کُن فکاں ہیں آپ
ساکِنِ کون و لامکاں ہیں آپ

ذاتِ مطلق ہی ذاتِ اقدس ہے
منبعِ جُودِ بے نشاں ہیں آپ

قال میں خاتمِ نبوت ہیں
حال میں مانعِ بیاں ہیں آپ

آپ اول ہیں آپ آخر ہیں
بے نشاں ذات کے نشاں ہیں آپ

ذاتِ حق ہوگئی عیاں سب پر
منشاءِ حق کے راز دان ہیں آپ

کون و امکاں ہے آپکا پرتَو
دونوں عالم کی روح و جاں ہیں آپ

ہے اسدؔ ایک اِختراعِ وہم
فی الحقیقت میں خود عیاں ہیں آپ

 

 

(29) 

 

ہے ہر آن مجھکو خیالِ محمد ﷺ
ہے پیشِ نظر بس جمالِ محمد ﷺ

پلک بند ہوں تو وصالِ اِلٰہی
کُھلی آنکھ تو ہے وصالِ محمد ﷺ

ہر ایک ذرّہ ذرّہ میں پاؤں میں تمکو
یہ کونین ہے عرضِ حالِ محمد ﷺ

میں صدقے میں قربان اپنے نبی ﷺ کے
ہے کیا خوب حُسن و جمالِ محمد ﷺ

وہ موجودِ اعظم سراپائے حق ہیں
نہیں ہے جہاں میں مثالِ محمد ﷺ

ہے ذاتِ حقیقت ہی ذاتِ محمد ﷺ
کلامِ  خدا  بول  چالِ  محمد ﷺ

یہ کونین کیا ہے بجز نورِ احمد ﷺ
جہاں ہے بساطِ خیالِ محمد ﷺ

اسدؔ بھی ہے اپنے مقدر پہ نازاں
وہ ہے زیرِ سایہٴِ  آلِ محمد ﷺ

 

 

(30) 

 

روئے خدا ہے وہ رُخِ تابانِ محمد ﷺ
دربار خدا کا ہے وہ ایوانِ محمد ﷺ

حیراں ہیں مَلک ، جِن و بشر دیکھ کے اُنکو
وہم و گمان سے ہے ورا شانِ محمد ﷺ

کونین کی ہو شئے سے مقدس ہے وہ روضہ
محبوب خدا کو ہے شبستانِ محمد ﷺ

ہے فرض ثنا اُنکی خدائی میں سبھی کو
دیکھو خدا ہے خود ہی ثنا خوانِ محمد ﷺ

ہے یہ کمالِ عشق خدا اُن پہ فِدا ہے
محبوبِ خدا  رُتبئہِ  ذیشانِ محمد ﷺ

یہ انجذابِ عشق کی کیا شان ہے وللہ
مہکِ خدا ہے خوشبوئے دامانِ محمد ﷺ

اصحابِ مصطفیٰ ﷺ کی حقیقت نہ پوچھئے
نبیوں سی مہک ہے بوئے خاصانِ محمد ﷺ

آنکھوں میں سمائے وہ بسے ہیں میرے دل میں
ایماں و میری جان ہے قربانِ محمد ﷺ

احسان نبی ﷺ کا ہے اسدؔ بندہٴِ حضرت
ہو چشمِ عنایت بنوں دربانِ محمد ﷺ

 

 

(31) 

 

 بِنائے جہاں کُن فکاں ہیں محمد ﷺ
مُقیمِ مکاں لا مکاں ہیں محمد ﷺ

نہ پچھو حقیقت ہی مُہرِ خموشی
دیکھاتے ہیں رب کو عیاں ہیں محمد ﷺ

ہیں خیرُالبشر چیستانِ دو عالم
ورا ولورایٰ  بیگُماں ہیں محمد ﷺ

تحقق میرا اِس نتیجہ پہ پہنچا
اُسی بے نشاں کے نشاں ہیں محمد ﷺ

جو دیکھو بَصر سے رسولِ خدا ﷺ ہیں
بصیرت میں جانِ جہاں ہیں محمد ﷺ

وہ یکتائے عالم شناسائے حق ہیں
ظہورِ خدا ایں و آں ہیں محمد ﷺ

ہے قرآن نکلا انہیں کی زباں سے
یقیناً خدا کے زباں ہیں محمد ﷺ

نہیں خوف اُمت کو روزِ جزا کا
وہ شافعِ کُل عاصیاں ہیں محمد ﷺ

ڈرایں اسدؔ کو نہ طوفاں بلا کے
میرے نا خدا پاسباں ہیں محمد ﷺ

 

