CIF INTERNATIONAL ASSOCIATION

العقيدة الإسلامية الصحيحة

 

 

 

 

احساسِستانِ اسدؔ  

مجموع کلام
 
 
حصہ سوم  ۔  مناقبِ اولیا اللہ 
 
 
تصنیف
میر اسد اللہ شاہ قادری  اسدؔ

 
 

 
عرضِ حال
 
 

 

بِسم الله الرحمنِ الرحيم  

 الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين

 

  احساسستانِ اسدؔ  کی جلد اول  ۱۹۹۹  میں شایع ہوئی تھی ۔ اسکے بعد   ۲۰۱۷ میں اسکی جلد دوم کی اشاعت ہوئی جسمیں وہ کلام بھی شامل ہوا جو ۱۹۹۹ کے بعد لکھا گیا تھا ۔  چونکہ یہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے  قارئین  اِسے آن لائن بھی  پڑھ سکتے ہیں۔

اشعار میں جو لطف ہوتا یے وہ  نثر اور منطِق میں کہاں؟  آپکے پیشِ نظر وہ اشعار ہیں جو اللہ  اُسکے رسولﷺ اور اُنکے چاہنے والوں کی مدّح میں لکھے گئے ہیں ۔

 

صوفیا اور اولیا اللہ کے کلام کو پڑھنے سے پہلے کچھ چیزوں کا جاننا ضروری ہوتا ہے ۔  ان چیزوں کو یہاں مُختصراً بیاں کیا گیا ہے ۔ 

     مُشاکلہ / تشبیحہ دنیا کی ہر زبان میں ہے ۔  کلام اللہ میں بھی ہے ۔  قران میں آیاتِ مُتشابہات ہیں جنکا مطلب سہی طریقے پر سمجھنا ضروری ہے ۔  مُشاکلہ  ہر شاعر کے کلام میں ہوتا ہے ۔  جیسے شاعر اپنے محبوب کو چاند سے تشبیح دیتا ہے ۔ صوفیا  کے کلام میں بھی اکثر الفاظ کے اعتباری معنی لئے جاتے ہیں ۔  جیسے ’لطف مئے‘ سے مُراد  ’سُرورِ جوشِ محبت‘ اور میخانہ سے مُراد  مُرشِد کی محفل اور ساقئی مئے خانہ  سے مُراد شیخِ کامل اور رِند سے مُراد  ’مُرید‘ ہوتے ہیں ۔ یہ اِس لئے کے شیخِ کامِل اپنی توجھ سے مُریدوں کے دلوں میں عشقِ مُحمدیﷺ کی شمع کو روشن کرتا ہے ۔

 تیری چال بڑی ہے مستانہ  آنکھوں سے شراب برستی ہے
ائے ساقئِ  میخانہ  تجھ سے مئے ناز کی موج نکلتی ہے

یہ بزمِ مئے عرفاں ہے جہاں کی رسائی بڑی ایک نعمت ہے
یہ شرابِ محبت ہے زاھد ، جس میں ہے عُلو ، نہ کہ پستی ہے

مَستوں کی یہ بستی کے صدقے ، خالدؒ تیری آنکھوں کے قرباں
تیری بحرِ معارف کی ساقی ، کوئی حد ہے نہ تہہ کبھی ملتی ہے

 

صوفیا / اولیا اللہ جب ’عبد‘ یا ’بندہ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو کہیں اسکے لفظی معنی ’بندہ خدا‘ کے لیتے ہیں تو کہیں اعتباری معنی ’غلام‘ کے لیتے ہیں ۔

احسان نبی ﷺ کا ہے اسدؔ بندہٴِ حضرت ﷺ
ہو چشمِ  عنایت  بنوں  دربانِ  محمد ﷺ

اسدؔ ہے بندہٴِ حضرت ﷺ دیوانہ آپکا شیدا
مقدر نے بنایا مجھکو پروانہ محمد ﷺ کا 
 

لفظ  ’سجدہ ‘  کے عام فہم  لفظی معنی ’سجدہ عبادت‘ لئے جاتے ہیں ۔ صوفیا کہیں اسکے لفظی معنی لیتے ہیں اور کہیں اعتباری معنی  ’فرطہ محبت میں قدم بوسی‘  پا بوسی  یا  انتہائی ادب و عاجزی میں سر جھکانے یا پیر چھونے کے لیتے ہیں۔  جیسا کہ احادیث میں آیا ہے کہ صحابہ‘  رسول اکرم صلى الله عليه و آله وسلم کی قدم بوسی کیا کرتے تھے ۔   اسیطرح سے الفاظ  ’سگ‘ اور ’کتا‘  ہیں ۔ صوفیا  اپنے کلام میں  اسکے اعتباری معنی ’وفادار اور خدمت گزار غلام‘  کے لیتے ہیں ۔

تمھارے ہی تصوّر میں درِ اقدس پہ سر رکھ کے
سگِ در آپکا دامن پسارا  یا رسول اللہ ﷺ

ذرّہٴِ نا چیز ہوں   پیوندِ  خاکِ آستاں
ہوں سگِ در آپکا  میری طرف بھی دیکھنا
 
ایک اور لفظ  ’مولی‘ ہے جسکے اعتباری معنی ’آقا‘ کے بھی ہیں ۔  بیسیوں الفاظ جو اشعار کے زینت میں اضافہ کرتے ہیں اُنکے معنوں کی ہمکو تاویل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔  اِن چیزوں کو سمجھکر پڑھنے سے اشعار کا لُطف دوبالہ ہوجاتا ہے اور نہ سمجھنے سے اعتراضات کا میدانِ گرم ہوجاتا ہے ۔

 

ایک اور مشئلہ توحید اور حقیقتِ محمدی ﷺ  ہے جسکو  مختصراً بیان کرنا ضروری ہے ۔ اِن مسائل کو   جاننے سے اولیا اور صوفیا کے کلام کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے ۔
 
 
توحید اور حقیقتِ محمدی ﷺ 
 
        اسلام میں نظریہ توحید بلکل واضح ہے ۔  شریعت بلکل صاف ہے ۔ اسمیں کوئی دو رائے نہیں ۔  سوال آدمی کی نظر کا  ہوتا ہے ۔ جسکی جیسی نظر اُسکا ویسا ہی فہم ہوتا ہے ۔  جولوگ اللہ سے غافل ہیں اُنکی نظر میں بندہ ایک حقیقی شئے ہے اور اللہ خیالی ۔ لیکن حق پرست عارفین جو بفضلِ الہی حقائق کو جانتے ہیں اُنکی نظر میں بندہ کی دو جہتیں ہیں ۔  ایک جہت الی الرب اور دوسری جہت الی الخلق ۔  عارف ،  بندہ کو بندہ ضرور جانتا ہے مگر اُسکی نظر وہاں ہوتی ہے جہاں سے وہ آیا ہے ۔  عارف کی نظر میں ہر شئے علمِ الہی سے آئی ہے ۔ اسکی نظریں  ذاتِ الہی  پرمرکوز ہیں ۔  اِسکے لئے  ما سوا حق سب کچھ نا قابلِ توجھ  ہے ‘ خیالی ہے ۔

                دنیا میں حق پرست عارف بہت ہی  کم ہوتے ہیں ۔  جسطرح سے ایک سائنسدان یا فلاسفر کی باتیں ایک عام  آدمی کی سمجھ کے باہر ہوتی ہیں اِسی طرح ایک حق پرست عارف کا کلام بھی فہمِ عامہ سے بالاتر ہوتا ہے ۔

                وجود با الذات حق تعالیٰ ہے ۔  ما سوا اللہ کے وجود کے سب کچھ انتزاعی ہے ، خیالی ہے ، نا قابلِ توجھ ہے ، عدم ہے ۔  وجودِ مُطلق  اللہ  میں منحصر ہے جو خیرِمحض ہے ۔   وجودِ اضافی یا وجودِ انتزاعی  کے ساتھ عدمِ اضافی لگا ہوا ہے ۔  لہٰذہ بندوں سے کچھ خیر اور کچھ شر ظاہر ہوتا ہے ۔

                  اللہ تعالیٰ کے دو اعتباری تعینات ہیں ۔  ایک تعینِ ذاتی جس میں مخلوقات کو دخل نہیں ۔  دوسرا تعیّن با اعتبارِ اسماء و صفات ہے ۔  اس تعین  کے مظہر علمِ الٰہی میں اعیانِ ثابتہ ہیں ۔  اور اعیانِ ثابتہ کے مظہر خارج  میں آپ اور ہم ہیں ۔

            اعیانِ ثابتہ  کیا ہیں ؟  بندوں کی جو حقیقت علمِ الہی میں اللہ کو معلوم ہے اُنکو اعیانِ ثابتہ کہتے ہیں ۔  ہر بندے کی یا ہر شئے کی ایک حقیقت ہے جِسکا علم اللہ کو ہے ۔  اِس حقیقت کو عینِ ثابتہ کہتے ہیں ۔ عین ثابتہ کی جمع  اعیانِ ثابتہ ہے ۔ یعنی کاینات کی تمام  اشیاء کے جملہ حقائق کو اعیانِ ثابتہ کہتے ہیں ۔  اِن تمام اعیانِ ثابتہ کی جو کُلّی شکل ہے یا جو انکا  مبدہ  ہے  اُ سکو عینُ الاعیان کہتے ہیں ۔ عینُ الاعیان کا دوسرا نام  حقیقتِ محمدی ﷺ ہے ۔

        کیا آپ نے کبھی غور کیا یہ کائنات ظہور میں کیسے آئی ؟  جب اللہ کسی شئے کی حقیقت پر اپنے اسماء و صفات کی تجلی فرماتا ہے تو وہ شئے پیدا ہوجاتی ہے ۔ اسکو اللہ  نے قرآن میں کُنْ فیکن فرمایا ۔   اللہ کی تجلیات ، حقائق اشیاء کے مطابق ہوتی ہیں ۔  عینُ الاعیان  یا حقیقتِ محمدی ﷺ   پر اللہ کی جو  تجلی جلوہ فرما ہے اُسکو تجلّی اعظم  کہتے ہیں ۔ تجلیِ اعظم  اور حقیقتِ محمدی ﷺ   کے مجموع سے جو چیز وجود میں آئی اِسکو کائنات کہتے ہیں ۔  کائنات کو اِنسانِ کُلی بھی کہا جاتا ہے ۔

        اِن حقائق کو سمجھنا اور محسوس کرنا  آسان نہیں ۔  اسکے لئے ایک  شیخ کامل کی صحبت ، اُسکی توجھ  اور  نگرانی میں ایک طویل مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تب جاکر یہ حقائق آہستہ آہستہ کُھلتے ہیں ۔  ۔

