CIF INTERNATIONAL ASSOCIATION

العقيدة الإسلامية الصحيحة

 

 

 

 

احساسِستانِ اسدؔ  

مجموع کلام
 
 
 
تصنیف
میر اسد اللہ شاہ قادری  اسدؔ

 
 

 
عرضِ حال
 
 
 

 

بِسم الله الرحمنِ الرحيم  

 الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين


  میرے ۱ردو کلام کے مجموع کی جلد اول   احساسستانِ اسدؔ   ۱۹۹۹  میں شایع ہوئی تھی ۔ اسکے بعد   ۲۰۱۷ میں اسکی جلد دوم کی اشاعت ہوئی جسمیں وہ کلام بھی شامل ہوا جو ۱۹۹۹ کے بعد لکھا گیا تھا ۔  چونکہ یہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے  قارئین  اِسے آن لائن بھی  پڑھ سکتے ہیں۔

اشعار میں جو لطف ہوتا یے وہ  نثر اور منطِق میں کہاں؟  آپکے پیشِ نظر وہ اشعار ہیں جو اللہ  اُسکے رسولﷺ اور اُنکے چاہنے والوں کی مدّح میں لکھے گئے ہیں ۔

صوفیا اور اولیا اللہ کے کلام کو پڑھنے سے پہلے کچھ چیزوں کا جاننا ضروری ہوتا ہے ۔  ان چیزوں کو یہاں مُختصراً بیاں کیا گیا ہے ۔ 

     مُشاکلہ / تشبیحہ دنیا کی ہر زبان میں ہے ۔  کلام اللہ میں بھی ہے ۔  قران میں آیاتِ مُتشابہات ہیں جنکا مطلب سہی طریقے پر سمجھنا ضروری ہے ۔  مُشاکلہ  ہر شاعر کے کلام میں ہوتا ہے ۔  جیسے شاعر اپنے محبوب کو چاند سے تشبیح دیتا ہے ۔ صوفیا  کے کلام میں بھی اکثر الفاظ کے اعتباری معنی لئے جاتے ہیں ۔  جیسے ’لطف مئے‘ سے مُراد  ’سُرورِ جوشِ محبت‘ اور میخانہ سے مُراد  مُرشِد کی محفل اور ساقئی مئے خانہ  سے مُراد شیخِ کامل اور رِند سے مُراد  ’مُرید‘ ہوتے ہیں ۔ یہ اِس لئے کے شیخِ کامِل اپنی توجھ سے مُریدوں کے دلوں میں عشقِ مُحمدیﷺ کی شمع کو روشن کرتا ہے ۔

 تیری چال بڑی ہے مستانہ  آنکھوں سے شراب برستی ہے
ائے ساقئِ  میخانہ  تجھ سے مئے ناز کی موج نکلتی ہے

یہ بزمِ مئے عرفاں ہے جہاں کی رسائی بڑی ایک نعمت ہے
یہ شرابِ محبت ہے زاھد ، جس میں ہے عُلو ، نہ کہ پستی ہے

مَستوں کی یہ بستی کے صدقے ، خالدؒ تیری آنکھوں کے قرباں
تیری بحرِ معارف کی ساقی ، کوئی حد ہے نہ تہہ کبھی ملتی ہے

 

صوفیا / اولیا اللہ جب ’عبد‘ یا ’بندہ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو کہیں اسکے لفظی معنی ’بندہ خدا‘ کے لیتے ہیں تو کہیں اعتباری معنی ’غلام‘ کے لیتے ہیں ۔

