CIF INTERNATIONAL ASSOCIATION

العقيدة الإسلامية الصحيحة

 

 

 

 

 

احساسِستانِ اسدؔ  

مجموع کلام
 
 

حصہ چہارم

غزلیات
 


 (1)

 

مُقدر کا گِلا کیسے کہو اپنا کرے کوئی
لبِ خاموش گردن خم یہاں گزرا کرے کوئی

کہاں کی آرزو ، خواہش ، تمنّا ہے نہ ارماں ہے
سبھی قربان کرکے اُنکو اب پایا کرے کوئی

نہ لایق آزمائش کے ، نہ لایق امتحاں کے ہیں
ہمارے حالِ خستہ کو ذرا دیکھا کرے کوئی

مِٹے ہیں اُنکی اُلفت میں ہمیں پائے کوئی کیسے
نِشاں میرا جہانوں میں نہ اب ڈھونڈا  کرے کوئی

حدودِ عشق کے آگے بہت آگے وہ رہتے ہیں
جِنوں میں سب حدوں کے پار ہوجایا کرے کوئی

تماشائی تھے پہلے اب تماشہ خود ہی ہو بیٹھے
حجابِ عشق آنکھوں پر نہیں پایا کرے کوئی

رضائے یار میں مرنا ہے سو سو بار ہر دن میں
بجز اسکے اسدؔ اُنکو نہیں پایا کرے کوئی

 


 (2)

 

اک دن وہ محبت میں پگھل جاینگے دیکھو
چُبکے سے میرے دل میں چلے آینگے دیکھو

غیروں کو وہ آنے نہیں دینگے میرے دل میں
ہم اُنکے تصور ہی میں کھوجاینگے دیکھو

کیوں ہم سے بظاہر ہوئے انجان ائے دلبر
ہم یوں ہی تڑپ کر کہیں مرجاینگے دیکھو

گِرتے ہیں سہارے کو ضرورت ہے بہت اب
تھاموگے اگر تم تو سنبھل جاینگے دیکھو

ہم اُنکی محبت میں ہیں سرشار ازل سے
ہم اُن سے ابد تک نہ بچھڑ پاینگے دیکھو

آفات ہوں  آلام ہوں  یا  ہو کوئی حالت
ہم اُنکی معیت کو سدا  پاینگے  دیکھو

وہ میرے نگہبان ہیں میں اُنکا دیوانہ
ہم اُن سے کبھی دور نہ رہ پاینگے دیکھو

رنگ لائگی اُلفت یہ اسدؔ ایک نہ اک دن
ہم اُن ہی کے پہلو میں نظر آینگے دیکھو

 


 (3)

 

 ہم اپنوں سے بھی غیروں سے چُھپے خاموش بیٹھے ہیں
جبیں کو اُنکے قدموں میں کئے خاموش بیٹھے ہیں

ہُوا جاتا ہی مشکل بے قراری کو چھپانا اب
پریشاں حال ہیں پھر بھی بڑے خاموش بیٹھے ہیں

نہیں ہے طاقتِ صبروتحمّل نیم جاں ہیں ہم
گئی گردن ڈھلک ہے لب سِلے خاموش بیٹھے ہیں

سوالی ایک بھی در سے تیرے خالی نہیں جاتا
اِسی اُمید پر تکیہ کئے خاموش بیٹھے ہیں

جِلادے مُردہ  دل کو قُم  بِاذنی کہکے  ٹھوکر سے
کرشمے دیکھنے اعجاز کے خاموش بیٹھے ہیں

ہمیں امید ہے تم سے ہمیں ہے آس بس تم سے
رواں اک نالہٴِ فریاد ہے خاموش بیٹھے ہیں

یقیناً پُر معاصی ہیں ہے ثابت ہر قصور اپنا
عُفو کے واسطے در پر تیرے خاموش بیٹھے ہیں

اشاروں کو سمجھنا اور منشی پر عمل کرنا
سِکھادے ہمکو تیرے سامنے خاموش بیٹھے ہیں

بدل دے قلب کو اِسکے اسدؔ کو قُرب میں لے لے
تیری جود و عطا کے واسطے خاموش بیٹھے ہیں