        حقیقتِ محمدیﷺ وہ اعتبارِ وحدت یا نفسِ واحدہ ہے جس سے تمام کائنات کا وجود عمل میں آیا ۔  رسولِ کریم ﷺ کو جب بھی خیرُالبشر یا انسان کہا جاتا ہے تو اُس سے مُراد انسانِ کُلّی یا انسانِ کامل بِا الذات یا تجلّی اعظم  ہے جسکے مظاہر انسانِ جزّی یعنی آپ اور ہم ہیں ۔  رسولِ اکرم ﷺ اِس نوعِ انسانی کے کامل ترین فرد ہیں ۔  لہٰذہ حقیقتاً نبوّت آپ سے شروع ہوئی اور آپ پر ختم ہوئی ۔  آپ اُسوقت بھی نبی تھے جب آدم علیہ السلام آب و گُل میں تھے ۔  پھر اپنی خلقتِ عُنصری کے لحاظ سے آپ خاتم النبیّن ہیں ۔  یہی وجھ ہے کے رسول اللہ ﷺ اپنے رب پر پہلی دلیل ہیں ۔  رسول اللہ ﷺ کے علاوہ جتنے بھی افراد ہیں وہ سب آپ سے صادر ہیں ۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے  الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ۔ سورة النساء ۔ ۱

        انسانِ جزّی میں بھی بعض مظاہر ناقص ہوتے ہیں تو بعض خاص ۔  ہر زمانے میں ایک مظہرِ تام ہوتا ہے جسکو غوث ، قطب الاقطاب یا مرکزِ تجلی کہتے ہیں ۔  یہ رسول اللہ ﷺ کا پَرتَو با اعتبارِ کُلِّیت ہوتا ہے اور اسکو انسانِ کامل  بِاالعرض کہتے ہین ۔  رسول اللہ ﷺ کے صدقے میں یہ مرکزِ نظرِ الٰہی ہوتا ہے ۔

        راز کی بات یہ ہے کہ سوائے انسان کے کسی پر فنائیت نہیں آتی اور جب تک فنائیت نہیں آتی ان باتوں کو سمجھنا اور محسوس کرنا خارج از امکان ہے ۔  فنا کیا ہے ؟   بندے پر فضلِ الٰہی سے ایک ایسا وقت آتا ہے جب اللہ کا وجود اسکے اپنے وجود پر غالب آجاتا ہے ۔  اس حالت کو فنا کہتے ہیں ۔  فنا کے وقت جہتِ عبد  مُضمحل و نابود ہوجایی ہے ۔
         
         یہ اُنکا کرم ہے انکی عطا ، ہر شئے میں انہیں جو پا تے ہیں
        احساس یہ انکا بڑھ بڑھ کر ، ہم خود ھی کہیں کھو جاتے ہیں

        پھر  اُنکی  انا  قائم  جو  ہماری  ہستی  پر   ہوجاتی  ہے
        معلوم نہیں ، نہیں ہم کو پتہ ، ہم کیا سے کیا ہوجاتے ہیں

        بنا انکا  سراپا  حال  میرا ،  بنا  ایک  تماشہ  میں  انکا
        مجھکو وہ مٹاکے ہستی سے ، باقی خود ہی رہجاتے ہیں
        
        جب کیفیتِ فنا ہٹتی ہے تو اسکو بقا کہتے ہیں ۔  بقا وہ حالت ہے جسمیں بندہ ،  اللہ کے سوا نہ کسی کا فعل دیکھتا ہے اور نہ صفت ۔ اس کیفیت کو مُشاہدا  یا استحضارِحق بھی کہتے ہیں ۔
 
         کسی کی رُونمائی کا  اُٹھا  پردہ  ذرا  دیکھو
        جہاں کے ذرّہ ذرّہ میں وہ ہے جلوہ نُما دیکھو

        نئی ایک شان ہے اُسکی ، نئی ایک آن ہے اُسکی
        ہر ایک پل اور ہر لمحہ ہے اُس سے سامنا  دیکھو

        اثر اُنکی معیّت کا ہوا ہے کس قدر ہم پر
        بھری محفل میں بھی سب سے  پرے رہنا  ذرا  دیکھو
        
        حالتِ بقا میں بندے کو عبدِ کامل کہتے ہیں ۔ جب بندہ عبدِ کامل ہے تو وہ تجلی گاہِ حق ہوگا ۔ یہی وجھ  ہے کہ صوفیا  اپنے شیوخ کو تجلّی گاہِ حق دیکھتے ہیں ۔

        ائے شہہ عزت پیاؒ  تیری بڑی سرکار ہے
        مظہرِ  خیرُالوریٰ  تُو  سیدِ   ابرار  ہے

        جلوہِٴ رحماں فرش پر تیری صورت سے عیاں
        صورتِ جاناں سے تاباں بس وہی دلدار ہے
        
        اللہ کا مشاہدا بہ اعتبارِ اسماء و صفات ہی ممکن ہے ۔  ذاتِ حق کا مشاہدا مادّہ میں اور اشکال و امثال میں ہوسکتا ہے۔  ان سے ہٹ کر نہیں ہوسکتا ۔  اسکی وجھ یہ ہے کے ذاتِ الٰہی کا جو اعتبارِ ذاتی ہے وہ   لَا تُدرِکُہُ الاَبصَار  ہے ۔ یعنی کوئی آنکھ ذاتِ الٰہی کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔  اللہ کے اسماء و صفات کے مظاہرِ داخلی  اعیانِ ثابتہ ہین جنکے مظاہر عالمِ شہادت میں آپ اور ہم ہیں ۔

       یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ ہم آپ اور دنیا ہر شئے جلوہ گاہِ  رُبوبیت  ہے ۔  ربّ اسمِ الہی ہے جو اللہ کی قوت عطا کو ظاہر کرتا ہے ۔ اِس کائنات کی ہر چیز پر شانِ رُبوبیت کی تجلّی ہے جو اُسکو اُسکی حقیقت کے لحاظ سے جُدا جدا ظاہر کرتی ہے ۔  رب ایک ہی ہے مگرہر شئے کی نسبت  اُس سے جدا ہے ۔   اللہ جو اِن تمام عالَموں کا رب ہے جو اِن تمام اشیاء کا مبدہ ہے اُسکے لئے معبودیت ہے ۔  وہی  حقیقی الہ یے ۔

        
        سمجھ کا پھیر ہے اُنکی جو ہر شئے کو خدا سمجھے
        وہی انسان کامل ہے خدا کو جو خدا سمجھے

        خدا بندہ نہیں ہوتا ، نہ ہے بندہ خدا ہرگز
        جو تم اب بھی نہ سمجھو تو تمھارے کو خدا سمجھے

        خالدؒ

        ذاتِ حق کے مرتبہ وحدت کو حقیقتِ محمدیﷺ کہتے ہیں ۔  حقیقتِ محمدیﷺ وہ مرکب ہے جو تجلی اعظم حق اور عین الاعیان کے ملنے سے بنا ۔ تجلی اعظم حق کو نُورِ محمدی ﷺ  اور عین الاعیان کو حقیقتِ محمدی ﷺ  کہتے ہیں ۔  تمام کائنات کی اشیاء ، جن میں بنی نوع اِنسانی بھی شامل ہے، اِسی مرکب کی تفصیل یا اِسی کُلّیت کی جُزّیات ہیں ۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ موجود خارج اعظم یا  یہ کائنات  رسول ﷺ کے لبادے میں ملبوس ہے ۔  کاینات کی ہر شئے پر تجلّی الہی اُسکی حقیقت کے حساب سے  جلوہ فِگن  ہوتی ہے ۔  اِس لحاظ سے حقیقتِ رسولﷺ ،  اللہ اور اسکے بندوں کے بیچ بہت بڑے آئینہ کا کام کرتی ہے ۔  اور یہی وہ آئینہ ہے جسمیں ذاتِ حق کا کامل دیدار ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے کہتے ہین کہ  جس نے رسول ﷺ کو دیکھا اُس نے یقیناً خدا کو دیکھا ۔
        
        ہے حسنِ ازل تاباں جلوے میں محمدﷺ کے
        ظاہر ہے مُحب خود ہی محبوب کی صورت ہے

        مخفی تھا ہوا وہ عیاں تیری ذاتِ مقدس سے
        اُس گنجِ خِفیٰ کے تُو بس ایک شہادت ہے
        
        جس کسی نے ذاتِ حق کو تمام شہودات کا مرجع جانا ۔ یعنی اصل و حقیقت کو ذات سمجھا اور اسطرح معرفت حاصل کی کے خود کو بھی تجلّی گاہِ حق سمجھا اور معلومِ الٰہی پر، پَرتَوِ وجودِ مُطلق دیکھا تو بے شک اُس نے رب کو پہچانا ۔  اـسکو معرفتِ حق نصیب ہوئی اور مَنْ عَرَفَ نَفْسهُ فَقَد عَرَفَہ رَبّهُ  کو پایا ۔

         تُو ہے معبودِ حقیقی تُو اِلٰہ ہے سب کا
        ہر تعین کی نفی ہی میں ہے رستہ تیرا

        شانِ تنزیہ تیری اور ہے تشبیھ  تیری
        غیبِ مُطلق میں تُو  اِمکان ہے جلسہ تیرا

        نِت نئے رنگ میں ہر پل ہے نئی شان میں تُو
        تُجھ کو پہچانتا ہے خوب شناسہ تیرا

        حق پرست عارف کی چشمِ باطن (دلکی آنکھ) روشن اور چشمِ ظاہر (جسم کی آنکھ) معطّل ہوجاتی ہے ۔  اسی لئے  دنیا میں رہتے ہوئے بھی  اُسکو سوائے حق کے کچھ بھی نظرنہیں آتا ۔  برخلاف اسکے چشمِ ظاہر، ظاہر کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھ سکتی ۔  یہی وجھ ہے کہ علمائے ظاہر، متکلّمین ، اِسلامک اسکالرس میں کسی نے بھی حقیقتِ نفس کو نہ پہچانا ۔  اسیطرح  اربابِ نظر اور اربابِ فکر ان میں سے کسی نے بھی  معرفتِ نفس کو نہ پایا ۔ وہ مجبور ہیں ۔ نظرِفکری اُن پر بہت بڑا حجاب بن گئی ہے ۔  برعکس اِسکے علمائے الٰہین پیغمبروں نے ، حق پرست عارفوں نے ، اکابر اولیا اور صحیح العقیدہ  صوفیا نے حقیقتِ نفس کو دریافت کرلیا اور اپنے رب کو پہچان لیا ۔
 