احسان نبی ﷺ کا ہے اسدؔ بندہٴِ حضرت ﷺ
ہو چشمِ  عنایت  بنوں  دربانِ  محمد ﷺ

اسدؔ ہے بندہٴِ حضرت ﷺ دیوانہ آپکا شیدا
مقدر نے بنایا مجھکو پروانہ محمد ﷺ کا 
 
لفظ  ’سجدہ ‘  کے عام فہم  لفظی معنی ’سجدہ عبادت‘ لئے جاتے ہیں ۔ صوفیا کہیں اسکے لفظی معنی لیتے ہیں اور کہیں اعتباری معنی  ’فرطہ محبت میں قدم بوسی‘  پا بوسی  یا  انتہائی ادب و عاجزی میں سر جھکانے یا پیر چھونے کے لیتے ہیں۔  جیسا کہ احادیث میں آیا ہے کہ صحابہ‘  رسول اکرم صلى الله عليه و آله وسلم کی قدم بوسی کیا کرتے تھے ۔   اسیطرح سے الفاظ  ’سگ‘ اور ’کتا‘  ہیں ۔ صوفیا  اپنے کلام میں  اسکے اعتباری معنی ’وفادار اور خدمت گزار غلام‘  کے لیتے ہیں ۔

تمھارے ہی تصوّر میں درِ اقدس پہ سر رکھ کے
سگِ در آپکا دامن پسارا  یا رسول اللہ ﷺ

ذرّہٴِ نا چیز ہوں   پیوندِ  خاکِ آستاں
ہوں سگِ در آپکا  میری طرف بھی دیکھنا
 
ایک اور لفظ  ’مولی‘ ہے جسکے اعتباری معنی ’آقا‘ کے بھی ہیں ۔  بیسیوں الفاظ جو اشعار کے زینت میں اضافہ کرتے ہیں اُنکے معنوں کی ہمکو تاویل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔  اِن چیزوں کو سمجھکر پڑھنے سے اشعار کا لُطف دوبالہ ہوجاتا ہے اور نہ سمجھنے سے اعتراضات کا میدانِ گرم ہوجاتا ہے ۔
 
 
ایک اور مشئلہ توحید اور حقیقتِ محمدی ﷺ  ہے جسکو  مختصراً بیان کرنا ضروری ہے ۔ اِن مسائل کو   جاننے سے اولیا اور صوفیا کے کلام کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے ۔
 
 
توحید اور حقیقتِ محمدی ﷺ

        اسلام میں نظریہ توحید بلکل واضح ہے ۔  شریعت بلکل صاف ہے ۔ اسمیں کوئی دو رائے نہیں ۔  سوال آدمی کی نظر کا  ہوتا ہے ٴ جسکی جیسی نظر اُسکا ویسا ہی فہم ہوتا ہے ۔  جولوگ اللہ سے غافل ہیں اُنکی نظر میں بندہ ایک حقیقی شئے ہے اور اللہ خیالی ۔ لیکن حق پرست عارفین جو بفضلِ الہی حقائق کو جانتے ہیں اُنکی نظر میں بندہ کی دو جہتیں ہیں ۔  ایک جہت الی الرب اور دوسری جہت الی الخلق ۔  عارف ،  بندہ کو بندہ ضرور جانتا ہے مگر اُسکی نظر وہاں ہوتی ہے جہاں سے وہ آیا ہے ۔  عارف کی نظر میں ہر شئے علمِ الہی سے آئی ہے ۔ اسکی نظریں  ذاتِ الہی  پرمرکوز ہیں ۔  اِسکے لئے  ما سوا حق سب کچھ نا قابلِ توجھ  ہے ‘ خیالی ہے ۔

                دنیا میں حق پرست عارف بہت ہی  کم ہوتے ہیں ۔  جسطرح سے ایک سائنسدان یا فلاسفر کی باتیں ایک عام  آدمی کی سمجھ کے باہر ہوتی ہیں اِسی طرح ایک حق پرست عارف کا کلام بھی فہمِ عامہ سے بالاتر ہوتا ہے ۔