 


 (4)

 

 د ماغ  اور دل کے درمیان  ایک  خوبصورت  مُکالمہ


د ماغ  ،  دل سے مُخاطب
_______



ائے قلبِ حزیں میرے تُو اتنا نہ بکھر آج
کیا بات ہوئی کیوں ہے تیرا رنگِ دیگر آج

مایوس نہ ہو اُنکی محبت سے تُو ہرگز
ممکن ہے شبِ ہِجر کی ہوجائے سحر آج

کیا فائیدہ اپنے کو جَلانے سے شب و روز
مدت سے تُو کرتا ہے سو تُو کرلے صبر آج

وہ چاہتے ہیں تُجھکو سمجھ اُنکے اِشارے
گو اُنکی بگاہوں میں نہیں تیرِ نظر آج

ڈر تُو نہ مقدر کے کبھی پیچ و الم سے
کر اُن پہ بھروسہ نہ بہا خونِ جِگر آج

ہوشیار کے عصیاں نہ بنیں بیچ کا پردہ
تُو عشق کی آتش سے جلا پردے نہ ڈر آج



دل  ،  د ماغ سے مُخاطب

_________

 

میں دل ہوں میرا کام ہے جذبات میں بہنا
ہے اُنکی حکومت یہاں اُن ہی کا اثر آج

میں اُن سے کبھی بھی نہ الگ تھا نہ رہونگا
میں کل بھی انہیں کا تھا  ہوں میں اُنکا ہی گھر آج

پروردہ میں ہوں وہ میرے پروردگار ہیں
کل بھی تھے وہی میرے جو ہیں نورِ نظر آج

میں عقل نہیں چلتی ہے جو سونچ سمجھ کے
میں دل ہوں میں چلتا ہوں محبت کی ڈگر آج

میں ہاتھ میں اُنکے ہوں فقط ایک کھلونا
غفلت تھی اگر کل تو بنوں شیر و شکر آج

مُضطر کبھی کرتے ہیں کبھی شاد وہ  مجھکو
آتا ہے نظر مجھ میں جو اُنکا ہے اثر آج

جب ہوتے ہیں مسکن تو میں ہوں خانہٴِ شادی
غفلت کی کثافت ہے ہوں میں زیر و زَبر آج

سینے میں تمھارے ہوں اسدؔ ہوں تو میں اُنکا
وہ میرے نگہباں ہیں کرو تم نہ فکر آج

 


 (5)

 

مُنفرد ایک درد میرے دل نے ہے پایا ہوا
لاکھ کوشش کی مگر نہ میں کبھی اچھا ہو

اک نگاہِ لطف ہو مجھ پر ہو اک نظرِ کرم
آپکے در پر ہوں اک مدت سے میں بیٹھا ہوا

مول لیں کیا کیا بلائیں تیری چاہت کے لئے
کچھ نہ پوچھو راہِ اُلفت میں ہمیں کیا کیا ہوا

دل گیا، ارماں گئے یہ جان بھی جاتی رہی
کھو چکا ہوں میں سبھی کچھ خود کو ہوں بھولا ہوا

آتشِ اُلفت نے مجھکو ہے جلایا اسقدر
جل کے سرتاپہ اسدؔ کا مِثل ایک سُرمہ ہوا



 (6)

 

 میرے دل پہ یار میرا اگر اختیار ہوتا
نہ کبھی میں دل لگاتا نہ یہ حالِ زار ہوتا

میرا رات دن تڑپنا  تِرا چُھپ کے مسکُرانا
نہ کبھی میں عشق کرتا اگر ہوشیار ہوتا

میرے دل میں چُھپکے رہتے ہو نظر سے دور اکثر
تمھیں سب کو میں دکھاتا جو نہ پردہ دار ہوتا