        کون و امکاں میں نہیں کوئی بھی انجانہ تیرا
        رنگ لایا ہے میرے دل میں سما جانا تیرا

        ہر تعین سے نمایاں ، ہر تقید سے عیاں
        حیرت افزا ہے میرے یوں سامنے آنا تیرا

        ذرّہ ذرّہ سے تیری خوشبو مہکتی ہے یہاں
        دنگ کرتا ہے ہر ایک شئے سے اُبھر آنا تیرا
    
        اس موضوع کی تفصیلات کو اگر آپ انگریزی میں سمجھنا چاہیں تو  یہاں کلک کریں ۔

 

احساسستانِ اسدؔ کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔  حصہ اول حمدِ باری تعالٰی ،  حصہ دوم  نعتِ نبی ﷺ ، حصہ سوم  مُناقب اولیا اللہ اور حصہ چہارم  غزلیات اور متفرق کلام پر مُشتمل ہے ۔  کلام میں آپکو بے باکی اور بندش میں انفرادیت ملیگی ۔  ایسا لگیگا کہ دلکی آواز کو من و عن قلمبند کیا گیا ہے ۔  اشعار میں مئے محبت کے میخواروں کو بیش بہا دریائے اُنس ملیں گے ۔ سادگی ڈھونڈنے والوں کو سادگی ملیگی ۔ اگرآپ سخن شناس ہیں اورآپ کو کلام میں خوبیاں نظرآئیں تو محظوظ ہوں اور دعائے خیر کریں ۔

  

میر اسد اللہ قادری

                                                 

 

حصہ سوم

 مناقبِ اولیا اللہ

 

مناقب در مدح غوث الاعظمؓ

 

 (1)

 

قصیدہ غوثیہ


ساغرِ  وصل  پِلائے  مجھے  الفت  تیری
ائے  خدا  اور  پلا  ہے  بڑی  رحمت  تیری

جام  پر  جام  پلائے  ہیں  تری  رحمت  نے
محترم  ہو  گیا  سب  میں  بڑی  حشمت  میری

سارے  اقطاب  سے  کہتا  ہوں  جھکاؤ  سر  کو
داخلِ  بیعت  ہو  پاؤ  بڑی  نسبت  میری

تم  ہو  لشکر  میں  میرے  پی  کے  بلندی  پاؤ
ساقیِٔ  قوم  ہوں  پاؤ  سبھی  رنگت  میری

جب  ہوا  مست  میں  تم  نے  پیا  جُھوٹا لیکن
پا  نہیں  سکتے  عُلو  میرا  وہ  عظمت  میری

تم  سبھی  کی  بھی  بڑائی  رہی  ثابت  پھر  بھی
سب  سے  آگے  ہی  رہی  یار  سے  قربت  میری

قربتِ  حق  میں  کوئی  بھی  نہیں  شامل  میرا
کافی  تو  میرے  لیۓ  ہے  بڑی  قدرت  تیری

معرفت  کا  ہوں  میں  شاہ باز  ہے  کیا  مجھ  سا  کوئی
بزرگی  شان  میں  ہر  شیخ  پـہ  قدرت  میری

تو  نے  پہنائے  کیٔ  تاجِ  کمالات  مجھے
خِلعتِ  عزت  و  جاہ  ہے  یـہ  عنایت  تری

بنکے  ہمراز  تیرا ‘  میں  نے  جو  مانگا  وہ  ملا
ہار  عزت  کے  ملے  خوب  ہے  رحمت  تری

سارے  اقطاب  کا  والی  و  شہنشاہ  میں  بنا
لازم  ہر  حال  میں  سب  پـہ  ہے  اطاعت  میری


 
ریزہ  ہو  جایئں  جبل  اُن  پـہ  جو  ظاہر  کردوں
عشق  کا  راز  میرا  اور  حقیقت  میری

خُشک ہوجائیں بحر اُن میں بھی ڈالوں میں اگر
حال اپنا ہے جو اور جو بھی ہے حالت میری


ظاہر ہوجاے میرا  راز  کسی آتِش پر
ٹھنڈی ہوجاے وہ بھی دیکھ کے عظمت میری

حُبّ مولیٰ سے جو دیکھوں میں کسی میّت کو
جی اُٹھے وہ ، ہے حکم میں بڑی قُوّت تیری

زِیرِ فرماں ہیں سب حالات و زمانے میرے
نہیں ایسا جو نہ ہو حاضرِ خِدمت میری

سارے ماحول و زمانے مجھے دیتے ہیں خبر
کیوں بحث کرت ہے  بے جانِ حقیقت میری


ڈر نہیں ، عزم سے ہمت سے تُو خوش ہو ائے مُرید
ہے بڑا نام میرا جس سے ہے نسبت تیری

خوف مت کر کے ہے اللہ میرا رب ائے مُرید
دو جہانوں کی ہر ایک شئے پہ حکومت میری


ڈنکے عظمت کے میرے ارض و سما پر ہر دم
آگے چلتی ہے یہ عزت و سعادت میری

سارے اللہ کے شہر ہیں میری ہی مِلک یہاں
حاکمِ ازل ہوں وہبی ہے ولایت میری

رائی دانے سے بھی کم پاؤں میں دنیا کو حقیر
دیکھے اِسوقت اِسے چشمِ حقیقت میری

قطبِ اقطابِ جہاں بن گیا کامِل ہوکر
آئی دربارِ اِلہی سے سعادت میری

سخت گرمی میں صِیام ، ذکر ہے ، راتوں میں قیام
یہ مُریدوں نے بھی پائی ہے وہ رنگت میری

ہر ولی کا ہے یہاں ایک طریقہ اپنا
بس نبی ﷺ ہی کی اطاعت ہے طریقت میری

ہو نہیں خوف زدہ تُو کسی دشمن سے مُرید
قتل کردونگا  اُسے ہے بڑی ہمت میری

کون ہی مِثل میرا  اولیا اللہ میں یہاں
علم و تصریف میں لائے کوئی صورت میری

ہاشمی میرے حجازی  نبی ﷺ جدّ امجد
دین اُنکی ہے یہ عزت و حکومت میری

مجھ سے ہے  اِبنِ رَفاعیؒ   کا  تعلق قائم
حاصل اُنکو ہے طریقت و فضیلت میری

پاؤں میرے ہیں سبھی اولیا کی گردن پر
حسَنی میرا نسب ہے بڑی عظمت میری

محی الدیں میرا لقب اور ہے جیلان وطن
جھنڈے لہرائیں جہاں میں ہے حکومت میری

جَدّ اعلی ہیں میرے صاحبِ ذیشان نبی ﷺ
عبدُ  القادر ہوں ،  بڑا نام ہے شہرت میری

ترجمے کو بھی تُو مجھ کو بھی پسند فرمالے
غوثِ اعظمؓ  ہو  اسدؔ  پر  یہ  عنایت  تیری

 

 

(2)

 

میں اپنے شیخِ لا ثانی کے صدقے
سَراپا  نورِ یذدانی کے صدقے

تیری اِس شکالِ مہتابی کے قرباں
میں اِس قِند یلِ  نُورانی کے صدقے

فقیری کا شہنشاہِ جہاں ہے
دونوں عالم کی سُلطانی کے صدقے

مُحبّوں میں بڑا محبوب تُو ہے
میں تیرے روئے تابانی کے صدقے

توکل میں نہیں ثانی تمھارا
تیری اس ساز و سامانی کے صدقے

تیرے صدقے ہمیں کیا کیا مِلا ہے
تیرے دستِ فراوانی کے صدقے

بَلاؤں کو خدا نے دور رکھا
سدا تیری میربانی کے صدقے

نبی ﷺ کے پاس ہے پہچاں ہماری
غوثؓ تیری مہربانی کے صدقے

تیرے دیدار میں آنکھوں کی لذت
اسدؔ اِس شکالِ نُورانی کے صدقے

 

 

(3)

 

تمھارا ہی ہے آسرا غوثِ اعظمؓ
پُکاروں کسے تم سِوا غوثِ اعظمؓ

غمِ حِجر میں زندگی کٹ رہی ہے
دیکھا دو رُخِ  پُر ضِیا غوثِ اعظمؓ

تصور میں تم ہو میں ہوں سر بسجدا
بنوں نقشِ پا آپکا غوثِ اعظمؓ

محبت سے مجھکو گلے سے لگالو
ہوں شیدا تمھارا بڑا غوثِ اعظمؓ

سدا آپکے صدقے ہوتا رہوں میں
یہ ہے آرزو میری یا غوثِ اعظمؓ

ہوں ذرّہ تمھارا ائے مَہرِ ولایت
بنادو  قمر آپکا غوثِ اعظمؓ

ہے پٹّہ گلے میں میرے آپکا غوثؓ
سگِ در تمھارا ہوں یا غوثِ اعظمؓ

توجّھ میرے حال پر ہو تمھاری
ہوا حال خستہ میرا غوثِ اعظمؓ

اسدؔ کی ذرا اپنے ، مولٰی خبر لو
ہوں بندہ تمھارا میں یا غوثِ اعظمؓ

 

 

 (4)

 

آپ پر ظاہر ہے جو بھی ہے پریشانی میری
لاج رکھ لو دو جہاں میں غوثِ صمدانیؓ میری

مشکلیں ظاہرہوئی جاتی ہیں میری اسطرح
باعثِ تنز و مِزاح ہے چاک دامانی میری

بے سرو ساماں ہوں میں بے شک بڑی مشکل میں ہوں
لوگ کَتراتے ہیں یوں بڑھتی ہے حیرانی میری

کوئی مُونِس ہی نہیں باقی رہا زیرِ سماں
ڈھانک سکتا اور چُھپاتا جامہ عُریانی میری

ہو نہ پائے عشق رُسوا تھام لو غوث الوریٰ ؓ
شکل سے ظاہر ہوئی جاتی ہے ویرانی میری

آپ کو چاہا ہے میں نے دوجہاں میں سیّدی
تم سِوا مولٰی کرے اب کون نگرانی میری

مشکلیں حد سے بڑھی ہیں ایک ساتھی بھی نہیں
ڈھونڈتی ہیں تمکو آنکھیں قطبِ ربّانیؓ میری