                وجود با الذات حق تعالیٰ ہے ۔  ما سوا اللہ کے وجود کے سب کچھ انتزاعی ہے ، خیالی ہے ، نا قابلِ توجھ ہے ، عدم ہے ۔  وجودِ مُطلق  اللہ  میں منحصر ہے جو خیرِمحض ہے ۔   وجودِ اضافی یا وجودِ انتزاعی  کے ساتھ عدمِ اضافی لگا ہوا ہے ۔  لہٰذہ بندوں سے کچھ خیر اور کچھ شر ظاہر ہوتا ہے ۔

                  اللہ تعالیٰ کے دو اعتباری تعینات ہیں ۔  ایک تعینِ ذاتی جس میں مخلوقات کو دخل نہیں ۔  دوسرا تعیّن با اعتبارِ اسماء و صفات ہے ۔  اس تعین  کے مظہر علمِ الٰہی میں اعیانِ ثابتہ ہیں ۔  اور اعیانِ ثابتہ کے مظہر خارج  میں آپ اور ہم ہیں ۔

            اعیانِ ثابتہ  کیا ہیں ؟  بندوں کی جو حقیقت علمِ الہی میں اللہ کو معلوم ہے اُنکو اعیانِ ثابتہ کہتے ہیں ۔  ہر بندے کی یا ہر شئے کی ایک حقیقت ہے جِسکا علم اللہ کو ہے ۔  اِس حقیقت کو عینِ ثابتہ کہتے ہیں ۔ عین ثابتہ کی جمع  اعیانِ ثابتہ ہے ۔ یعنی کاینات کی تمام  اشیاء کے جملہ حقائق کو اعیانِ ثابتہ کہتے ہیں ۔  اِن تمام اعیانِ ثابتہ کی جو کُلّی شکل ہے یا جو انکا  مبدہ  ہے  اُ سکو عینُ الاعیان کہتے ہیں ۔ عینُ الاعیان کا دوسرا نام  حقیقتِ محمدی ﷺ ہے ۔

        کیا آپ نے کبھی غور کیا یہ کائنات ظہور میں کیسے آئی ؟  جب اللہ کسی شئے کی حقیقت پر اپنے اسماء و صفات کی تجلی فرماتا ہے تو وہ شئے پیدا ہوجاتی ہے ۔ اسکو اللہ  نے قرآن میں کُنْ فیکن فرمایا ۔   اللہ کی تجلیات ، حقائق اشیاء کے مطابق ہوتی ہیں ۔  عینُ الاعیان  یا حقیقتِ محمدی ﷺ   پر اللہ کی جو  تجلی جلوہ فرما ہے اُسکو تجلّی اعظم  کہتے ہیں ۔ تجلیِ اعظم  اور حقیقتِ محمدی ﷺ   کے مجموع سے جو چیز وجود میں آئی اِسکو کائنات کہتے ہیں ۔  کائنات کو اِنسانِ کُلی بھی کہا جاتا ہے ۔

        اِن حقائق کو سمجھنا اور محسوس کرنا  آسان نہیں ۔  اسکے لئے ایک  شیخ کامل کی صحبت ، اُسکی توجھ  اور  نگرانی میں ایک طویل مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تب جاکر یہ حقائق آہستہ آہستہ کُھلتے ہیں ۔  ۔

        حقیقتِ محمدیﷺ وہ اعتبارِ وحدت یا نفسِ واحدہ ہے جس سے تمام کائنات کا وجود عمل میں آیا ۔  رسولِ کریم ﷺ کو جب بھی خیرُالبشر یا انسان کہا جاتا ہے تو اُس سے مُراد انسانِ کُلّی یا انسانِ کامل بِا الذات یا تجلّی اعظم  ہے جسکے مظاہر انسانِ جزّی یعنی آپ اور ہم ہیں ۔  رسولِ اکرم ﷺ اِس نوعِ انسانی کے کامل ترین فرد ہیں ۔  لہٰذہ حقیقتاً نبوّت آپ سے شروع ہوئی اور آپ پر ختم ہوئی ۔  آپ اُسوقت بھی نبی تھے جب آدم علیہ السلام آب و گُل میں تھے ۔  پھر اپنی خلقتِ عُنصری کے لحاظ سے آپ خاتم النبیّن ہیں ۔  یہی وجھ ہے کے رسول اللہ ﷺ اپنے رب پر پہلی دلیل ہیں ۔  رسول اللہ ﷺ کے علاوہ جتنے بھی افراد ہیں وہ سب آپ سے صادر ہیں ۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے  الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ۔ سورة النساء ۔ ۱