میرے درد کی دوا بھی میرے یار کی نظر ہے
کیا ھائے جس نے گھایل وہی غمگسار ہوتا

تیرے حُسنِ آفریں نے ہی یہ تہلکہ مچایا
ہے وہ تیر ھائے دلکش جو ہے دلکے پار ہوتا

غمِ عشق کی عمر پر نہیں موت کو بھی قابو
تیرے کونچے میں مَیں جیتا یا میرا مزار ہوتا

پَسِ مَرگ بھی اسدؔ  وہ گلے سے مجھے لگاتے
میں ہزار بار مرتا  یہی بار بار ہوتا

 


 (7)

 

 چُھپوگے تم اگر یوں ہی تو دیوانوں کا کیا ہوگا
نہ ہو محفل میں گر شمّع تو پروانوں کا کیا ہوگا

تمھاری یاد کو دلمیں  تصوّر سے سجایا ہے
نہ آوگے تو پھر اس دل کے ارمانوں کا کیا ہوگا

تمھیں روکا ہے کس نے کیوں چھپے ہو دور پردوں میں
خدارا ، راہ تکتی ان میری آنکھوں کا کیا ہوگا

ھٹادو روک سارے اور پردوں کو گرا ڈالو
ترستے ہیں جو مدت سے وہ بے چاروں کا کیا ہوگا

تمھاری یاد رہتی ہے ، تمھارا ہی تو یہ گھر ہے
جو توڑوگے میرے دل کو تو اِن یادوں کا کیا ہوگا

زباں پر نام ہے ، بے کل ہے دل ، آنکھوں میں حسرت ہے
ہو ابتر نزع سے حالت تو بیماروں کا کیا ہوگا

گِراکر رسم و اِسم و جسم کے پردوں کو آجاؤ
مئے وحدت نہ دے ساقی تو مستانوں کا کیا ہوگا

تڑپ کر جان دیتے ہیں ، ہزاروں بار مرتے ہیں
جو بھڑکیں عشق کے شعلے تو دل والوں کا کیا ہوگا

تمھارے عشق میں جل کر اسدؔ بھی راکھ ہو بیٹھے
عروجِ عشق میں پھر اور پروانوں کا کیا ہوگا

 


 (8)

 
نَوِشتہ ہے کھلا تم پر میرے حالِ پریشاں کا
مِٹا ہے فرق مجھکو اپنے داماں اور گریباں کا

تمھاری یاد میں رو رو کے دن تو ڈھل چکا اپنا
تمھارے وصل پر ہو خاتمہ شامِ غریباں کا

ہوئے سب بے اثر نالے میں صدقے بے نیازی کے
تمنّائیں مٹیں خوں ہوگیا حسرت کا ارماں کا

نہ پوری ہو کوئی خواہش نہیں اسکی مجھے پروا
کبھی تو پوچھ لو کیا حال ہے میری رگِ جاں کا

غمِ فرقت میں مرتا ہوں مجھے پرسہ ہی دید یجے
نہ کوئی نامہ بر اب تک دمِ آخر مجھے آنکا

یہ خستہ حال مجبوری اسدؔ ہے بندگی اپنی
خدارا حال پر میرے کرم ہو مہرِ تاباں کا

 


 (9)
 

 پوچھو نہ تم نکیرو میں ہوں کس حساب کا
دامن گِرفتہ ہوں میں رسولِ مآب ﷺ کا

تم دیکھتے نہیں ہو میری پُشت پر ہے کون
کیوں انتظار ہے تمھیں میرے جواب کا

شیدا ہوں دیوانہ ہوں میں قربان نبی ﷺ پر
بندہ ہوں میں ذرّہ ہوں میرے آفتاب کا

رحمان وہ وہاں تھا  یہاں پر رحیم ہے
تم جان لو یہ راز جنابِ مآب کا

عاجز ہوں میں خستہ ہوں میں لائق رحم کے ہوں
اُن پر عیاں ہے حال یہ اپنے حُباب کا

ساری عمر بتائی فقط اس امید پر
دفتر کو میٹ دینگے وہ میرے حساب کا

سرکارﷺ بخشوائنگے بے شک بَروزِ حشر
کھٹکا نہیں اسدؔ کو ثواب و عذاب کا

 