ہوں میں چلّاتا  تمھیں آواز دیتا ہوں بہت
التجا کیا آپ تک پہچی نہیں جانی میری

قُم بِاذنی کہہ کے  مُردوں کو جِلایا  آپنے
حالتِ خستہ کو دیکھو پیرِ لاثانیؓ میری

ہوں سگِ دربارِ اقدس گو مقیمِ ہند ہوں
آبرو رکھ لو ذرا معشوقِ ربّانیؓ میری

قادری ہوکر اسدؔ حیراں پریشاں کیوں رہے
دور ہو کُلفت سبھی ائے شاہِ جیلانیؓ میری 

 

 
(5)

 

واصِلِ  محبوبِ رحمانی  ہوں  میں
مَوردِ  انوارِ  روحانی  ہوں  میں  

ہوں  میں  زیرِ  سایہٴِ  غوث الوریٰ
مَہرِ ظِلِّ  نور  یزدانی  ہوں  میں

ازل  سے  ہوں  میں  فدائی  غوث  کا
بندۂِ  معشوقِ  ربّانی  ہوں  میں

قطرہ  ملکے  بحرِ  وحدت  میں  چُھپا
ایک  تماشا  ایک  حیرانی  ہوں  میں

یہ کرم  ہے  مجھ  پـہ  میرے  غوث  کا
سائلِ  درگاہِ  جیلانی  ہوں  میں

غوث  کی  شانِ  سخاوت  دیکھ  کر
مطمئن  بے  ساز  و  سامانی  ہوں  میں

ہے  اسدؔ  وابستـِٔہ  غوث الوریٰ  
ایک  فقیرِ  غوثِ  صمدانی  ہوں میں

 

 

 (6)

 

 او محبوبِ ربّانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں
او غوثِ صمدانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں



تُو جو آئے من کو لُبھائے لونگی تورے بلیّاں
ہند میں مَیں بغداد میں تُو مورے کیسے کٹے دن رتیاں

 او محبوبِ ربّانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں
او غوثِ صمدانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں



تجھ پہ نچھاور تن من مورا  تُو ہے سجن مورے من کا
چُھوکے چرن تورے  مورے سجن وا تجھ کو سناوں بتیاں

 او محبوبِ ربّانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں
او غوثِ صمدانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں



تیری چاہت دل میں تیرا  کَجرا  اِس نینن میں
نبی ﷺ کا پیارا حق کا دُلارا دیکھو میرا سیّاں

 او محبوبِ ربّانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں
او غوثِ صمدانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں



پریت میں تیری سب کچھ  بھولی  سُدھ  بُدھ نا ہی مجھ  کو
لاج تُو رکھ  لے ہمری بَلم وا  پڑوں میں تورے پیّاں

 او محبوبِ ربّانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں
او غوثِ صمدانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں



سُونا آنگن ، دیوانہ من ، چونکوں ہر آہٹ پر
جگت گُرو تورے درشن کی بس راہ  تکے موری انکھیاں

 او محبوبِ ربّانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں
او غوثِ صمدانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں



تجھ  پہ  نِچھاور ماتا  پِتا  گھر بار جیون  مورا
چھوڑ دیا سنسار میں نے چھوڑی ساری سکھیاں

 او محبوبِ ربّانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں
او غوثِ صمدانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں

 

تڑپت ہوں دن رین  آجا لے چل اپنی نگری
اسدؔ ہے داسی تُمری او بغداد کے بَسیّاں

 او محبوبِ ربّانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں
او غوثِ صمدانیؓ چھوڑو نہ موری بیّاں

 


 

مناقب در مدح  خواجہ غریب نوازؓ 

 

 

(1)


چشمِ باطن کو مُیسّر یے نظارا تیرا
رُو نُما ذاتِ احد بنکے سراپا تیرا

کیسا عالم ہے درخشاں پسِ پردہ تیرا
رُوئے محبوبِ خدا جلوہٴِ  یکتا تیرا

خالق و خلق بیک وقت نُمایاں تجھ سے
نُورِ احمد ﷺ سے ہے تاباں رُخِ زیبا تیرا

قربِ حق ہمکو مُیسر ہے تیرے صدقے میں
کتنا احسان و کرم ہے میرے خواجہؓ  تیرا


چشمِ خواجہؓ  نے یگانہ  کیا ایسا مجھکو
سارے عالم سے بیگانہ ہے دیوانہ تیرا

ہے دُعا ربّ دوعالم سے اسدؔ کی ہر دم
دونوں عالم میں رہے ساتھ یا خواجہؓ تیرا 

 

 

 (2)

 

 خواج پیاؓ  تُو ہی پیارا لاگے ہمکا
تُجھ سے ہے جگ میں اُجالا

دل میں بسی تیری پیاری صورتیا
تُو ہے ہماری آنکھ  کا تارا

تُجھ سے سجن میں نین لڑاؤں
مَن موہن ہے روپ تِہارا

جگ دیکھت ہے نجر نہ لاگے
ہاتھ میں تیرے ہاتھ  ہمارا

چندر موہن میں تیری جوگن
چرنوں میں تیرے سر ہے ہمارا

لاج اسدؔ کی رکھ لے پیارے
دونوں جگت میں ہے تیرا سہارا

 

 

 (3)

 

 دونوں جگت تورا  راج  خواجہ پیاؓ
نبی ﷺ نے رکھا سر پہ تاج خواجہ پیاؓ

تیری صورتیا میں سایئں دِکھے ہے
سایئں کو دیکھوں آج  خواجہ پیاؓ

ہم تیری پرجا  تُو ہمرا  راجہ
کرتا ہے دل پر راج خواجہ پیاؓ

پیّاں پڑوں میں بِنتی کروں میں
مجھکو نبھالے سرتاج خواجہ پیاؓ

پریت میں تیری سب کچھ  ہاری
ہوئی تیری جوگن آج خواجہ پیاؓ

پریت کی مالا  جنم کا بندھن
ڈالو گلے میں آج خواجہ پیاؓ
 
اسدؔ تیری داسی تُو راج کُنور ہے

رکھ لے ہمری لاج خواجہ پیاؓ

 

 

 (4)

 

 اپنے خواجہ پیاؓ کی میں ہوں بانؤری
خواجہ آجا  تُو لے چل اپنی گلی
لاگے نا ہی جیا مورا تیرے بِنا
بڑھتی  ہی جائے ہے یہ محبت تیری

تیرے دیکھن کو آنکھیاں  ترسے میری
راستے میں ہو شاید سواری تیری
چونکتی ہوں ذرا سی بھی آہٹ پہ میں
ہو سُکوں گر جو دیکھوں صورتیا تیری

تیرے چاہت کی اگنی بھڑکتی گئی
میرے دل کی لگی لا دوا بن گئی
میں تڑپ کر نہ اُلفت کو رُسوا کروں
دیکھ کیا ہوگئی ہے یہ حالت میری

مَن کی آنکھوں سے دیکھے کوئی تُجھے
تجھ میں آئیں نظر شاہِ بطحہ ﷺ اُسے
اپنے دامن میں خواجہ چُھپالے مجھے
دوجہاں میں بڑی ہے محبت تیری

بن گئی اسدؔ ایک جوگن تیری
تیرے چرنوں میں گزرے میری زندگی
تن کو من کو میں تجھ پہ نچھاور کروں
تیرے صدقے اُترنا ہے عبادت میری

 

 

 

منقبت در مدح شیخ ابوالحسن شاذلیؓ

 

 

 ہو محبوبِ رب العلی شاذلیؓ
ہے رُتبہ تمھارا بڑا شاذلیؓ


اِدھر ہو نگاہِ کرم شاذلیؓ
ہوں شیدا بڑا آپکا شاذلیؓ

وہ محبوبیت کے بحر سے تمھارے
میں ہوجاؤں سیراب یا شاذلیؓ

تمھارے تصدق میں کیا کیا مِلا
ہے مجھ پر کرم آپکا شاذلیؓ

اسدؔ پر ہمیشہ نظر آپکی
تمھارا وسیلہ بڑا شاذلیؓ

 

 

 

منقبت در مدح شیخ بہاؤالدین نقشبندؓ

 

 

جان میری دل میرا ہیں نقشبندؓ
میرے ہادی رہنما ہیں نقشبندؓ

یہ ہُوا اُنکی محبت کا اثر
میری رگ رگ کی سدا ہیں نقشبندؓ

نٰور سے اُنکے مِٹی ظلمت یہاں
نُورِ احمد ﷺ کی ضِیاٴ ہیں نقشبندؓ

طائرانِ قُدس ہیں نغمہ سرا
ایسے شیخِ دلرُبا ہیں نقشبندؓ

پَر تَوِ خیرالبشر ہیں وہ اسدؔ
واصلِ رب العلی ہیں نقشبندؓ

 

 

 

منقبت در مدح شیخ محمد بادشاہ محی الدیں وجودیؒ 

 

 

میرا کعبہ ترا چہرہ وجودی پیرِؒ جانانہ
یہ حسرت ہے میرے دل کی تیری تصویر ہوجانہ

ہوں شامِل بادہ خواروں میں مَیں خالدؒ پیر کے صدقے
سدا گردش میں ہو ساغر ترا  ائے پیرِ میخانہ

تُو ساقئی زمانہ ہے قیامت تک پِلا ہمکو
رہے تُو تا  ابد  قائم  سلامت  پیرِ  مستانہ

پِیؤ ایک گُھونٹ تو توحید کا عنوان بنجاؤ
زمانے سے نِرالی ہے عجب تاثیرِ پیمانہ

سبھی کو باریابی ہے سخی دربار سے تیرے
ہُوا  ایک خاص کو حاصل تری تشہیر ہوجانہ

مُریدوں میں تمھارے صرف خالدؒ پیر کو حاصل
وجودی کی جُدائی میں وجودی پیرؒ ہوجانہ

اسدؔ ہے بندہٴِ خالدؒ تمھارا چاہنے والا
ازل سے ہوں فِدائی آپکا ائے پیرِ شاہانہ

 

 

 

 مناقب در مدح شیخ محمدعبد القدیر صدیقیؒ
 
 
 
(1)
 

یے عطا کردہ ہمیں یہ زندگانی آپکی
میری قسمت میں لکھی ہے نگہبانی آپکی

ہوتے ہی پیدا ہمیں اپنا بنایا آپ نے
نام رکھا قادری ہے مہربانی آپکی

ہوں  گدا  زادہ  تمھارے در کا ائے حسرت پیاؒ
ائے  سخی  دینا  ہے عادت  خاندانی  آپکی