        انسانِ جزّی میں بھی بعض مظاہر ناقص ہوتے ہیں تو بعض خاص ۔  ہر زمانے میں ایک مظہرِ تام ہوتا ہے جسکو غوث ، قطب الاقطاب یا مرکزِ تجلی کہتے ہیں ۔  یہ رسول اللہ ﷺ کا پَرتَو با اعتبارِ کُلِّیت ہوتا ہے اور اسکو انسانِ کامل  بِاالعرض کہتے ہین ۔  رسول اللہ ﷺ کے صدقے میں یہ مرکزِ نظرِ الٰہی ہوتا ہے ۔

        راز کی بات یہ ہے کہ سوائے انسان کے کسی پر فنائیت نہیں آتی اور جب تک فنائیت نہیں آتی ان باتوں کو سمجھنا اور محسوس کرنا خارج از امکان ہے ۔  فنا کیا ہے ؟   بندے پر فضلِ الٰہی سے ایک ایسا وقت آتا ہے جب اللہ کا وجود اسکے اپنے وجود پر غالب آجاتا ہے ۔  اس حالت کو فنا کہتے ہیں ۔  فنا کے وقت جہتِ عبد  مُضمحل و نابود ہوجایی ہے ۔

         
         یہ اُنکا کرم ہے انکی عطا ، ہر شئے میں انہیں جو پا تے ہیں
        احساس یہ انکا بڑھ بڑھ کر ، ہم خود ھی کہیں کھو جاتے ہیں

        پھر  اُنکی  انا  قائم  جو  ہماری  ہستی  پر   ہوجاتی  ہے
        معلوم نہیں ، نہیں ہم کو پتہ ، ہم کیا سے کیا ہوجاتے ہیں

        بنا انکا  سراپا  حال  میرا ،  بنا  ایک  تماشہ  میں  انکا
        مجھکو وہ مٹاکے ہستی سے ، باقی خود ہی رہجاتے ہیں

        
        جب کیفیتِ فنا ہٹتی ہے تو اسکو بقا کہتے ہیں ۔  بقا وہ حالت ہے جسمیں بندہ ،  اللہ کے سوا نہ کسی کا فعل دیکھتا ہے اور نہ صفت ۔ اس کیفیت کو مُشاہدا  یا استحضارِحق بھی کہتے ہیں ۔
         

         کسی کی رُونمائی کا  اُٹھا  پردہ  ذرا  دیکھو
        جہاں کے ذرّہ ذرّہ میں وہ ہے جلوہ نُما دیکھو


        نئی ایک شان ہے اُسکی ، نئی ایک آن ہے اُسکی
        ہر ایک پل اور ہر لمحہ ہے اُس سے سامنا  دیکھو

        اثر اُنکی معیّت کا ہوا ہے کس قدر ہم پر
        بھری محفل میں بھی سب سے  پرے رہنا  ذرا  دیکھو

        
        حالتِ بقا میں بندے کو عبدِ کامل کہتے ہیں ۔ جب بندہ عبدِ کامل ہے تو وہ تجلی گاہِ حق ہوگا ۔ یہی وجھ  ہے کہ صوفیا  اپنے شیوخ کو تجلّی گاہِ حق دیکھتے ہیں ۔

        ائے شہہ عزت پیاؒ  تیری بڑی سرکار ہے
        مظہرِ  خیرُالوریٰ  تُو  سیدِ   ابرار  ہے