 (10)
 

جو علمِ حق ازل سے ہے وہی بس رُونما ہوگا
وہ جو چاہیں وہی ہوگا  نہیں اسکے سِوا ہوگا

خدا کی کارسازی کی نہیں ہے انتہا کوئی
خدائی میں ابد تک بس یہی ایک سلسلہ ہوگا

یہ سمجھو خوب قدرت تحتِ معلومِ حقیقت ہے
بنا جو ہم خیالِ حق وہی عُقدہ کُشا ہوگا

تجلّیٴِ الٰہی میں نہیں تکرار اک پل بھی
جو سمجھا اِس حقیقت کو نہ محجوبِ خدا ہوگا

خیالِ یار میں ڈوبو ہر ایک شئے میں اُسے دیکھو
جو اِس سے آشنا ہوگا وہی خود سے رہا ہوگا

حقائق کو اسدؔ جانو یہی اِکسیرِ اعظم ہے
یہی وہ رازِ قدرت ہے جو تاثیرِ دُعا ہوگا

 


 (11)
 

 منزلِ عشق کے مقتل سے گزرنا ہوگا
عشق پردہ ہے تو پردے کو ہٹانا ہوگا

کون معشوق ہے ، عاشق ہے بتا جذبہٴِ دل
ائے جنوں مجھکو تو یہ فرق مِٹانا ہوگا

ہوں مین لاعین تیرا حکم و حقائق میں مگر
جسمیں لا غیر ہوں اُس بات کو پانا ہوگا

عشق شاھد ہے وہ  ہے جذبہٴِ حبِّ ذاتی
بن کے آئینہ  رُخِ  یار دکھانا  ہوگا

انکو پانے کا فقط ایک طریقہ ہے تمھیں
نورِ مازاغ کو آنکھوں میں بسانا ہوگا

بندگی میں نہ تجاوز ہو مُقابل انکے
فرحتِ وصل کے آداب نبھانا ہوگا

اُنکے دربار کے آداب نرالے ہیں اسدؔ
بے خودی میں بھی تمھیں ہوش کو پانا ہوگا

 


 (12)
 

ایک نہ اک دن کرم تیرا اِدھر ہوجائیگا
پھر میرا رنج و الم بھی بے اثر ہوجائیگا

تیری چشمِ یاوری کو وقت کا ہی انتظار
وقت پر وہ شجرِ حکمت بارور ہوجائیگا

رحمتیں تیری لپیٹینگی مجھے ہو سمت سے
بحرِ عصیاں پھر میرا زیر و زَبر ہوجائیگا

جب تیری شانِ کریمی جوش میں آجائیگی
یہ  فقیرِ  حق  سخیٴِ  تاج  ور  ہوجائیگا

دیکھ لینگے سب میرے وھّاب کا دستِ عطا
دامنِ  کوتاہ  جب  میرا  بحر  ہوجائیگا

آگئی لو آگئی رحمت تمھاری آگئی
حالِ خستہ اب میرا رشکِ قمر ہوجائیگا

ہے دعا یا رب تیرا محبوب ہوجاے اسدؔ
فضل ہو تیرا تو یہ ایسا بشر ہوجائیگا

 


 (13)
 

 راہِ اُلفت میں یار کیا نہ ہُوا
عشق دل سے تیرا جدا نہ ہُوا

سینکڑوں آفتوں سے بے پروہ
مجھ سا تجھ  پر کوئی فِدا نہ ہُوا

کہتے ہیں ہوش اور خِرد والے
عاشقی میں میرا بھلا نہ ہُوا

نا مُرادی میں ہے مُراد اپنی
درد سے میں کبھی رہا نہ ہُوا

عشق ہے کام مِٹنے والوں کا
زاھد اِس سے تُو آشنا نہ ہُوا

یاد ہے شب ، فِراق دن میرا
کوئی نالا میرا رَسا نہ ہُوا

حسرتِ وصل کو ہُوئی مدت
حاصلِ مدعا میرا نہ ہوا

ہوکے اُسکا کیا اُسے اپنا
یوں وہ مجھ سے کبھی جُدا نہ ہوا

تیری یاری سے اسدؔ کو مطلب
کیا ہوا عشق بَرملا نہ ہوا

 