آپ ہی کی یاد دل میں اور تصور آپکا
ہم لیجائنگے جہاں سے یہ نشانی آپکی

مشکلوں میں ہوں پھنسا مدت سے روشن ہے تمھیں
ہو میرے مشکل کُشا اب  ضوفشانی  آپکی

رحم کے قابل ہوں خستہ جان ہوں یا سیّدی
تم سِوا آقا کرے اب کون نگرانی میری

ہاتھ پکڑے کی میرے مولیٰ ذرا لو اب خبر
دونوں عالم پر حکومت ہے سبحانی آپکی

ہوں بُروں سے بھی بُرا پر ہوں گدا میں آپکا
ہو توجھ  مجھ پہ ائے غوثِ زمانی آپکی

ہے کھڑا کاسہ لئے روضے پہ سائل آپکا
بھیک دیدو مجھکو ائے فخرِ زمانی آپکی

بنتے ہیں سب کے مقدر در پہ حسرتؒ  آپکے
ہو اسدؔ کے حال پر بھی نظرِثانی آپکی
 
 

 
(2)
 
 
میری بیچارگی پہ ربّ اکرم کی عنایت ہے
فقیرِ ماورایٰ حسرتؒ سلامت با کرامت ہے

تُو اُستادِ زمن میں ایک ادنیٰ خوشہ چیں تیرا
سخن پرور سخن پرواز میں تیری لطافت ہے

میری دیونگئی عشق تیری اک کرامت ہے
تیرے صدقے اُترجانا ہی میری اک عبادت ہے

تُو بھرتا جا میرا دامن ہر اک پل ہر گھڑی ہردم
سخی ابنِ سخی مشہور تیری بھی سخاوت ہے

نذر دل کو جگر کو کردیا اب جان باقی ہے
اسدؔ کی جان بھی حسرتؒ تمھاری ہی امانت ہے
 
 

 
(3)
 
 
بنے جو ہم قلندر ہیں یہ حسرتؒ کی عنایت ہے
ذرا دیکھو میرے اندر اُنھیں کی تو حلاوت ہے

پِلا کر جامِ وحدت ہر تقید سے کیا آزاد
خودی کا جو وہم تھا وہ مِٹا زِیرِ ندامت ہے

مجھے سینچا ہے کچھ  ایسا  سراپا  کرلیا  اپنا
مجھے سب دیکھنے والے سمجھتے ہیں یہ حسرت ہے

مجھے اپنا کے احمد ﷺ کی نذر ہے کردیا مجھکو
عجب ذرّہ نوازی ہے ، عجب اُنکی عنایت ہے

بنایا بدر ذرّے کو میں ضُوئے یار کے صدقے
زمیں کو آسماں کرنا اسدؔ اُنکی یہ عادت ہے
 
 
 

 
 
 
مناقب در مدح شیخ  محمد بدرالدیں خالد وجودیؒ
 
 
 
 (1)
 
 
دونوں جہاں کے پیشوا شیخِ زماں تم ہی تو ہو
 تم ہو خلیفہٴِ خدا حق کا نشاں تم ہی تو ہو

محفلِ کائنات کے مسند نشیں تم ہی تو ہو
مِن جملہ دوجہان کی روحِ رواں تم ہی تو ہو

تم ہوشبیئیِ مصطفیٰ ﷺ  نورِ خدا کا آیئنہ
مرکزِ نورِ لامکاں کا وہ مکاں تم ہی تو ہو

دونوں جہان میں میری  سلسلہ حیات میں
تم ہی ہو میرے راہبر پیرِ مغاں تم ہی تو ہو

تم سے ہے میری ابتدا  تم ہی ہو میری انتہا
سب کچھ تم ہی تو ہو میرے دونوں جہاں تم ہی تو ہو

ہوں میں برائے نام اسدؔ اصلِ وجود تم ہی ہو
اس جسم و جان میں میری میں ہوں کہاں تم ہی تو ہو

 
 

 
(2)
 
 
یَکسوئی یوں ہو دوئی ہرگز پتہ اپنا نہ دے
ائے نگاہِ یار مجھکو وہ دلِ دیوانہ دے

میرا باطن ہو بہو اب یار کا نقشہ بنے
میری صورت سے نُمایاں جلوہٴِ جانانہ دے

ہو گُماں خالدؒ تمھارا دیکھ کر مجھکو یہاں
دینے والے میرے قالِب کو رُخِ جانانہ دے

چشمِ باطن کو بصیرت ، قلب کو تیری وسعت
روح کو تیری لطافت ہمتِ مردانہ دے

میرا مسکن بھی تیرا وہ کوچہٴِ جاناں بنے
ائے حبیبِ حق مجھے بھی اک دلِ دیوانہ دے

تُو عیاں تو میں نِہاں ہوں ، میں عیاں تو تُو نہاں
میرے سر کو تیرا سودہ  حکمتِ فرزانہ دے

خاک کا ُپتلہ اسدؔ ہر آن محتاجِ کرم
ائے خدا اُسکی جبیں کو سجدہٴِ شُکرانہ دے
 
 

 
(3)
  
 
فقیری کا چلن مجھکو سکھایا میرے خالدؒ نے
میں کیا تھا مجھکو کیا سے کیا بنایا میرے خالدؒ نے

میرا دل گِھر گیا تھا ظلمتوں میں بارِ عصیاں سے
اُسے عشقِ نبی ﷺ سے جگمگایا میرے خالدؒ نے

میں دو راہوں پہ ظلمت میں جہاں بھی ٹھرجاتا تھا
تو بن کر نور منزل کو دکھا یا  میرے خالدؒ نے

بتاؤں کیا میں تمکو کس قدر احسان ہیں اُنکے
پکڑ کر ہاتھ سب کچھ طئے کرایا میرے خالدؒ نے

نہ پوچھو کون ہوں میں اور مجھکو ہے کہاں جانا
تھا جتنا یاد مجھکو سب بُھلایا میرے خالدؒ نے

وہ سب کچھ ہیں میرے ، در اصل میں ہے یہ وجود اُنکا
سبق توحید کا اچھا پڑھایا میرے خالدؒ نے

نہیں باقی کوئی رنجش نہ دل میں ہے کوئی کھٹکا
میرے دل کو ٹھکانے سے لگایا میرے خالدؒ نے

بتاؤں میں کیا حال اپنا  بیاں اِسکا نہیں ممکن
مجھے قدموں میں احمد ﷺ کے بٹھایا میرے خالدؒ نے

بنے محبوبِ رحمانی خلیفہٴِ خدا ہوکر
طفیلِ مصطفیٰ ﷺ کیا کچھ ہے پایا میرے خالدؒ نے

مٹا ہے اُنکی ہستی میں اسدؔ وہم و گماں اپنا
مجھے کس شانِ وحدت سے مٹایا میرے خالدؒ نے
 
 

 
(4)
 
 
یہ عجز و خاکساری ہی میری شانِ ایازی ہے
رکھا ثابت قدم مجھکو تیری بندہ نوازی ہے

کہا اپنوں نے غیروں نے ہُوا قصہ تمام اپنا
سنبھالا جس نے مجھکو وہ تیری غُربا نوازی ہے

لبِ بالیں پہ سانسیں گِن ریا تھا ، جی اُٹھا پھر سے
صدائے قُم بِاذنی کی یہ دیکھو کارسازی ہے

غمِ عصیاں کے ہاتھوں مرگیا تھا موت سے پہلے
میرے عیبوں کو ڈھانکا جو تیرا دستِ طرازی ہے

تیرے در پر تھا میں پیوندِ خاکِ آستاں بنکر
بنایا نقشِ پا اپنا ، تیری ذرّہ نوازی ہے

بچایا دربدر کی ٹھوکروں سے مجھکو دنیا میں
بنایا خاص ، ناقص کو تیری عاجزنوازی ہے

بھروسہ تیرا نہ ٹوٹا کبھی راہِ محبت میں
سنبھالا ہر گھڑی مجھکو تیری بے کس نوازی ہے

محبت میں نہ کی پروا ، لگایا داؤ پر سب کچھ
جِتایا جس میں خالدؒ نے یہ وہ ہی تو بازی ہے

اسدؔ کا حال کیا تھا ، اُسکو کیا سے کیا تم نے
عنایت ہے تمھاری بس یہ جو بھی سرفراضی ہے
 
 

 
(5)
 
 
تیری چال بڑی ہے مستانہ ، آنکھوں سے شراب برستی ہے
ائے ساقئی میخانہ تجھ سے ، مئے ناز کی موج نکلتی ہے

ہے حُسنِ ازل رُخ پر تاباں ، محبوبِ خدا کا نور عیاں
ائے صاحبِ میخانہ تجھ پہ مستئی مئے کیا ججتی ہے

مستئ سے تری ساقئی جو بھی  ہُوا مست بُلندی پر پہچا
ہے خشبوئے میخانہ کی مہک جو عرشِ بریں پہ مہکتی ہے

پینے کی یہاں کوئی حد ہی نہیں ، یہاں ساغر و مِینا  شرط نہیں
یہاں آنکھ ملی بے خود کردی ، یہ بزمِ حسن پرستی ہے

پروانہ بنا ہے ہر میخوار ، اک شمع پہ صدقے سب ہیں نثار
ہے محوِ رُخِ ساقی ہر اک ، یہ بزمِ حسن پرستی ہے

یہ بزمِ مئے عرفاں ہے جہاں کی رسائی بڑی اک نعمت ہے
یہ شرابِ محبت ہے زاھد ، جس میں ہے عُلو ، نہ کہ پَستی ہے

مَستوں کی یہ بستی کے صدقے ، خالدؒ  تیری آنکھوں کے قرباں
تیری بحرِ معارف کی ساقی ، کوئی حد ہے نہ تہہ کبھی ملتی ہے

تیرا دل ہے جہاں کا میخانہ ، تیری آنکھیں شراب کے پیمانے
تیری ایک جھلک کو ائے خالدؒ  ہر رِند کی آنکھ ترستی ہے

تیری چشمِ حقیقت کے صدقے ، مِٹے ہم تیری ہستی میں ایسے
ہوئے ہم ہیں برائے نام اسدؔ یہی اپنی پِیر پرستی ہے
 
 

 
(6)
 
 
 تعال اللہ  کیا چہرا ہے چہرا بدرِ انورؒ کا
رسول اللہ ﷺ کا جلوہ ہے جلوہ بدرِ انورؒ کا

وجودِ خالقِ مطلق ہے نقشہ بدرِ انورؒ کا
یہ حق ہے مظہرِ حق ہے سراپا بدرِ انورؒ کا

ازل سے ہوں میں وارفتہ دیوانہ بدرِ انورؒ کا
خدا نے ہے بنایا مجھکو شیدا بدرِ انورؒ کا

تحیُّر ہمکو ہی اک ہے نہیں ، ہے دم بخود ہر ایک
زمانے نے کیا نہ مِثل پیدا بدرِ انورؒ کا