        جلوہِٴ رحماں فرش پر تیری صورت سے عیاں
        صورتِ جاناں سے تاباں بس وہی دلدار ہے
         

        اللہ کا مشاہدا بہ اعتبارِ اسماء و صفات ہی ممکن ہے ۔  ذاتِ حق کا مشاہدا مادّہ میں اور اشکال و امثال میں ہوسکتا ہے۔  ان سے ہٹ کر نہیں ہوسکتا ۔  اسکی وجھ یہ ہے کے ذاتِ الٰہی کا جو اعتبارِ ذاتی ہے وہ   لَا تُدرِکُہُ الاَبصَار  ہے ۔ یعنی کوئی آنکھ ذاتِ الٰہی کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔  اللہ کے اسماء و صفات کے مظاہرِ داخلی  اعیانِ ثابتہ ہین جنکے مظاہر عالمِ شہادت میں آپ اور ہم ہیں ۔

        یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ ہم آپ اور دنیا ہر شئے جلوہ گاہِ  رُبوبیت  ہے ۔  ربّ اسمِ الہی ہے جو اللہ کی قوت عطا کو ظاہر کرتا ہے ۔ اِس کائنات کی ہر چیز  پر شانِ رُبوبیت  کی تجلّی ہے جواُسکو اُسکی حقیقت کے لحاظ سے جُدا جدا ظاہر کرتی ہے ۔  رب ایک ہی ہے مگرہر شئے کی نسبت  اُس سے جدا ہے ۔   اللہ جو اِن تمام عالَموں کا رب ہے جو اِن تمام اشیاء کا مبدہ ہے اُسکے لئے معبودیت ہے ۔  وہی  حقیقی الہ یے ۔
         

        سمجھ کا پھیر ہے اُنکی جو ہر شئے کو خدا سمجھے
        وہی انسان کامل ہے خدا کو جو خدا سمجھے

        خدا بندہ نہیں ہوتا ، نہ ہے بندہ خدا ہرگز
        جو تم اب بھی نہ سمجھو تو تمھارے کو خدا سمجھے

        خالدؒ


        ذاتِ حق کے مرتبہ وحدت کو حقیقتِ محمدیﷺ کہتے ہیں ۔  حقیقتِ محمدیﷺ وہ مرکب ہے جو تجلی اعظم حق اور عین الاعیان کے ملنے سے بنا ۔ تجلی اعظم حق کو نُورِ محمدی ﷺ  اور عین الاعیان کو حقیقتِ محمدی ﷺ  کہتے ہیں ۔  تمام کائنات کی اشیاء ، جن میں بنی نوع اِنسانی بھی شامل ہے، اِسی مرکب کی تفصیل یا اِسی کُلّیت کی جُزّیات ہیں ۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ موجود خارج اعظم یا  یہ کائنات  رسول ﷺ کے لبادے میں ملبوس ہے ۔  کاینات کی ہر شئے پر تجلّی الہی اُسکی حقیقت کے حساب سے  جلوہ فِگن  ہوتی ہے ۔  اِس لحاظ سے حقیقتِ رسولﷺ ،  اللہ اور اسکے بندوں کے بیچ بہت بڑے آئینہ کا کام کرتی ہے ۔  اور یہی وہ آئینہ ہے جسمیں ذاتِ حق کا کامل دیدار ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے کہتے ہین کہ  جس نے رسول ﷺ کو دیکھا اُس نے یقیناً خدا کو دیکھا ۔
        

        ہے حسنِ ازل تاباں جلوے میں محمدﷺ کے
        ظاہر ہے مُحب خود ہی محبوب کی صورت ہے

        مخفی تھا ہوا وہ عیاں تیری ذاتِ مقدس سے
        اُس گنجِ خِفیٰ کے تُو بس ایک شہادت ہے