 (14)
 

کوئی نہ سمجھ پائے حالِ دل یہاں اپنا
ایک بھی نہیں ہمرنگ زِیرِ آسماں اپنا

حالِ دل کہوں کس سے جاں ستم ہے تنہائی
ایک بھی نہیں باقی جو تھا رازداں اپنا

سب کو ہے گُماں یارب میں ہوں ایک دیوانہ
تجھ پہ ہے عیاں یا رب حالِ بے زباں اپنا

اب اُٹھا حجاباتِ  بُعد و سخن و بینائی
تجھ سِوا نہیں یا رب دوست بے گُماں اپنا

اپنا جلوہ دِکھلادے  سامنا ہو بے پردہ
بے نشاں تیرے آگے ہو نہ پھر نشاں اپنا

کاٹ دے تعین کی بیڑیوں کو ہستی سے
لا مکاں میں کھو جاؤں  پھر ہو ہر مکاں اپنا

معیّت نبی ﷺ کی ہو ساتھ اُنکے پیاروں کا
پاس ہو اسدؔ تیرے تُو ہو پاسباں اپنا

 


 (15)
 

نگاہِ لطف اِدھر گر وہ مستِ ناز کرے
خیالِ غیر سے ہمکو ہو بے نیاز کرے

ائے شوقِ وصل تُو لے چل حریمِ وحدت میں
بنا کے آیئنے خود کو وہ یاں مجاز کرے

انا مٹی ہوئی بندے کو بندگی لازم
اثر یہ کیسا تیری نظرِ نیم باز کرے

نماز عشقِ حقیقی قبول ہو اُسکی
جو پائے نازِ نبی ﷺ پر سَرِ نیاز کرے

نبی ﷺ ہوں سامنے صدقے میں اُترتے ہم ہوں
خدا طواف کا یہ سلسلہ دراز کرے

نبی ﷺ کے چاہنے والوں میں اسدؔ ہو شامل
دُعا ہے شاہِ اُمم اُسکو سرفراز کرے

 


 (16)

 

دلّگی میں دل کا سودا ہوگیا
دل پہ میرے اُسکا قبضہ ہوگیا

ھائے رے وارفتگئی شوق مَیں
عشق میں بَرباد و رُسوا ہوگیا

نِت نئی ہیں اُنکی فتنہ کاریاں
روز و شب اچھا تماشہ ہوگیا

تیرے صدقے او ستم ایجاد مَیں
مشق کا تیری جو تختہ ہوگیا

مُسکراہٹ تیرے لب پر الاماں
پھر نیا کیا کوئی فتنہ ہوگیا

برق کو مجھ پر گِراتے ہو مگر
دیکھتے تک ہو نہیں کیا ہوگیا

رات لاتی ہے کئی طوفاں نئے
دن میں تو سَو بار مرنا ہوگیا

سرد مُہری کو بہانا چاہیے
آنکھ بھی کھولوں تو شِکوہ ہوگیا

توڑتے ہو دل میرا سو سو دفع
ٹوٹ کے وہ  پارہ پارہ ہوگیا

ضبطِ غم ، صبر و قرارِ دل میرا
پاسباں عزمِ وفا کا ہوگیا

لاکھ وہ جور و جفا سے کام لے
جانتا ہوں وہ تو میرا ہوگیا

ہے اسدؔ اُنکا  بھلا ہو کے بُرا
فی زمانہ اِسکا چرچہ ہوگیا

 


 (17)

 