 

(32)

 

مظہرِ ذاتِ کِبریا   صلّ علیٰ محمدٍ
جلوہٴِ ربّ دوسَرا   صلّ علیٰ محمدٍ

تم ہو محیطِ دوجہاں ، تم ہو مکینِ ہرمکاں
تم ہو سراپائے خدا  صلّ علیٰ محمدٍ   

وحدت کی شان میں مُحب ، محبوبِ حق ظہور میں
تم ہو بہارِ جانفزا صلّ علیٰ محمدٍ

ترسٹھ برس حجاز میں ، خیرالبشر کے راز میں
حق ہی تھا حق وہ برملا   صلّ علیٰ محمدٍ

رازِ جہاں کو جانتے حالِ نبی ﷺ پہچانتے
آتا نظر تمھیں خدا   صلّ علیٰ محمدٍ

اغیار سے نہاں ہے وہ ، اپنوں پہ مہرباں ہے وہ
بن جاؤ اُنکی خاکِ پا   صلّ علیٰ محمدٍ

آنکھوں میں وہ سمائے ہیں ، دل میں میرے بسے ہیں وہ
وِردِ زباں میرے سدا   صلّ علیٰ محمدٍ

ذاتِ خدا فنا میری ، ذاتِ نبی ﷺ بقا میری
ہستی میری ہے لا پتہ  صلّ علیٰ محمدٍ

میں ہوں برائے نام اسدؔ  دیکھو حقیقاً ہیں وہ
مجھ میں وہی ہیں رُونُما  صلّ علیٰ محمدٍ

 

 

(33)

 

آپکے قدموں ہی میں رہتا ہوں میں
آپکے صدقے ہی میں جیتا ہوں میں

ہوں درِ اقدس کا ایک ادنا غلام
سر بسجدہ ہی رہا کرتا ہوں میں

حکم کا رہتا ہی مجھکو انتظار
با ادب اُسکو بجا لاتا ہو ں میں

یہ تصدق ہے نبی ﷺ کی آل کا
دو جہاں میں اُنکا کہلاتا ہوں میں

مجھکو اپنے پر نہیں کچھ اختیار
اُنکی کٹ پُتلی جو کہلاتا ہوں میں

عشقِ احمد ﷺ ہی کی یہ سب دین ہے
پُشت پر اُنکو سدا پاتا ہوں میں

راہِ اُلفت نے کہاں پہنچا دیا
ذرّہ ذرّہ میں تمھیں پاتا ہوں میں

کیفیت دلکی میری کچھ اور ہے
لُطف اِسمیں اب سِوا پاتا ہوں میں

میں سے میری تم ہی ہو اصلِ مُراد
ایک تماشہ سا ہوا جاتا ہوں میں

ہے تصور آپکا آٹھوں پہر
اِس عبادت میں مزہ پاتا ہوں میں

معنئیِ ہستی اسدؔ ہے زندگی
بندگی ہی میں مزہ پاتا ہوں میں

 

 

(34)

 