وہ ہیں محبوبِ رحمانی ، ہیں مرکز رحمتِ حق کے
نہ اِتراؤنگا میں کیوں ، ہوکے صدقہ بدرِ انورؒ کا

خدا ہی جانتا ہے مرتبہ خالد وجودیؒ کا
ہیں فردِ مُنفرد رُتبہ ہے اعلیٰ  بدرِ انورؒ کا

وہ ہیں انسانِ کامِل پَر تَوِ خیرالبشر ہیں وہ
خدائی کو سمائے ہے یہ کُوزہ بدرِ انورؒ کا

ہوں عاجز لا کلام ، انکی ثنا ممکن نہیں مجھ سے
بلند و برتر و بالا ہے رُتبہ بدرِ انورؒ کا

اسدؔ ادنیٰ سگِ در خاک پائے شاہِ خالدؒ ہے
مُقدر پر ہوں نازاں ہوں جو بندہ  بدرِ انورؒ کا
 
 

 
(7)
 
 
نُور وحدت کی ضِیا ہیں بدرالدیںؒ
قبلہ و ایماں میرا ہیں بدرالدیںؒ

اُنکی نظروں نے مِٹا ڈالا مجھے
مجھ میں خود جلوہ نُما ہیں بدرالدیںؒ

کھو گیا خود کو بھی میں پاتا نہیں
اب میرا خود ہی پتہ  ہیں بدرالدیںؒ

دیکھ لو خالدؒ پیا کو دیکھ لو
مجھ سے ظاہر برملا ہیں بدرالدیںؒ

ھائے کیا جادو کیا ہے یار نے
میری رگ رگ کی سدا ہیں بدرالدیںؒ

مُنفرد ہیں اولیا اللہ میں
ایسے پِیرِ با صفا ہیں بدرالدیںؒ

مجھکو حضرت خضرؑ سے ہے کام کیا
راہبر ہیں رہنما  ہیں بدرالدیںؒ
 
 

 
(8)
 
 
 کوئی بیمارِ محبت کوئی دیوانہ تیرا
عشقِ لیلیٰ میں کوئی لیلیٰ ہے مستانہ تیرا

کوئی وارفتہ تیرا اور کوئی تو مدہوش ہے
ہر کوئی کرتا ہے اپنے دل کو نذرانہ تیرا

کوئی غم سے چُور ہے چاکِ گریباں ہے کوئی
کوئی رونے کے لئے بس ڈھونڈتا شانہ تیرا

ہر کسی میخوار کو مِلتا ہے بِن مانگے یہاں
تا ابد باقی رہے خالدؒ یہ میخانہ تیرا

وصلِ حق کے مُدعی کو عرش کی حاجت نہیں
فرش پر ہے عرش کی صورت یہ کاشانہ تیرا

ہوگئی غالب رِجا اُسکو سرورِ وصل ہے
روزِ محشر جھومتا ہے مست دیوانہ تیرا

ہے اسدؔ شامل یہاں پر بادہ خواروں میں تیرے
حشر میں بھی ساتھ ہو تیرے یہ دیوانہ تیرا
 
 

 
(9)
 
 
ہیں وہ انجاں ہمیں شیدا بناکر
فِدا ہوتے ہیں ہم تطریں بچاکر

چھپو نہ تم کبھی پردوں کے اندر
کہیں سورج چھپا بدلی میں جاکر

کُھلی آنکھیں قُفل منھ پر پڑا ہے
ہوں بے خود حسنِ فتنہ گر کو پا کر

چھپی بیٹھی ہے قدرت کیسے دیکھو
سراپا شکل میں تیری سما کر

ہر ایک اس بزم میں قربان تجھ  پر
یہی دیکھا تیری محفل میں آ کر

ہمارا کام بس صدقے اُترنا
مِلی منزل تیرے قدموں میں آکر

اسدؔ کے پاس اپنا کچھ نہیں ہے
وہ خوش ہے بس تجھے اپنا بنا کر
 
 

 
(10)
 
 
 میرا خالدؒ چُھپا میرے من میں
بس گیا وہ میرے نینن میں

ہوکے چاہت میں تیری دیوانی
میں بھٹکتی پھروں بن بن میں

میں بھی ہوں تیرے در کی بِھکارن
ڈالدے کچھ میرے دامن میں

تیری بنتی کرَت کے میں ہاری
تُو نہ آئے میرے آنگن میں

تھک گئی تجھ کو دیکر دُھائی
میں پڑی ہوں بڑی اُلجھن میں

آئے تُو جو میری کُٹین میں
پھیلے خوشبو تیری اِس گُھٹن میں

پریت میں مَیں بنی تیری جوگن
ہوگی راحت تیرے درشن میں

میرے من کا کُنور میرا خالدؒ
تیرا کَجرا میری انکھین میں

میرے مَن پہ ہے تیرا اِجارا
تیرے سُر دل کی ہر دھڑکن میں

دیکھنا ہو کسی کو تو دیکھے
تیری تصویر اس درپن میں

ہے اسدؔ ایک داسی تِہاری
تُو ہی تُو ہے بسا اُسکے من میں
 
 

 
(11)
 
 
مُسدس

پَر تَوِ ذاتِ محمد ﷺ شانِ تو  ۔   اُنسِ احمد ﷺ ہی فقط ایمانِ تو
بَر توکل ہی فقط سامانِ  تو  ۔  عبدِ کامل رُتبہٴِ ذیشانِ  تو

خالدِ من جانِ من قربانِ تو
پیرِ من ایمانِ من قربانِ تو

دید میں تیری عجب ہی بات ہے  ۔  دیکھنا تجھ کو فنائے ذات ہے
یہ نِشانِ بے نشاں کی بات  ہے  ۔  وصلِ حق کی بھی یہی سوغات ہے
 
خالدِ من جانِ من قربانِ تو
پیرِ من ایمانِ من قربانِ تو


تیری ہی انسانِ کامل شان ہے   ۔   پَر تَوِ خیرُالبشر انسان ہے
تجھکو دیکھے ہر بَشر حیران ہے ۔  صدقے جانا شیوہٴِ خاصان ہے
 
خالدِ من جانِ من قربانِ تو
پیرِ من ایمانِ من قربانِ تو

 
فرش پردیکھی تیری وہ سادگی  ۔  عرش پر دیکھی تیری جلوہ گری
کون میں دیکھی بڑی قدرت تیری ۔  ذرّۃ  ذرّہ  پر حکومت ہے تیری
 
خالدِ من جانِ من قربانِ تو
پیرِ من ایمانِ من قربانِ تو


میرا قبلہ میرا کعبہ ہے یہی   ۔   ذاتِ احمد ﷺ کا پتہ بھی ہے یہی
حق سے مِلنے کا وسیلہ ہے یہی  ۔  در حقیقت میرا سب کچھ ہے یہی
 
خالدِ من جانِ من قربانِ تو
پیرِ من ایمانِ من قربانِ تو


میری آنکھوں سے تجھے دیکھے کوئی ۔  اُسکو دیدارِ محمد ﷺ ہو ابھی
آئے گی اُسپر فنا کی بے خودی ۔ کھوکے خود کو پائیگا حق کو ابھی
 
خالدِ من جانِ من قربانِ تو
پیرِ من ایمانِ من قربانِ تو


دستِ خالدؒ پُشت پر میری سدا   ۔   ہیں وجودیؒ  پُشت پر اُنکے سدا
پُشت پر اُنکے سدا  شمسی پیاؒ  ۔  اُنکے سر پر سایئہ خیرُ الوریٰ ﷺ
 
خالدِ من جانِ من قربانِ تو
پیرِ من ایمانِ من قربانِ تو


سر جُھکایا ہے قُدومِ  شمسؒ  پر ۔  دل کیا صدقہ وجودی پیرؒ پر
جان کی قربان خالدؒ  پیر پر ۔  رُوئے خالدؒ ہی میرا محوِ نظر
 
خالدِ من جانِ من قربانِ تو
پیرِ من ایمانِ من قربانِ تو


بزمِ خالدؒ کی عجب یہ شان ہے  ۔  ہر کوئی تجھ پر یہاں قربان ہے
دردِ دل کا تُو ہی تو درمان ہے  ۔  تُو حقیقت میں اسدؔ کی جان ہے
 
 خالدِ من جانِ من قربانِ تو
پیرِ من ایمانِ من قربانِ تو
 

 
(12)
 
 
 تمھاری ذات قُدسی کو کوئی سمجھے تو کیا سمجھے
جو سمجھے کچھ تمہیں وہ عقل و دانِش سے ورا سمجھے

جُدا ہے شان تیری روز ہی ایک نِت نئے رنگ میں
تیری شکلِ مُنور کو تجلئی خدا سمجھے

کبھی آئے نظر خواجہؓ ، کبھی غوثؓ و علیؓ  آئے
تیرے دیدار کو ہم دیدِ احمد مصطفیٰ ﷺ سمجھے

میری نظریں ٹکی ہیں غوثِ دوراں کی سخاوت پر
ائے غوثِ وقت تجھکو ہم یہاں مشکل کُشا سمجھے

تیری چشمِ ھدایت کا ہوا کچھ ہوں اثر ہم پر
زمین و آسماں میں حق کو ہی جلوہ نُما سمجھے

حقیقت کُھل گئی پردہ اُٹھا تو یہ سمجھ آیا
تعین کی اَنا کو منشاءِ ذاتِ خدا سمجھے

اسدؔ کی بندگی برحق وہ غیرِ حق نہیں پھر بھی
بجز دیوانگی زاھد اسے سمجھے تو کیو سمجھے
 
 

 
(13)
 
 
یے اِس پر ناز مجھکو میں گدا خالدؒ  تمھارا ہوں
نبی ﷺ کی مصطفائی میں نہیں میں بے سہارا ہوں

مِٹا کے غیریت دل سے میرے ، اپنا لیا تم نے
فدائی ہوں ، دیوانہ ہوں ، بڑا شیدا تمھارا ہوں

میری وارفتگی کا حال نہ پوچھے کوئی مجھ  سے
مِٹا ہوں اسطرح اُن پر   بَنا اُنکا سراپا ہوں

بنا کے قادری مجھکو نوازا دین و دنیا میں
ہُوا انمول یوں کہ اُنکا میں صدقہ اُتارا ہوں

پکڑ کر ہاتھ  ایک لمحہ میں واصِل کردیا حق سے
مجھے تم دیکھ کر حیراں نہ ہوں اُنکا سنوارا ہوں

اُن ہی کی رنگ و بُو کو میں لئے پھرتا ہوں دو جگ میں
میں اُنا نقشِ پا ، اُنکی شبی ، اُنکا نظارہ ہوں