 عشق کا پردہ ہٹا تو اک تماشا ہوگیا
جو تھا مجنوں وہ بھی  لیلی کا سراپا ہوگیا

عاشق و معشوق کے پردے میں وہ روپوش تھا
حُبِّ ذاتی میں وہ خود اپنا دیوانہ ہوگیا

مختلف انداز میں رہتے ہیں وہ ہر رنگ میں
کیا بتاؤں کسطرح یہ راز افشا ہوگیا

چُھپنا اُنکو بھی نہیں منظور اپنوں سے یہاں
اُنکی رحمت سے میرے دل میں اُجالا ہوگیا

رُو برو جب وہ ہوئے شِکوے گِلے سب مِٹ گئے
راحتِ دیدار سے کیا بوجھ ہلکا ہوگیا

اُنکے ملتے ہی اسدؔ وہمِ عدم بھی مِٹ گیا
میرے دل کا بُت کدہ بھی گھر خدا کا ہوگیا

 


 (18)

 

ائے شوق فِدا ہوجا وہ آئیں ہیں اِدھر آج
لب پر ہے تبسم تو ہے کچھ اور نظر آج

ذمّہ لیا تھا ہمکو ستانے کا رات دن
پر وہ ستم ایجاد ہے برنگِ  دیگر آج

کیسا کلام ، خط و کِتابت محال تھی
رستہ گئے وہ بھول  یہ ہے کیسی گُزر آج

آنسو بہت بہے تھے خوشامد کے ساتھ ساتھ
میں دیکھ رہا ہوں کیا وہ نالوں کا اثر آج

وعدہ کبھی کیا تھا بڑی بے دلی کے ساتھ
کرکے وفا کیا اُسے برپا ہے حشر آج

پردے اُٹھادئے میری نظروں سے اسطرح
بے سُدھ سا ہوگیا ہوں نہیں اپنی خبر آج

ہستی میں بے مثال ہے تُو با کمال ہے
ائے ہمسفر بتا کے چلے ہم ہیں کدھر آج

اِن صنعتوں سے تیری بھلا مجھکو کام کیا
ھاں اِس شبِ وصال کی بس ہو نہ سحر آج

تُو مل گیا اسدؔ کو سبھی مل گیا اُسے
آزاد ہوگیا ہوں نہیں اپنی فکر آج

 


 (19)

 

تُو ہے مجھ میں سمایا خدا کی قسم
تجھ کو ہر شئے میں پایا خدا کی قسم

میرے دل میں ہے تُو میری آنکھوں میں تُو
مجھ سے مجھکو بُھلایا خدا کی قسم

کھوگیا ایسا  خود  کو میں پاتا  نہیں
جب سے پردہ اُٹھایا خدا کی قسم

تجھ سے خشیَت  ہے ، اُنس و حیا ہے مجھے
مجھ کو اپنا بنایا خدا کی قسم

میں طلب میں تیری ایک مطلوب ہوں
رازِ اُلفت چُھپایا خدا کی قسم

ائے شہِہ دین و دنیا عرب و عجم
تُم سِوا کچھ نہ بھایا خدا کی قسم

تیرے صدقے اسدؔ ، ائے خیالِ حبیب
کیا کیا مجھکو دِیکھایا خدا کی قسم

 


 (20)
 

آئینِ عشق کو یوں نبھایا کرینگے ہم
اُف تک زباں پہ اپنی نہ لایا کرینگے ہم

تڑپینگے دل ہی دل میں نہ چِلّایئگے کبھی
خلوت میں چاہے اشک بہایا کرینگے ہم

طوفاں اُٹھیں یا فتنے بپا ہوں نئے نئے
بحرِ دلِ حزیں میں چھپایا کرینگے ہم

ہوش و خِرد سے اُنکو جو پانا محال ہے
دل میں جُنوں کی شمع جَلایا کرینگے ہم

غُیور ہیں بہت وہ نہ آینگے اِس لئے
خود کو بھی اپنے دل سے بُھلایا کرینگے ہم

اُنکا ہو سامنا تو لِپٹ جاینگے مگر
شکوہ زباں پہ اپنی نہ لایا کرینگے ہم

قدموں میں سر کو رکھ کے اسدؔ خود کو وار کے
ہوکے نثار اُنکو منایا کرینگے ہم

 


 (21)
 