ہَری گُنبد کے شہنشاہِ بے نظیر یا نبی ﷺ
ربّ عالم کی ہو بہو تم ہو تصویر یا نبی ﷺ

جلوہ یکتا تمھارا ، نہ تھا سایہ تمھارا
نورِ خدا کی جلوہ گر تم ہو تنویر یا نبی ﷺ

خَلوت نشیں خدا کا جَلوت میں روپ تمھارا
ذاتِ احد کی ہو جہاں میں تم تشہیر یا نبی ﷺ

ہم ہیں اُمت تمھاری  دین و دنیا ہماری
سبحان اللہ ہم نے پائی ہے کیا تقدیر یا نبی ﷺ

دل میں اُلفت تمھاری  سارے عصیاں پہ بھاری
تم سے محبت دوجہاں کی ہے اِکسیر یا نبی ﷺ

آگے آگے تم ہوگے  پیچھے اُمت تمھاری
روزِ محشر نہ ہوگی بخشش میں تاخیر یا نبی ﷺ

بندہ  اسدؔ  تمھارا   شیدا  ہے سگ  تمھارا
صدقے جاؤں میں نے پائی ہے وہ تقدیر یا نبی ﷺ

 

 

(35)

 

 اللہ کا جلوہ بے پردہ دِکھلا دیا کملی والے نے
سب رازِ حقیقت بندوں کو سمجھادیا کملی والے نے

کعبہ کو بسایا  باطل کی لعنت کو مٹایا دنیا سے
توحید کا جھنڈا دنیا میں لہرادیا کملی والے نے

شرک و فساد و جہالت کی ظلمت سے بھری اِس دنیا کو
توحید کے سورج سے روشن کروادیا کملی والے نے

حُکمِ خدا ، مرضئی خدا ، قرآن و حدیث کے ذریعہ سے
ایماں کو عمل کے جامے سے سجوادیا کملی والے نے

تُکڑوں میں بَٹی اِس دنیا میں ، نفرت سے اٹی اس بستی میں
انسانوں میں فرقِ  مُلک و زباں مِٹوادیا کملی والے نے

توحید کے رستے پر ہمکو ایک شمع محبت ہاتھ میں دی
پھر ہمکو خدائے بر تر تک پہچادیا کملی والے نے

میں کیسے کہوں کیا کیا احساں ہیں تم نے اسدؔ پہ کئے مولٰی
ایک عاصئی کمتر کو اپنا بنوالیا کملی والے نے

 

 

(36)

 

 ہو عنایت تیری اللہ کی قدرت والے
قاسمِ کون و مکاں  جُود   و سخاوت والے

ہم ہیں محتاج تیرے در کے بھکاری آقا
رحم کر رحم  وہ  اللہ کی قدرت والے

قعِرِ ذلت نے ہمیں گھیر لیا دنیا میں
آ بچا لے تُو ہمیں فتح و نُصرت والے

یا محمد ﷺ ہو ذرا نظرِ تراحم ہم پر
آ سہارا  دے  ہمیں جوشِ محبت والے

تیرے دربار سے خالی نہ گیا کوئی بھی
رحمت و جُود  و  نوازش  و  سخاوت والے

ربّ عالم کو منالے تُو کسی طرح سے
تیرے صدقے مَیں خدائی کی مشیّت والے

بے سہارا ہے اسدؔ  اُسکو  سنبھالو آقا
قادرِ کون  ہو  تم  ہو  بڑی ہمت والے

 

 

(37)

 

آقائے مدینہ کی عظمت بڑی عظمت ہے
اک جہت خدائی ہے اور ایک رسالت ہے

تُو فیض مقدس ہے کونین کی رحمت ہے
تُو روحِ عوالِم ہے اور عینِ حقیقت ہے

وحدت ہے تُو بِا تّحقیق مشہود کے پردے میں
ترا حال  خدائی ہے  ترا  قال  نبوت  ہے

یے حسنِ ازل تاباں جلوے میں محمد ﷺ کے
ظاہر ہے محب خود ہی  محبوب کی صورت ہے

مخفی تھا ہوا وہ عیاں تیری ذاتِ مقدس سے
اُس گنجِ  خِفیٰ  کی تُو بس ایک شہادت  ہے

دیتا ہے فقط اللہ ہاتوں سے محمد ﷺ کے
ہاتھوں میں محمد ﷺ کے اللہ کی قدرت ہے

اِس نعتِ پیعمبر ﷺ کے  لایق میں نہیں ہرگز
یہ  ذکر اسدؔ  اُنکا  بس  اُنکی  عنایت  ہے 