ذرا تم غور سے دیکھو مجھے ، پاؤگے تم اُنکو
مجھے ڈھالا اُنھوں نے یوں بنا اُن کا ہی نقشہ ہوں

زمین و آسماں کی کُنجیاں حق نے اُنھیں دے دیں
سخئی دوجہاں کے در پہ میں دامن پسارا ہوں

وہ ہیں محبوبِ رحمانی وہ ہیں مرکز تجلّی کے
میں زیرِ سایہٴِ  خیرُالبشر کے زِیرِ سایہ ہوں

نبی ﷺ کے فیض کا ہو موجزن دریا ہیں عالم میں
اسدؔ ہوں گُم اُسی میں ، مَیں اُسی دریا کا قطرہ ہوں

 

 

 
 
مناقب در مدح شیخ  شُجاع الدیں صدیقیؒ
 
 
 
(1)
 
 
شیخِ زماں ہیں عزتِ ذیشاں برامدا
حسرت پیاؒ بصورتِ جاناں برامدا

نُورِ محمدی ﷺ تیرے چہرے سے ہے عیاں
دونوں جہاں کی شمع فروزاں برامدا

ذاتِ خدا سے قُرب کی اب حد بھی ہو کوئی
خود ہی خدا بصورتِ انساں برامدا

دستِ محی الدیں ہے ولایت کرے عطا
ذاتِ احد کا منبعِ عرفاں برامدا

ابنِ سخی ہے سامنے کیوں اپنی فکر ہو
داتا خود ہی بَسوئے غریباں برامدا

تیری نوازشوں کی کبھی حد نہ ہو کوئی
ہم بھی ہوئے ہیں سخت پریشاں برامدا

وہ ناتواں اسدؔ تیرا ادنیٰ غلام ہے
ہے وہ بھی ترے سایہٴِ داماں برامدا 

 
 

 
(2)
 
 
 مجھے خود میں حق کو دیکھاے چلا جا
میرے پیر مجھکو مِٹائے چلا جا

بنوں حق نِگر مجھکو ایسی نظر دے
میرے مُردہ دل کو جِلائے چلا جا

مجھے دیکھ کر سب کو تیرا گُماں ہو
مجھے اپنے رنگ میں رنگائے چلا جا

کبھی ہوش آئے نہ اِس میکدے میں
مجھے خُم پہ خُم تُو پِلائے چلا جا

فنا و بقا کے سفر میں ہمیشہ
میں مرتا رہوں تُو جِلائے چلا جا

نہیں کوئی بے لوث ہمدرد میرا
تُو دامن میں مجھکو چُھپائے چلا جا

اسدؔ ایک عاصی ہے تُو بَرگُزیدا
کسی طرح رب کو منائے چلا جا
 
 

 
(3)
 
 
جاذبیت کا تیری خوب سماں ہوتا ہے
جو بھی دیکھیں انھیں احمد ﷺ کا گماں ہوتا ہے

تیرے دیدار میں دیدارِ نبی ﷺ کی لذت
نُورِ احمد تیرے چہرے سے عیاں ہوتا ہے

عبدِ کامل بھی ہے  تُو مرکزِ تجلّی بھی
بزمِ عالم میں تُو ہی روحِ رواں ہوتا ہے

صاحبِ کلکِ ازل باعثِ تقدیر ہے تُو
تیرا ہر قول گویا حق کی زباں ہوتا ہے

عینِ حق کیوں نہ کہوں ائے شہہِ والا تجھکو
ادنا خادم بھی تیرا پیرِمُغاں ہوتا ہے

عرش سے فرش تک پھیلی ہے حکومت تیری
کوئی تجھ سا بھی کہیں شیخِ زماں ہوتا ہے

اُنکی خاطر یہاں جینا بھی ہے مرنا بھی اسدؔ
اُن سا کوئی نہ کہیں مُونِس جاں ہوتا ہے
 
 

 
(4)
 
 
ہمارے درد کا درماں ہماری جانِ جاں تم ہو
میرے عزت پیاؒ بے شک ہمارے نگہباں تم ہو

بُرے ہیں یا بھلے پر ہیں گلے کا ہار ہم مولیٰ
پہچ جائیںگے ہم اُس جا ، جہاں جانِ جہاں تم ہو

نہیں ڈر ہمکو دنیا کا نہ کوئی فکر عقبا کی
ازل ہی سے ہمارے پیشوا  شیخِ زماں تم ہو

ہُوا گر لاکھ گردش میں زمانہ مجھکو کیا پروا
ہوں ذرّہ خاک پر لیکن میرا تو آسماں تم ہو

مجھے فانوس بنکے گھیر رکھا ہے دو عالم میں
ہے باہر پہنچِ طوفاں سے  وہ میرا آشیاں تم ہو

پکڑ رکھا ہے یوں مجھکو کبھی گِرنے نہ دوگے تم
چراغِ راہ شب میں ، دن میں سر پر سائیباں تم ہو

تمھیں بخشی خدا نے دو جہاں میں حشمت و عزت
رسول اللہ کے نائب امامِ دو جہاں تم ہو

میرے دل میں بسے ہو اور آنکھوں میں سمائے ہو
پڑی مجھ پر نظر میری تو دیکھا میں کہاں تم ہو

کوئی تم سا نہیں دیکھا خدا کے دونوں عالم میں
اسدؔ کو ہے یقیں بے شک نشانِ بے نشاں تم ہو
 
 

 
(5)
 
 
 ائے شہہ عزت پیا تیری بڑی سرکار ہے
مظہرِ خیرالوریٰ  تُو سیّدِ  ابرار  ہے

جلوہٴِ رحماں فرش پر تیری صورت سے عیاں
صورتِ جاناں سے تاباں بس وہی دِلدار ہے

ترجمانِ حق تعالیٰ  قبلہٴِ دونوں جہاں
ائے حبیبِ کبریا تُو مرکزِ انوار ہے

دیدہٴِ باطن سے دیکھو آنکھ والو تم ذرا
فی الحقیقت یہ رسول اللہ ﷺ کا دربار ہے

طائرانِ قُدس کی حالت یہاں ہے دیدنی
ہوش میں رہنا یہاں کتنا اُنھیں دُشوار ہے

ہم کو تُو قدموں ہی میں رکھ لے امامُ الاولیا
ساتھ ہیں تیرے جو بے شک اُنکا بیڑا پار ہے

ہے اسدؔ بھی لائقِ رحم و کرم یا سیدی
خادمِ خستہ جِگر ہے وہ بڑا لاچار ہے
 
 

 

(6)

 

محفلِ بادہ و پیمانہ مبارک باشد
مرحبا جلوہٴِ جانانہ مبارک باشد

دستِ ساقی نہ رُکے میکشو ہے عید یہاں
تم کو ہو ساقئی مستانہ مبارک باشد

جلوہ افروز محمد ﷺ ہیں بشکلِ عزت
جاں نثارو رُخِ جانانہ مبارک باشد

چشمِ عزت نے کیا گُم یہاں دیوانوں کو
بے خودی میں تمھیں بہہ جانا مبارک باشد

طالبِ دنیا کو ذر ، دین کو فردوس ملے
ہمکو عزت تیرا کاشانہ مبارک باشد

تا قیامت رہے گردش میں یہ جامِ حسرتؒ
ہم کو تو صاحبِ میخانہ مبارک باشد

چشتی و قادری پیمانے دو ہاتھوں مین اسدؔ
باغِ  وحدت میں یہ کھوجانہ مبارک باشد
 
 

 
(7)
 
 
بہارِ سرمدی عبدِ مکمل یار کے صدقے
سراپا اِس شبیئ حیدرِ کرّار کے صدقے

زمین و آسماں تھامے ہوئے تُو دونوں ہاتھوں سے
یہ تائیدِ نبیٴِ احمدِ مختار ﷺ  کے صدقے

تُو مرکز چشمِ حق کا اور سہارا دونوں عالم کا
مُقیمِ باغِ وحدت کی بڑی سرکار  کے صدقے

جلا کر خاک کر ڈالا دوئی کو میری ہستی سے
نثار اِس چشمِ وحدت کی تیری انگار  کے صدقے

ہمیں دائم شُہودِ حق بقائے بندگی حاصل
تیری شکالِ مُنوّر کے تیرے دیدار  کے صدقے

مِلے اپنوں کو غیروں کو نہ جائے کوئی بھی خالی
تیری اِس دین کے اِس چشمِ گوہر بار  کے صدقے

نہ چھوٹے گا تیرا دامن نہ دنیا میں نہ عُقبا میں
تیرے قرباں اسدؔ تیرے سخی دربار  کے صدقے
 
 

 

(8)
 

میری عزت پیا سے آنکھ لڑی
اُنکے ہاتھوں میں مَیں بے دام بِکی
دیکھو دیکھو سکھی ری آئے ہیں وہ
اب تو جائیگی سنگ اُنکے یہ چُلبُلی

میں رہونگی ہمیشہ اب اُنکے سنگ
میں رنگی جاؤنگی اب رنگیلے کے رنگ
لیکے اُنکی بلیّاں میں پھیرے پھروں
صدقے ہوکر گُزاروں میں یہ زندگی

کیسا بانکا سنوریا پیا ہے میرا
پر ہٹیلا ذرا ہے رنگیلا میرا
تُو کرے ہٹ میں قرباں ترے دم بدم
واری جاؤں مناؤں تجھے ہر گھڑی

رُوٹھے جب جب بھی تُو میں مناؤں تجھے
اپنی تِرچھی نجریا سے لُبھاؤں تجھے
منھ پہ مانے نہ تُو دلمیں راضی رہے
کیسی چاہت پیا یہ میری اور تیری

لوگ دیکھیں مُجھے میں جدھر کو چلی
چھیڑیں سکھیاں کہیں مجھکو جوگن تیری
من میں تن میں بسا تُو اسدؔ کے پیا
مجھ کو درپن دیکھائے صورت تیری

 

 

(9)
 
 
کیا بتاؤں جو نِگاہِ یار کی تاثیر ہے
تا ابد دیوانہ کردے ایسی یہ تنویر ہے

دیکھنے والا یہاں پر ہر کوئی مدہوش ہے
تُو سراپا جلوہٴِ رحمان کی تشہیر ہے

تیرے چہرے سے کُھلا جو دفترِ توحید ہے
دید میں تیری فنائے ذات کی تعبیر ہے

ہمکو دیتی ہے پتہ تیری یہ ابرو کی شِکن
حکمِ حق کی عرش پر اسوقت جو تصویر ہے

تیرا کاشانہ بنا ہے جلوہ گاہِ   کبریا
تیرے حُجرے سے جُڑی وہ عرش کی زنجیر ہے

کوئی دیکھے تو سہی چشمِ بصیرت سے تجھے
تُو حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کی تصویر ہے