  تیرے عشق میں رہے پائمال سدا اپنی عمرِ دراز میں
میرا سر رہا تیرا سنگِ در  رہی یہ جبین نیاز میں

تُجھے ڈھونڈتے ہم عرش پر ، کبھی در بدر اِسی فرش پر
تُو چھپا ریا کہیں مجھ  ہی میں رہی بات پردہٴِ راز میں

تیرے عشق میں رہی چشم نم ، جو جنوں بڑھا ہوئی عقل گُم
جو مِٹی دوئی تو پتہ چلا  تُو عیاں تھا اپنے مجاز میں

ہے فنا بقا کا یہ مسؑلہ میری بے خودی سے پتہ چلا
میں نہاں ہوا تُو عیاں ہوا ہے کمال آیئنہ ساز میں

ہمیں عشق کا یہ ملا سلہ ،  مِٹے دوجہاں سے کچھ اسطرح
اب اسدؔ کا نام و نشاں نہیں تیری داستانِ دراز میں

 


 (22)
 

 

 محوِِ خیالِ یار ہوں ہوش میں آکے کیا کروں
اُس پیکرِ جمال سے نظریں ہٹا کے کیا کروں

مستِ نگاہِ  یار ہوں  مسرور ہوں میں شاد ہوں
حسنِ ازل ہے رُو برو  عرش پہ جاکے کیا کروں

دیدہِؑ  حق  شناس میں اُنکے سِوا کوئی نہیں
کُل کا شناسہ ہوگیا  جُز کو میں پاکے کیا کروں

اپنا عجب ہی حال ہے جسکا بیاں محال ہے
کوئی سمجھ نہ پائے جو اُسکو سنا کے کیا کروں

مرضئیِ یار ہے میری کُل کائناتِ زندگی
پیشِ نظر ہیں وہ اسدؔ سر نہ جھکا کے کیا کروں

 


 (23)
 

بالی عمریا پہ ترس تو کھاؤ اب نہ ستاؤ بالماں
پیّاں پڑوں تورے بنتی کروں میں اب مان جاؤ بالماں

چنچل ساجن نین لڑائے ، بانہوں میں لیکر گلے نہ لگائے
کون پیا تم کو سمجھائے  تم ہی بتاؤ بالماں

لاج سرم سب تم پر واری  تن من یوون سب بلہاری
ھائے تورے یہ نین کٹاری  اب نہ رُلاؤ بالماں

پگ پگ ساجن تم کو مناؤں  پھیرے پھروں میں واری جاؤں
تم رے چرن ما مَتّھا  ٹِکاؤں  مان بھی جاؤ بالماں

چُپ ہوں تو چھیڑے وہ مجھکو  پل میں ہنسائے پل میں رُلائے
جان کے بیری ستائے اسدؔ  کو جاؤ جی جاؤ بالماں

 


 (24)
 

 روز  افزوں ہے یہ غم ہم کیا کریں
آگیا آنکھوں میں دم ہم کیا کریں

ہاتھ پھیلے ہیں تیری درگاہ میں
ہوگئی ہے چشم نم ہم کیا کریں

کر عطا مجھکو حیاتِ جاوداں
مرگِ غفلت میں ہے دم ہم کیا کریں

جز تیرے امید سب سے اُٹھ گئی
ما سِوا تیرا کرم  ہم کیا کریں

ہے اسدؔ کا سر قدومِ پاک پر
اور مختارِ اتم ہم کیا کریں

 


 (25)
 

 جب سے ہے چشمِ حقیقت میں سمایا کوئی
پھر نہیں اُسکے سِوا آنکھ نے دیکھا کوئی

رونقِ بزم میں خلوت میں شناسائی میں
عجنبی ہے نہ کہیں اپنا پرایا کوئی

اُن کے جلوؤں کے سِوا اور کودیکھوں کیسے
وہمِ  باطل کے عدم سے نہیں اُبھرا کوئی

اُنکے ملتے ہی مِٹی فکرِ دوعالم دل سے
آرزو ہے نہ ہے خواہش نہ تمنا کوئی

اُنکے منشی پہ ٹکی ہیں یہ نگاہیں اپنی
ہے دعا اتنی کے مولیٰ نہ ہو رُسوا کوئی

ہوکے بے چین رجوع ہوتا ہوں جب بھی اُن سے
وہ دِکھا دیتے ہیں رحمت کا اشارہ کوئی

خاکساری میں مِٹو اپنی اَنا سے رونہ
سامنے اُن کے اسدؔ  ٹِک نہیں سکتا کوئی

 