 

 

(38)

 

 بندہ ہوں محمد ﷺ کا میں ادنیٰ غلام ہوں
ذرّہ  ہوں  خاکسار شئے  نا تمام  ہوں

اُنکے حضور سرنگوں میں صبح شام ہوں
ایوانِ  یار  کا  میں  مکینِ  مقام  ہوں

کیا کام کر گئی ہے محبت رسول ﷺ کی
لگتا ہے یوں میں اُنکا سراپا تمام ہوں

مجھ کو مِٹاکے ہوگئے ظاہر وہ اسطرح
اُنکا نشان ، اُنکا ہی جلوہ مُدام ہوں

مجھکو عطا ہوئی ہین دو عالم کی نعمتیں
کوئی سمجھ  نہ پائے وہ عالِی  مقام  ہوں

دستِ کریم نے کہاں پہچا دیا مجھے
مسند نشیں ہوں خادمِ دارالسلام ہوں

صدقے میں مُصطفیٰ ﷺ کے سبھی کچھ مِلا مجھے
اُنکے طفیل دونوں جہاں کا امام ہوں

دستِ نبی ﷺ ہے سر پہ میرے پُشت پر علیؓ
ہوں قادری چشتی میں اسدؔ لا کلام ہوں

 

 

(39)

 

 کوئی شئے جہاں میں نہ غیرِ خدا ہے
یہ تخلیقِ عالم ظہورِ خدا ہے

وہ رب ہی بظاہر ہے مربوبِ اعظم
وہ موجودِ اعظم ہی ذاتِ خدا ہے

کُھلے میمِ احمد ﷺ کا گر راز تم پر
کہوگے خدا ہی حبیبِ خدا ہے

وہ جلوہ نُما ہے بنامِ محمد ﷺ
محمد بھی ایک نامِ نامی خدا ہے

دو عالم کی جاں ہے وہی ذاتِ احمد ﷺ
یہ کونین کُل سایہٴِ مُصطفیٰ ﷺ ہے

نہیں کوئی صورت بھی غیرِ محمد ﷺ
نہیں کوئی دنیا میں اُن سے جُدا ہے

ہیں چاروں طرف میرے جلوہ نما وہ
میرے دل میں دیکھو حبیبِ خدا ﷺ ہے

اسدؔ ہے اک ادنیٰ سگِ در نبی ﷺ کا
ازل سے ہی وہ اُن کے در پر پڑا ہے

 

 

(40)

 

 تُو نشانِ بے نشاں ہے تُو ظہورِ کبریا ہے
تُو ہی مظہرِ اتم ہے تُو سراپائے خدا ہے

تیرا کیسے ہوگا سایہ کیوں کہ تُو ہے لا تعین
ائے مقیمِ  باغِ  وحدت بخدا تُو رب نُما ہے

ائے وجودِ ذاتِ مُطلق تُو بصورتِ بشر ہے
تُو ہے وجھ خلقِ عالم تُو بہارِ دوسَرا ہے

تُو ہی تُو ہے جلوہ فرما یہ زمین و آسماں میں
تُو ہی ابتدا ہے سب کی تُو ہی سب کی انتہا ہے

ائے بندگانِ حکمت سمجھو قرآن کو تم
بیعتِ نبی ﷺ صریحاً بیعتِ یدِ خدا ہے

هُوَ الْأَوَّلُ  یقیناً  ہے  وہ   ذاتِ  احدیت
ھُوَالْآخِرُ کا مطلب وہی ذاتِ مُصطفیٰ ﷺ ہے

ھُوَبَاطِنُ میں پنہا ہے وہ ذاتِ لا مکانی
ھُوَظَّاهِرُ سے ظاہر وہ حبیبِ کبریا ہے

یہ وہی ہے جو تھا دَرگُم  ، گُم اپنے لا مکاں میں
یہ جمالِ ذاتِ احمد ﷺ وہ احد کا آئینہ ہے