تیرا وابستہ اسدؔ اب فکر سے آزاد ہے
جو زباں سے تیری نکلے وہ میری تقدیر ہے

 

 

 

(10)
 
 
 تھے جب تک تم ہمارے بیچ کیا اچھا زمانہ تھا
مزے کی دن تھے اور پُرکیف اک عالم سُہانہ تھا

الم تھے ، رنج و غم بھی تھے ، مگر تم تھے بھروسہ تھا
سُکونِ دل کے پانے کو تمھارا آشیانہ تھا

سُکوں دیتا تھا ہنستا دیکھنا، سننا، تمھیں چھونا
تمھاری روز و شب خدمت بظاہر اک بہانہ تھا

پتہ ہی نہ چلا کب دل ہمارا لے لیا تم نے
فِدا ہوتے تھے ہم ہر پل ، غضب کا دل لگانا تھا

جلادی عشق کی شمع میرے سینے میں چپکے سے
میرا دل پھر تمھارا جگمگاتا آستانہ تھا
 
خبر اپنی نہ تھی ہمکو ، طوافِ یار تھا ہر دم
تمھاری واہ واہ تھی تم سے ھاں میں ھاں ملانا تھا

کبھی تھیں عرش کی باتیں ، کبھی  تھے فیصلے جگ کے
خدا کو آپکے حُجرے سے عالم کو چلانا تھا

تھے تم مسند نشین ہم سامنے زیرِ قدم ہوتے
خدا کو اپنی صورت کو ہمیں بھی تو دکھانا تھا

ہماری تربیت میں تم سہو کو درگزر کرتے
تمھیں راہِ خدا میں ہمکو جو آگے بڑھانا تھا

کبھی نعتِ نبی ﷺ ہوتی کبھی مدّح ولیوں کی
تمھیں زنجیرِ نسبت کی ہمیں کڑیاں بنانا تھا
 
سمجھ پائے نہ ہم برسوں ہمیں کیا کررہے تھے تم
تمھیں ذرّات کو شمس و قمر جیسا بنانا تھا

تھے تم فرماروا ، اور قاسمِ تاج و حکومت بھی
تمھارے ہاتھ میں بے شک ہمارا آب و دانہ تھا

تمھارے گِرد خاصوں کی مجالس رات کو ہوتیں
نظامِ باطنی کو ہمکو بھی تمکو سِکھانا تھا

بڑوں کی ، خاص ولیوں کی زیارت ہم بھی کرلیتے
نظامِ دو جہانی کا بڑا منظر سہانہ تھا

مزے کے دن گزرتے تھے بَری تھے فکرِ دنیا سے
مگر حق کو تو اپنے اِس زمانے کو  گُھمانا  تھا

اچانک تم نے حق کا فیصلہ ایک دن سُنا ڈالا
خدا کے پاس واپس جلد ہی اب تمکو جانا تھا

پھر آیا مرحلہ مشکل ہمیں تم سے جدائی کا
غم و اندوہ کا اپنے نہ پھر کوئی ٹھکانا تھا

لگا ایسا کہ سب کچھ لُٹ گیا باقی نہیں کچھ بھی
اگر جانا ہی تھا تمکو تو پھر ہمکو لیجانا تھا

گئے کیا تم بلاؤں نے ہمیں ہر سمت سے گھیرا
نہیں سونچا تھا تم بن یہ ہمارا حال ہونا تھا

جئے جاتے ہیں ہم گو تھک گئے بے کیف جینے سے
یہ تھی مرضی خدا کی اور اسدؔ کو سر جھکانہ تھا
 
 

 

 (11)

 

 آپکی چشمِ کرم ہے میربانی آپکی
ہے مُیَسّر ہمکو ہردم نگہبانی آپکی

ہیں حِمایت پر رسول اللہ ﷺ ہر دم آپکی
دوجہاں میں سب نی دیکھی کامرانی آپکی

ہوکے کامل بن گئے محبوبِ ربّ کبریا
خَلق کی خدمت میں بیتی زندگانی آپکی

عالمِ اسلام کی حالت بدلدی آپ نے
دیکھ لی آنکھوں سے ہم نے جانفشانی آپکی

ہوگئے جب بھی سِپر قومِ مسلماں کے لئے
لاج رکھ لی حق نے ہر ہر بار جانی آپکی

داؤ پر جاں کو لگا کر ہے بچایا قوم کو
عالمِ اسلام نے دیکھی روانی آپکی

خدمتِ خلقِ جہاں اور بندگی کے خُلق بھی
ہم نے سیکھی انتظامِ دوجہانی آپکی

حق سے واصل کردیا اک چشمِ وحدت نے تیری
آپکے صدقے میں پائی ضُوفشانی آپکی

آپکی چوکھٹ پہ صدقے کردیا دل اور جِگر
نذر کردی ہم نے اپنی زندگانی آپکی

رنگ لانے کے لئے پتھر پہ پِسنا ہے مگر
ہو میرے حالِ زُبوں پر نظرِ ثانی آپکی

ْقابلِ رحم و کرم ہوں دیکھ لو عزت پیاؒ
بہرِ حسرتؒ ہو اسدؔ پر مہربانی آپکی
 
 

 
 
 
مناقب در مدح شیخ  میر مومن علی قادریؒ
 
 
 
 (1)
 
 
سراپائے محمد ﷺ ہے جمالِ حضرتِ مومنؒ
فنائے ذاتِ واجب ہے خیالِ حضرتِ مومنؒ

شُہودِ حق اگر چاہو تو دیکھو صورتِ زیبا
وصالِ حق یقیناً ہے وصالِ حضرتِ مومنؒ

وہ اپنے آپ میں یکتا ، نہیں کوئی بھی اُن جیسا
عیاں ہے چشمِ باطن پر کمالِ حضرتِ مومنؒ

تمھارے ہی تصدق میں ملے دونوں جہیاں ہمکو
نہ لوٹائے کبھی حق نے سوالِ حضرتِ مومنؒ

سُرورِ بندگی حاصل وہ مست و شاد ہے ہر دم
فکر اُسکو نہیں جو ہے نہالِ حضرتِ مومنؒ

دلادے اپنا صدقہ اور اپنے پیر کا صدقہ
ہوں روضے پر کھڑا میں نونہالِ حضرتِ مومنؒ

اسدؔ قسمت پہ نازاں کیوں نہ ہو ائے پیرِ بے ہمتا
ضیائے راہِ حق ہیں خوش خِصالِ حضرتِ مومنؒ

اسدؔ ایک عاصئی کمتر تُو پیرِ برتر و بالا
کوئی لائے تو میں جانوں مثالِ حضرتِ مومنؒ 
 
 

 

 (2)

 

اپنے دل میں مَیں تمکو چھپائے جاؤنگی مومن پیارےؒ
من کی اگنی کو اور بھڑکائے جاؤنگی مومن پیارےؒ

تُو لاوبالی تو میں بانوری ہوں
تیرے رنگ میں مَیں خود کو رنگائے جاؤنگی مومن پیارےؒ

سانورا مکھڑا ہے نینا رسیلے
صدقے جاؤں میں تجھکو لُبھائے جاؤنگی مومن پیارےؒ

ایوانِ احمد ﷺ میں تیری رسائی
ترے دامن میں خود کو چھپائے جاؤنگی مومن پیارےؒ

عرشِ معلّیٰ کا تُو جانے والا
اپنی ہستی کو تجھ میں مِٹائے جاؤنگی مومن پیارےؒ

بدرِ وِلایت تُو شیخِ طریقت
جامِ مومن پِیوں اور پلائے جاؤنگی مومن پیارےؒ

چہرہٴِ زیبا اسدؔ کو دیکھادے
تیرے روضے پہ شور مچائے جاؤنگی مومن پیارےؒ

 
 

 

 (3)

 

ہے ثابت ہر دو عالم میں بڑھائی میرے مومن کی
خدا  اُنکا ، نبی ﷺ اُنکا ، خدائی میرے مومن کی

مجھے دونوں جہاں میں جو بھی چاہیں وہ دِلاتے ہیں
زمیں تا عرش ہر جا ہے رسائی میرے مومن کی

میں چُھپ کر دامنِ اقدس میں کیا کیا دیکھ لیتا ہوں
خدا کے عرش پر ہے جگمگائی میرے مومن کی

خدا کے فضل کی بارش کا ابرِ دائمی وہ ہیں
برستی ہے جو ہم پہ وہ ہے لائی میرے مومن کی

ہیں محبوبِ خدا ، مقبول دربارِ رسالت ﷺ ہیں
ہمیں حاصل ہے ہرجا رہنمائی میرے مومن کی

ہے روضہ فرش پر لیکن حکومت ہے بڑی اُنکی
رسول اللہ ﷺ نے عظمت بڑھائی میرے مومن کی

نہ حیراں ہو اسدؔ کا رنگ ہ لہجہ دیکھ کر کوئی
میرے پردے میں بے شک ہے سمائی میرے مومن کی

 

 

 

منقبت در مدح شیخ  سید احمد بادپاؒ
 
 

تم غریبوں کے ہو داتا سید احمد بادپاؒ
ناتوانوں کے مسیحہ سید احمد بادپاؒ

چِشت کے تم تاجور ہو یا ولی روشن ضمیر
دکن میں ہو رونق افزا  سید احمد بادپاؒ

دلّی ہو آنا شباشب کونسا مشکل ہے کام
عرش پر ہے آپکی جا سید احمد بادپاؒ

آپکے مُرشِد حضرت نظام الدین کا
کچھ ملے صدقہ اُتارا سید احمد بادپاؒ

بُزرُگانِ بیت کی میرے ہے وہ آرامگاہ
ہے بڑا دامن تمھارا سید احمد بادپاؒ

والدینِ محترم بھی جلوہ فرما ہیں وہاں
ہے جہاں روضہ تمھارا سید احمد بادپاؒ

آپکی نظرِ عنایت ہم پہ خاصُ الخاص ہے
بے غرض محسن ہو تم یا سید احمد بادپاؒ

چاہنے والا تمھارا ہے اسدؔ یا  بادپاؒ
مجھ پہ ہے احساں تمھارا سید احمد بادپاؒ
 
 
 

السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

Translate Website

Recent Videos

5372 views - 0 comments
11491 views - 5 comments
7452 views - 2 comments
7323 views - 0 comments