 (26)
 

دور جب تک رہے ہم تیرے طلبگار رہے
پاس تیرے تو ہم  اک  تختہِؑ  نجّار  رہے

عشق کی راہ میں ٹوٹا نہ وفا کا دامن
ہر قدم پر گو تیرے خاطرِ آزار رہے

سر اآتھے بھی تو یہ گرتی ہے میری گردن پر
کب تلک سر پہ میرے آہنی تلوار رہے

سر کٹانے کو ہو تیار تو آئے اس میں
عشق کی راہ میں جو طالبِ دلدار رہے

میں نے مانا بڑا مشکل ہے یہ رستہ تیرا
اُنکو آساں ہے محبت میں جو سرشار رہے

حق تو یہ ہے کہ نہ بن پائے تیرے قابل ہم
سامنے تیرے سدا ہم تو شرمسار رہے

کون کہتا ہے کہ بے وجھ  ہے دردِ  اُلفت
ھاں مگر ساتھ  تیرا  باعثِ غم خوار رہے

تُو ہے یکتا تیری ہر چیز ہے پیاری یا رب
تُو سلامت رہے باقی تیری سرکار رہے

تیرے محبوب کے صدقے میں رحم کر مجھ پر
تا ابد تیرا اسدؔ حاضرِ دربار رہے

 


 (27)
 

جب سے  پردہ  اُٹھا دیا  تُونے
مجھکو بے خود بنا دیا تو نے

نہ قیاس و وہم نے پھر ٹوکا
ایسا جلوہ دکھا دیا تُو نے

خاک اُڑتی ہے بزمِ ہستی سے
مجھ کو ایسا مِٹا دیا تُو نے

موت سے پہلے مار کر مجھکو
اک تماشا بنا دیا تُو نے

لوگ ہنستے ہیں میری باتوں پر
اک دیوانہ بنا دیا تُو نے

میں ہوں بیمار مبتلہِؑ عشق
درد یہ لادوا دیا تُو نے

عشق کی منزلِ مُراد آئی
مَیں کو دل سے بھلا دیا تونے

رات دن در پہ تیرے رہتا ہوں
دیر و کعبہ چُھڑا دیا  تو نے

ہے اسدؔ کو نہ غیر سے مطلب
اُسکو اپنا بنا لیا تو نے

 


 (28)
 

تمھارے نام  پر بِکنے کا سودا کرلیا میں نے
تصدق میں تمھارے تمکو اپنا کرلیا میں نے

تھا قطرہ کیوں پہچ پاتا تمھاری بحرِ وحدت کو
تمھارے فضل سے اپنے کو دریا کرلیا میں نے

تمھاری چشمِ وحدت نے دوئی کو یوں مِٹا ڈالا
جہاں کے ذرّہ ذرّہ کو یَگانہ کرلیا میں نے

تمھارے عشق کی دیوانگی لگتا ہے رنگ لائی
خودی کھو کر تمھارا ہی سراپا کرلیا میں نے

تمھارے فضل نے مجھکو اُٹھایا خاکِ اسفل سے
سگِ در بن گیا  ادنیٰ کو اعلیٰ کرلیا میں نے

تصدق میں نبی ﷺ کے سب یہیں پر مل گیا مجھکو
مِلے دونوں جہاں مولیٰ کو اپنا کرلیا میں نے

ہوا قرباں محمد ﷺ پر میں اُنکی آل کے صدقے
اسدؔ اِس عاصئی کمتر کو اعلیٰ کرلیا میں نے