        
        جس کسی نے ذاتِ حق کو تمام شہودات کا مرجع جانا ۔ یعنی اصل و حقیقت کو ذات سمجھا اور اسطرح معرفت حاصل کی کے خود کو بھی تجلّی گاہِ حق سمجھا اور معلومِ الٰہی پر، پَرتَوِ وجودِ مُطلق دیکھا تو بے شک اُس نے رب کو پہچانا ۔  اـسکو معرفتِ حق نصیب ہوئی اور مَنْ عَرَفَ نَفْسهُ فَقَد عَرَفَہ رَبّهُ  کو پایا ۔


         تُو ہے معبودِ حقیقی تُو اِلٰہ ہے سب کا
        ہر تعین کی نفی ہی میں ہے رستہ تیرا

        شانِ تنزیہ تیری اور ہے تشبیھ  تیری
        غیبِ مُطلق میں تُو  اِمکان ہے جلسہ تیرا

        نِت نئے رنگ میں ہر پل ہے نئی شان میں تُو
        تُجھ کو پہچانتا ہے خوب شناسہ تیرا


        حق پرست عارف کی چشمِ باطن (دلکی آنکھ) روشن اور چشمِ ظاہر (جسم کی آنکھ) معطّل ہوجاتی ہے ۔  اسی لئے  دنیا میں رہتے ہوئے بھی  اُسکو سوائے حق کے کچھ بھی نظرنہیں آتا ۔  برخلاف اسکے چشمِ ظاہر، ظاہر کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھ سکتی ۔  یہی وجھ ہے کہ علمائے ظاہر، متکلّمین ، اِسلامک اسکالرس میں کسی نے بھی حقیقتِ نفس کو نہ پہچانا ۔  اسیطرح  اربابِ نظر اور اربابِ فکر ان میں سے کسی نے بھی  معرفتِ نفس کو نہ پایا ۔ وہ مجبور ہیں ۔ نظرِفکری اُن پر بہت بڑا حجاب بن گئی ہے ۔  برعکس اِسکے علمائے الٰہین پیغمبروں نے ، حق پرست عارفوں نے ، اکابر اولیا اور صحیح العقیدہ  صوفیا نے حقیقتِ نفس کو دریافت کرلیا اور اپنے رب کو پہچان لیا ۔

         
        کون و امکاں میں نہیں کوئی بھی انجانہ تیرا
        رنگ لایا ہے میرے دل میں سما جانا تیرا

        ہر تعین سے نمایاں ، ہر تقید سے عیاں
        حیرت افزا ہے میرے یوں سامنے آنا تیرا

        ذرّہ ذرّہ سے تیری خوشبو مہکتی ہے یہاں
        دنگ کرتا ہے ہر ایک شئے سے اُبھر آنا تیرا

         

        اس موضوع کی تفصیلات کو اگر آپ انگریزی میں سمجھنا چاہیں تو  یہاں کلک کریں ۔
 


احساسستانِ اسدؔ کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔  حصہ اول حمدِ باری تعالٰی ،  حصہ دوم  نعتِ نبی ﷺ ، حصہ سوم  مُناقب اولیا اللہ اور حصہ چہارم  غزلیات اور متفرق کلام پر مُشتمل ہے ۔
  کلام میں آپکو بے باکی اور بندش میں انفرادیت ملیگی ۔  ایسا لگیگا کہ دلکی آواز کو من و عن قلمبند کیا گیا ہے ۔  اشعار میں مئے محبت کے میخواروں کو بیش بہا دریائے اُنس ملیں گے ۔ سادگی ڈھونڈنے والوں کو سادگی ملیگی ۔ اگرآپ سخن شناس ہیں اورآپ کو کلام میں خوبیاں نظرآئیں تو محظوظ ہوں اور دعائے خیر کریں ۔

  

میر اسد اللہ قادری                                                   

 

 
 

 

 

السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

Translate Website

Recent Videos

5227 views - 0 comments
11242 views - 5 comments
7271 views - 2 comments
7123 views - 0 comments