ہے گُماں اسدؔ کا سب کو مجھے دیکھ کر جہاں مین
وہی ہے وہی ہے مجھ میں وہ شفیعِ دوسَرا ہے

 

 

(41)

 

بندہ ہوں ، خاکسار ہوں ، میں بے زُبان ہوں
عاجز ہوں بے بسی کی بڑی داستان ہوں

دستِ نبی ﷺ نے مجھکو ورا والوریٰ کیا
اُنکی شبی میں اُنکا اظہار و بیان ہوں

حیراں ہیں اولیا بھی میرا حال دیکھ کر
دونوں جہاں میں اسطرح جلوہ کُنان ہوں

خادِم ہوں ، جانشیں ہوں ، خلیفہٴِ مصطفیٰ ﷺ
فرزندِ اہلِ بیت ، امامِ جہان ہوں

صدقے میں محمد ﷺ کے یہ عزت ملی مجھے
بے مِثل ہوں اسدؔ میں ایک چیستان ہوں

 

 

(42)

 

خدا بِاالیقیں مصطفی ﷺ بن کے آیا
وہی نفسِ کُل واحِدہ  بن کے آیا

ہوئے نورِ احمد ﷺ سے کونین پیدا
وہ منبعِ جود و سخا بن کے آیا

چُھپا گنجِ مخفی تھا جو لا مکاں میں
وہی احمدِ مجتبیٰ ﷺ بن کے آیا

محمد ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا
وہ اپنا ہی خود آئینہ بن کے آیا

گواہ ذرّہ ذرّہ ہے دونوں جہاں کا
خدا ہی رسولِ خدا ﷺ بن کے آیا

خدا کے سِوا کچھ نہیں دوجہاں میں
وہی آپ اپنا بتہ بن کے آیا

سَرِ حشر ہم عاصیوں کو چُھڑانے
وہ شافعِ روزِ جزا بن کے آیا

نہیں ہے جُدا ذاتِ احمد ﷺ خدا سے
وہ خود ہی حبیبِ خدا بن کے آیا

اسدؔ کیوں نہ نازاں ہو قسمت پہ اپنی
محمد ﷺ کی وہ خاکِ پا بن کے آیا

 

 

(43)

 

 وہ ذاتِ غیبِ مُطلق ہی بَرُوے شانِ وحدت ہے
یہ اعتبارِ وحدت ہی محمد ﷺ کی حقیقت ہے

وہ ذاتِ غیب نے چاہا عیاں پہچان ہو اُسکی
بنی وہ نفسِ رحمانی وہی تو حق کے صورت ہے

وہ حُبِّ ذات کی صورت بنی پہچان اللہ کی
یہ پہچانِ احد کونین میں احمد ﷺ کے صورت ہے

ہیں اسماء و صفاتِ حق اُجاگر ذاتِ احمد ﷺ میں
جمالِ مصطفیٰ کیا ہے حقیقت ہی کی رنگت ہے

یہی وہ رازِ حق تھا  عرش پر جبریلؑ نے دیکھا
جو صورت ہے محمد ﷺ کی وہی تو حق کی صورت ہے

حق ہی حق تھا زمیں پر اس لئے سایہ نہ تھا اُنکا
بصارت میں ہیں وہ یکتا ، بصیرت میں تو حیرت ہے

بصارت میں رسول اللہ ﷺ ہیں ، خیرالبشر ہیں وہ
کُھلی ہے چشمِ باطن پر حقیقت اُنکی عظمت ہے

یہ رازِ حق کی باتیں ہیں حقیقت کو وہی جانیں
جنہیں صدقے میں حضرت ﷺ کے وہ پروازِ لطافت ہے

میرے ہستی پہ چھائے ہیں نبی ﷺ اس دل میں رہتے ہیں
اسدؔ جیسے دیوانے کی بھی دیکھو  خوب قسمت ہے

 

 

 

 

السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

Translate Website

Recent Videos

5372 views - 0 comments
11491 views - 5 comments
7452 views - 2 comments
7323 views - 0 comments